اسلام آباد: شادی کی تقریب میں سلینڈر دھماکہ، دلہا اور دلہن سمیت آٹھ اموات

حکام کے مطابق واقعے میں چار مکان متاثر ہوئے، جن میں سے مجموعی طور پر 19 افراد کو باہر نکالا گیا۔ زخمیوں کا ہسپتال میں علاج جاری ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایک شادی کی تقریب کے دوران گھر میں گیس سلینڈر کے دھماکے میں آٹھ افراد جان سے چلے گئے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جواد طارق نے بتایا کہ سلنڈر دھماکہ سیکٹر جی سیون - ٹو کے علاقے 66 کوارٹرز میں ہوا، جس کے نتیجے میں چار مکان متاثر ہوئے۔

حکام کے مطابق مجموعی طور پر متاثرہ گھروں کے ملبے سے 19 افراد کو نکالا گیا، جن میں سے آٹھ کی موت ہو گئی جبکہ دیگر زخمیوں کا ہسپتال میں علاج جاری ہے۔

پولیس نے بتایا کہ جان سے جانے والوں میں دلہا اور دلہن شامل ہیں۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کے مطابق دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور یہ تعین کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ گیس سلینڈر پھٹنے سے ہوا یا گیس لیکج کی وجہ سے ہوا۔

چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک زخمی کو برن سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن فوری طور پر شروع کر دیا گیا تھا اور اس وقت تمام ادارے مکمل تعاون کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

چیئرمین سی ڈی اے کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان، خصوصاً وزیراعظم کی ہدایات کے تحت ریسکیو، ریلیف اور معاوضے کے اقدامات کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی بھی گھر میں دراڑیں پائی گئیں تو وہاں رہائش کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ شہریوں کی زندگی اور حفاظت اولین ترجیح ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ آیا واقعہ غیر قانونی تعمیرات یا تجاوزات کے باعث پیش آیا، تو چیئرمین سی ڈی اے نے جواب دیا کہ ’یہ اس وقت بحث کا موضوع نہیں، لیکن غیر قانونی تعمیرات بہرحال غیر قانونی ہوتی ہیں۔

’اس معاملے کو آگے چل کر تفصیل سے دیکھا جائے گا کہ تعمیرات کس نوعیت کی تھیں۔‘

چیئرمین کے مطابق واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس وقت ساری توجہ صرف اور صرف ریسکیو اور ریلیف آپریشن پر ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے حادثے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ کو واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے وزیر صحت، سیکریٹری صحت اور پمز ہسپتال کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان