کیا الیکشن میں گلگت بلتستان کے لیے کچھ ہے؟

کیا بلاول بھٹو گلگت بلتستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی طرح کوئی بڑا کام کر کے اپنی الگ تاریخ بنا پائیں گے اور کیا ن لیگ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کو جھاڑ پھونک کر اسے نافذ کرنے میں سنجیدہ ہو گی؟

اس تصویر میں گلگت بلتستان میں حسین آباد پل کے گر جانے کے بعد متبادل پل کی تعمیر 9 جون 2022 کو کی جا رہی ہے (اے ایف پی)

نقارہ بج چکا ہے اور عام انتخابات میں کچھ دن ہی بچے ہیں، مگر ان انتخابات کے لیے ماضی والی گہما گہمی نظر نہیں آ رہی۔

پاکستان کو بنے 75 سال گزر گئے ہیں مگر اب تک سیاسی بصیرت اور بالغ نظری مفقود ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ کہ بیشتر حصہ فوجی آمریتوں کی نذر رہا اور بچے کچھے حصے میں نام نہاد سیاسی قیادت کی نااہلی اور کوتاہی نے سیاسی مزاج کو مضبوط ہونے نہیں دیا۔ بقول سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہ صرف ملازمت ہی کی گئی۔

گذشتہ چار پانچ سالوں سے یہ حال ہے کہ وہ مباحث جنہیں سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے حل کرنا ہے اس کے لیے بھی سپریم کورٹ میں روز عرضیاں ڈالی جاتی ہیں۔

کس پارٹی کو کون سا انتخابی نشان ملنا چاہیے یہ بھی عدالت طے کرے گی، کون کس پارٹی کا چیئرمین یا سربراہ رہ سکتا ہے یہ بھی عدالت فیصلہ کرے گی، کب الیکشن ہوں گے اس کو بھی عدالت نے دیکھنا ہے، کون زاہد و پارسا ہے اس کا تعین بھی عدالتی مہر سے ہوگا۔

قومی و صوبائی اسمبلیوں کے پلیٹ فارم، سینیٹ کا اعلیٰ ادارہ، سیاسی جماعتوں کی رابطہ کاری کا عمل، مفاہمت اور گفتگو کا روایتی نظام، مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کا رواج سب دم توڑ گیا۔

سب نے چپ سادھ لی۔ دراصل یہ سیاسی تنزلی کی واضح علامت ہے کہ سیاسی فیصلے بھی کہیں اور ہو رہے ہیں۔ ادھر ملک سخت معاشی بحران کا شکار ہے کسی بھی مسئلے پر دنیا میں ہماری نہیں سنی جا رہی۔

حد تو یہ کہ لوگ بحری جہازوں کی ٹینکوں اور کشتیوں میں چھپ کر یورپ فرار ہونے کی کوشش میں جان گنوا رہے ہیں۔

ایسی صورت حال میں یہ الیکشن نہایت اہمیت کے حامل ہیں مگر کسی بھی جماعت کا دھیان معشیت کی بہتری، انصاف کی فراہمی اور ایک فلاحی ریاست کے قیام کی طرف نہیں بلکہ تحریر و تقریر میں صرف مخالفین کی کردار کشی کو حرز جاں بنا رکھا ہے۔

ارد گرد کے ہمسایہ ممالک کو دیکھ لیں کوئی G-20 میں شامل ہوگیا ہے تو کوئی ایکسپورٹ میں بازی جیت رہا ہے۔ کوئی اقوام متحدہ کا مستقل رکن بننے کے قریب ہے تو کوئی گرامین بینک جیسی ہمہ گیر معاشی ترقی کے طور طریقے اپنا کر نوبیل انعام پا رہا ہے، مگر ہماری ترقی کی سوئی تو اٹک کر رہ گئی ہے۔ بقول شاعر:

نہ ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

یہ باتیں تو عمومی نوعیت کی ہیں مگر ایک خاص بات جس کے لیے یہ تذکرہ چھڑ گیا وہ یہ کہ نئی آنے والی حکومت کے پاس گلگت بلتستان کو دینے کے لیے کیا خاص ہے؟

گلگت بلتستان اس وقت سخت بحران کا شکار ہے۔ تمام اضلاع میں دھرنے اور ہڑتال کا ماحول ہے۔ دوسری طرف سکردو سمیت دیگر بڑے شہروں اور قصبوں میں شدید قسم کی لوڈ شیڈنگ سے کاروبار حیات میں سخت خلل پیدا ہوا ہے۔ 

بڑھتی بے روزگاری اور صحت کی سہولیات کا فقدان ایک الگ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے صوبائی حکومت بے دست و پا دیکھائی دیتی ہے۔

گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان کوارڈینیشن کا بڑا مسئلہ ہے، جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وفاق اور گلگت بلتستان میں حکومتوں کے قیام میں دو سال سے زائد عرصے کا فرق ہے۔

بظاہر یہ فرق قانونی ٹائم فریم کی وجہ سے ہے مگر اس کے سیاسی اثراتِ عملی طور پر گلگت بلتستان میں کوئی اچھا اثر نہیں ڈال رہے۔

اس صورت حال کو ماضی قریب کی ایک مثال سے واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ 2018 میں جب گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو دو سال ہو چکے تھے، یہی وجہ تھی کہ گلگت بلتستان میں بھی تحریک انصاف کی حکومت قائم ہو گئی۔

اس حد تک تو بات ٹھیک تھی مگر جونہی وفاق میں حکومت کی مدت ختم ہو کر نئی حکومت آئی اس نے گلگت بلتستان کی حکومت کو چلنے نہیں دیا حالانکہ یہاں تین سال کا عرصہ باقی تھا۔

یہ کھیل ماضی بعید میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت کے ساتھ ہوچکا ہے جب وفاق میں تبدیلی آگئی اور مخالف پارٹی کی حکومت بن گئی تھی۔

وفاق میں آنے والی ہر حکومت گلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ دو طرح کا سلوک کرتی ہے جس سے سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور مسائل کے انبار میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس ضمن میں وفاق سے پہلا کام یہ کیا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان کی صوبائی اسمبلی کے ممبران میں حمیت جگا دی جاتی ہے اور اچانک ان کا ’ضمیر‘ جاگ جاتا ہے اور انہیں اپنی حکومت میں نقص نظر آتے ہیں۔

یوں وہ ’عوامی مفاد‘ کے نام پر اپنی حکومت کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں جس سے اکثر صوبائی حکومت گر جاتی ہے۔ اس کی تازہ مثال اس وقت کی صوبائی حکومت کی شکل میں موجود ہے۔

اگر یہ حربہ کاری گر نہ ہو اور اگر ممبران سخت جاں نکلیں تو وفاقی حکومت گلگت بلتستان کا جو قلیل سا ترقیاتی فنڈ ہے اس کو روک لیتی ہے اور جاری شدہ منصوبے نہایت سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں کہیں تو صوبائی حکومت کو لولا لنگڑا کر دیا جاتا ہے تاکہ اس کی عوام کے سامنے تضحیک ہو اور یوں اگلے صوبائی الیکشن میں حکمران پارٹی ہار جاتی ہے۔

2009  سے لے کر اب تک اسی طرز کا یک رخا ڈراما چل رہا ہے، ہاں اداکار ضرور تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اس مخمصے کا ایک حل یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے صوبائی انتخابات وفاق اور دوسرے صوبوں کے ساتھ کروائے جائیں تاکہ جو بھی صوبائی حکومت بنے وہ سکون سے کچھ کام کر سکے۔

بات چل رہی تھی کہ نئی آنے والی وفاقی حکومت کے پاس گلگت بلتستان کے لیے کیا کچھ ہو گا تو اس کو جانچنے کے لیے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے منشور دیکھ لیتے ہیں۔ تحریک انصاف کا حال تو فی الحال  ’پروگرام وڑ گیا‘ جیسا ہے۔

گو کہ ان منشوروں کا تعلق حقائق سے بہت کم ہوتا ہے ان میں زیادہ تر لفاظی کی جاتی ہے اور عملی چیزیں کم ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود یہ اس لیے اہم ہیں کہ جماعتیں اس میں طویل مدتی منصوبہ بندی اور ملک چلانے کی حکمت عملی کا خاکہ پیش کرتی ہیں۔

انہی منشوروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جنہیں ہم اپنی زعم کے مطابق قومی قیادت مانتے ہیں ان کے فہم و ادراک کی سطح کس درجے کی ہے۔

پیپلز پارٹی کے 10 نکاتی ایجنڈے میں جمہوریت، مساوات اور سماجی ترقی کی بات کی گئی ہے۔ مسلم لیگ ن نے قدرے تاخیر سے اپنے منشور کا اعلان کیا۔ اس کے مطابق وہ پاکستان کی خوش حالی کے لیے بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو وہ گلگت بلتستان کی موجودہ حیثیت میں کیا تبدیلی لائے گی؟ اس وقت گلگت بلتستان کو 2018 کے جاری کردہ صدارتی آڈر پر چلایا جا رہا ہے جس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو عدالت عالیہ نے اپنی رائے سے مشروط کر دیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی پچھلی حکومت میں مرحوم سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کو اختیار تھا کہ وہ گلگت بلتستان کے حوالے سے آئینی سفارشات تیار کرے تاکہ اسے عملی جامہ پہنا کر خطے کی محرومی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

سرتاج عزیز کمیٹی نے اس پر بڑی محنت کی، تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی اور قانونی درجے کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین پاکستان میں کچھ جزوی ترامیم کے تحت گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دینے کی تجویز دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم مسلم لیگ ن کی حکومت کو اس پر عملدرآمد کرنے کی ہمت نہیں ہوئی اور یوں یہ تمام ایکسرسائز دھری کی دھری رہ گئی۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قیادت نے نواز شریف کو ایسا کرنے سے روک دیا۔

اس بات پر یقین اس لیے بھی ہوتا ہے کہ سرتاج عزیز کمیٹی کی تجاویز کو بالائے طاق رکھ کر مسلم لیگ ن کی حکومت نے 2009 کے گلگت بلتستان گڈ گورننس آڈر پر کچھ سطحی ترامیم کر کے اسے نافذ کرنے کی کوشش کی جسے عوامی سطح پر نہیں سراہا گیا۔

کیا اب کی بار اگر ن لیگ کی حکومت بنتی ہے تو وہ الماری میں پڑی سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کو جھاڑ پھونک کر اسے نافذ کرنے میں سنجیدہ ہو گی؟ یا وہی ’ہم کچھ کریں گے‘ کی رٹ پنڈولم کی طرح جاری رہے گی۔

پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2009 میں گلگت بلتستان گڈ گورننس آرڈر جاری کیا یوں پہلی دفعہ صوبائی طرز کی حکومت کا آغاز ہوا۔

اس سے پہلے یہ خطہ شمالی علاقہ جات کہلاتا تھا جو ایک جغرافیائی سمت تو تھی لیکن خطے کی پہچان نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اسے مقامی مشاورت سے گلگت بلتستان کے نام سے تبدیل کیا اور اسے اچھا تصور کیا گیا۔

اس سے پہلے بھی ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں گلگت بلتستان سے جاگیردرانہ نظام ختم کیا گیا تھا اور اشیائے خورد و نوش پر سبسڈی دی گئی تھی۔

بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دوران بھی ناردرن ایریاز کونسل میں کچھ اہم تبدیلیاں کی گئیں اور سپریم کورٹ کے 1999 کے فیصلے کو مدنظر رکھ کر کچھ سیاسی اور عدالتی اصلاحات کی گئیں۔

اب اس پارٹی کی باگ ڈور بلاول بھٹو زرداری نے سنبھالی ہے۔ 2018  کے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وہ یہاں گاؤں گاؤں گئے اور الیکشن مہم خود چلائی۔

وہ مقامی قیادت کے علاؤہ کارکنوں سے کھلے ڈھلے ماحول میں ملے۔ ان پر یقیناً یہ بات واضح ہو گئی ہوگی کہ گلگت بلتستان کی عوام کیا چاہتی ہے اور ان سے کیا توقعات وابستہ کر رہی ہے۔

کیا وہ گلگت بلتستان کے لیے ذوالفقار علی بھٹو کی طرح کوئی بڑا کام کر کے اپنی الگ تاریخ بنا پائیں گے یا صرف ’زندہ ہے بھٹو‘ کی گردان الاپتے رہیں گے اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ