ڈی آئی خان: شادی کی تقریب میں دھماکہ، اموات سات ہو گئیں

پولیس اہلکار محمد عدنان نے بھی تصدیق کی ہے کہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں اس مقام کو نشانہ بنایا گیا جہاں امن کمیٹی کے اراکین بھی ایک شادی کی تقریب میں موجود تھے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس نے ہفتے کو بتایا ہے کہ شادی کی ایک تقریب میں ہونے والے خود کش دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ڈی آئی خان پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ گذشتہ شب ڈی آئی خان میں شادی کی ایک تقریب میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں مقامی امن کمیٹی کے سربراہ وحید اللہ عرف جگری محسود بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے پولیس اہلکار محمد عدنان نے بھی تصدیق کی ہے کہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں اس مقام کو نشانہ بنایا گیا جہاں امن کمیٹی کے اراکین بھی ایک شادی کی تقریب میں موجود تھے۔

ڈی آئی خان پولیس کے ترجمان ذوالقرنین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مجموعی طور پر اموات کی تعداد سات ہو گئی ہے جن میں ایک مقامی وکیل بھی شامل ہیں جو تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

اس سے قبل ڈی آئی خان پولیس کے سربراہ اشفاق انور نے جمعے کو بتایا تھا کہ دھماکہ مقامی ٹھیکے دار نور عالم محسود کے گھر میں شادی کی تقریب کے دوران ہوا۔ 

ہسپتال میں داخل زخمیوں اور اموات سے متعلق ایک رپورٹ (جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے) کے مطابق زخمی ہونے والے افراد ملک نور حسن محسود کے کزن مصباح کے شادی کی تقریب میں آئے تھے جس میں زیادہ تر کی عارضی رہائش ڈی آئی خان کے قریشی موڑ سے ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے ترجمان ذوالقرنین نے بتایا تھا کہ دھماکے کی جگہ سے خود کش حملہ آور کا سر مل گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے جمعے کی شب تصدیق کی تھی کہ ابتدائی طور پر دھماکے کی جگہ سے پانچ لاشیں اور 10 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

وحید اللہ عرف جگری محسود کون تھے؟

فاٹا ریسرچ سینٹر کے ایک رپورٹ کے مطابق وحید اللہ عرف جگری محسود نے 2016 میں سکیورٹی فورسز کے سامنے سرینڈر کیا تھا اور وزیرستان سے ڈی آئی خان منتقل ہوئے تھے۔

سویڈن میں مقیم شدت پسند تنظموں پر تحقیق کرنے والے محقق عبدالسید کے آزاد تحقیقی ادارے اوکسس واچ کے مطابق جگری محسود ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھی اور کمانڈر تھے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان فوج کے آپریشن ضرب عضب کے دوران 2015 میں وہ افغانستان کے صوبہ پکتیکا منتقل ہوئے تھے لیکن اپریل 2016 میں واپس ڈی آئی خان آکر سکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

اس کے بعد اوکسس واچ کے مطابق انہوں نے علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کردار ادا کرنا شروع کیا تھا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان