پاکستان اور ازبکستان میں 28 معاہدوں پر دستخط

ان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کے جمعرات کو پاکستان پہنچنے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ہوئے۔

ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کے 5 فروری 2026 کو اسلام آباد پہنچنے پر وزیر اعظم آفس میں دستاویزات کے تبادلے کی ایک تقریب منعقد کی گئی (پی ٹی وی/ سکرین گریب)

پاکستان اور ازبکستان نے جمعرات کو دفاع ، زراعت اور کان کنی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے 28 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔

ان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کے جمعرات کو پاکستان پہنچنے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ہوئے۔

اسلام آباد میں ایوان وزیر اعظم سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ نور خان ائیر بیس پہنچنے پر پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ازبک صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔

بیان کے مطابق اس موقع پر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی ہارون اختر خان بھی موجود تھے۔

ازبک صدر کے پہنچنے کے بعد وزیر اعظم آفس میں دستاویزات کے تبادلے کی ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں میں دفاعی تعاون کے لیے ایکشن پلان، ماحولیات، ماحولیاتی تبدیلی اور آفات کے خطرات میں کمی، آفات کا انتظام، زراعت کے شعبے میں تعاون، پھلوں کی برآمد کے لیے حفظانِ صحت کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکول، کان کنی اور ارضیاتی علوم میں تعاون، سزا یافتہ افراد کی منتقلی اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون شامل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل پاکستان کے دفتر خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ 

دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر ازبک صدر 5 سے 6 فروری کو سرکاری دورے پر اپنی کابینہ کے وزرا اور ملک کے تاجر رہنماؤں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کریں گے۔ 

ازبکستان وسطی ایشیا کی سب سے بڑی صارف منڈی اور دوسری بڑی معیشت ہے۔

یہ پہلا وسطی ایشیائی ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان نے دو طرفہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ اور 17 اشیا پر مشتمل دو طرفہ ترجیحی تجارتی معاہدہ  کیا ہے۔

فروری 2023 میں، پاکستان اور ازبکستان نے تاشقند میں ہونے والے ایک اجلاس میں دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد اشیا اور سروسز کے تبادلے کو بڑھانا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں مزید کہا کہ دورہ کرنے والے ازبک صدر پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کے علاوہ وزیر اعظم شہباز سے وفود کی سطح پر بات چیت کریں گے۔

وہ پاکستان ازبکستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے۔ 

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بات چیت میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوام سے عوام کے تبادلے اور علاقائی روابط سمیت متنوع شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے نئی راہوں کی نشاندہی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔‘

دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ ازبک صدر شوکت مرزایوف کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہو گا، جو کہ پاکستان اور ازبکستان کے دوطرفہ تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جس کی جڑیں مشترکہ تاریخ، عقیدے اور وسطی اور جنوبی ایشیا میں امن اور خوشحالی کی مشترکہ خواہشات سے جڑی ہوئی ہیں۔ 

صدر شوکت مرزایوف نے آخری بار 2022 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ 

پاکستان اور ازبکستان نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کے ذریعے تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ 2023 میں ایک ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے اور مزید تعاون کے منصوبے بشمول صنعتی تعاون کا روڈ میپ، علاقائی رابطوں کو بڑھانے کے لیے دونوں فریقوں کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ 

گذشتہ ماہ دونوں ملکوں نے دوطرفہ تجارت کودو ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا جب وزیر اعظم شہباز نے تاشقند میں صدر مرزییوئیف سے ملاقات کی تھی۔ 

ازبکستان کے سفارت خانے نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ صدر شوکت مرزایوف کے دورہ پاکستان سے دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی متوقع ہے۔

گذشتہ ماہ ازبکستان کے سفیر علی شیر تُختائیف نے بھی کراچی کے لیے ازبکستان سے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان