اقبال حسین کی تصویروں میں شناخت کا دکھ

ایسی تصویریں کہ جنہیں گاہک لے جاتے ہوئے پریشان ہو جائیں کہ یار کوئی برا شگن ہی نہ ہو جائے۔ جنہیں بیچنا مشکل ہو، جنہیں دکھانا بھی پھونک پھونک کے پڑے تو سوال یہ ہے کہ ایسی تصویریں بنائی ہی کیوں جائیں؟

اقبال حسین 2004 میں سلمان منہاس کو لاہور میں انٹرویو دیتے ہوئے (تصویر، ساؤتھ ایشیا ڈاٹ کام، آئل پورٹریٹ اے آئی)

میں ان سے پوچھنا چاہتا تھا کہ جب قائد اعظم، علامہ اقبال، سرسید احمد خان اور ماضی قریب سے جنرل ایوب خان، بھٹو، ضیا الحق یا موجودہ حکمرانوں وغیرہ کی تصویریں بنائی جا سکتی ہیں، لوگوں کو اس آرٹ کی سمجھ بھی آتی ہے، وہ پینٹینگز اچھے داموں فروخت بھی ہوتی ہیں تو آرٹسٹ کو دوسرے کسی دھندے میں پڑنے کی ضرورت کیا ہے؟

چلیے کوئی اور صنف آزمانا ہے تو خطاطی کر لیجیے، الحمدللہ بہت ڈیمانڈ ہے اس کی، آرٹ لور اسے سمجھتا ہے یہاں، صادقین بھی تصویروں سے زیادہ خطاطی میں آ کے مشہور عام ہوئے، گل جی کے پورٹریٹ کسے یاد ہیں اب؟ ہائے وہ لاجوردی پورٹریٹ، کہیں لگے بھی ہوں گے تو مصور کا نام ہزار میں سے ایک ہی بندہ جانتا ہو گا شاید۔۔۔ لیکن خطاطی ان کی سامنے آئے گی نہیں کہ ٹھک بولیں گے، 'ہاؤ امیزنگ، یو نو گل جیز سٹروک؟ یہ پوری طاقت سے ایک ہی سانس میں برش گھما کے انہوں نے لکھا تھا، سو پاور فل جیسچر!'

ٹھیک ہے، تخلیق بہت اچھل کے آ رہی ہو تو بھئی لینڈ سکیپ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک بڑا سا درخت، سامنے پانی، ایک دو بھیڑیں گھاس چرتی ہوئی، مٹی کا بنا سنگل کمرہ مکان، سر پہ لکڑیاں اٹھائے گھر کو جاتا کسان، اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا پالتو کتا، دور کسی اینٹوں کے بھٹے سے نکلتا ہوا دھواں، غروب ہوتا ہوا سورج، کھیلتے ہوئے ادھ ننگے بچے، گھونگھٹ لٹکائے جاتی ہوئی عورت (جس کے خدوخال ہرگز واضح نہ ہوں بس چند ملگجے رنگ ہوں) یا چلو کوئی بیل شیل بیچ میں ڈال دیں، ساتھ اس کے ریڑھا لگا ہوا ہو، کولہو کا بیل بھی چلے گا، سب اچھا ہو جائے گا۔

فگریٹو آرٹ کے لیے مچل رہے ہوں اور ہر صورت طبیعت آمادہ ہو تو گھوڑا بنایا جا سکتا ہے، ایک دم مہنگا بکتا ہے، خوب صورت گھوڑے کی تصویر تو دنیا بھر میں دلکش عورت کی تصویر سے زیادہ مہنگی بکتی ہے، تو بھائی، اداس، منہ بسورے، گم سم، خلاؤں میں گھورتی ہوئی عورتوں کی تصویریں بنانے کی ضرورت کیا تھی؟

ایک بار ایسا ہوا کہ اقبال حسین نے سوچا تصویریں بہت بنا لیں اب ان کی نمائش کر لی جائے۔

انہوں نے صوبائی دارالحکومت کی مشہور ترین سرکاری گیلری سے بات کی، منع کر دیا گیا۔ تو اقبال حسین نے پھر اپنی تصویروں کی نمائش اسی گیلری کے باہر مال روڈ کے فٹ پاتھ پہ لگائی۔

یہ ضیا دور کی ایک 'بڑی خبر' تھی۔

اقبال حسین نے کچھ لینڈ سکیپ بھی بنائے۔ راوی کنارے بیٹھ کے بنائے، اپر کلاس پبلک نے وہ بڑے شوق سے لیے۔

اگر انہیں بتایا جاتا کہ ان تصاویر کی فروخت سے ہونے والا منافع اقبال حسین کے محلے میں رہنے والی بوڑھی خواتین کی دیکھ بھال کے لیے وقف ہوتا ہے تو شاید وہ یہ لینا بھی چھوڑ دیتے۔

ایسی تصویریں کہ جنہیں گاہک لے جاتے ہوئے پریشان ہو جائیں کہ یار کوئی برا شگن ہی نہ ہو جائے۔ جنہیں بیچنا مشکل ہو، جنہیں دکھانا بھی پھونک پھونک کے پڑے تو سوال یہ ہے کہ ایسی تصویریں بنائی ہی کیوں جائیں؟ اور پھر ان تصویروں کی بجائے ہوٹل بنا کے گھر پالنا پڑے ۔۔۔ ایسی کیا مجبوری تھی؟ تو بس یہ پوچھنا تھا ان سے۔

اقبال حسین کا نک نیم ککو تھا، شاہی محلے کی جن گلیوں میں ککو کھیلا، جہاں بھاگتے دوڑتے بڑا ہوا، وہیں کے لوگوں کی تصویریں اس کا آرٹ تھیں لیکن وہ روزی روٹی نہیں تھیں۔

ان کے ہوٹل ککوز ڈین کے باہر بڑا سا کالا دروازہ ہے، کبھی کبھی ساتھ ایک دو پرانی قسم کی نقاشی والی چوکھٹیں بھی رکھی ہوتی ہیں۔ فورٹ روڈ یا شاہی محلے میں داخل ہوتے ہی ذرا آگے جائیں تو سیدھے ہاتھ پر یہ جگہ ہے۔

یہاں ہر طرف پھیلے پرانے برتنوں، فانوسوں، بڑے بڑے تالوں، مجسموں، فواروں، پیتل کی گھنٹیوں، منقش ٹائلوں، پرانے فوٹو گرافس اور بتوں کے ساتھ ایک چیز ایسی ہے جو ماحول میں شدید اداسی پیدا کر دیتی ہے۔ وہ اقبال حسین کی تصویریں ہیں۔

 بہت سی، رنگا رنگ (یا بے رنگ؟) عجیب سی تصویریں۔ ان میں زیادہ تر پینٹینگز عورتوں کی ہیں اور وہ سب کی سب اقبال حسین نے بنائی ہیں۔

ان کا لباس شوخ ہو گا، ان کے چہروں پہ میک اپ ہو گا، ان کے جسم بھاری اور دائروی ہوں گے لیکن آنکھیں، ان سب کی سب آنکھوں میں وہ اداسی ہو گی کہ دو تین سے زیادہ تصویریں بغور دیکھی نہیں جا سکیں گی۔ وہ اداسی فنا کر دیتی ہے، کاٹ ڈالتی ہے۔

یہ آنکھیں اس محلے میں رہنے والیوں کی آنکھیں ہیں۔ یہ چہرے وہاں رہنے والیوں کے چہرے ہیں لیکن ان پر موجود دکھ اقبال حسین کا اور ان سب کا مشترکہ ہے، شناخت کا دکھ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رئیلزم اور ایکسپرشنزم کے بیچ خاموش رنگوں والی بولتی تصویریں ان عورتوں کے دکھ بتاتی تھیں جنہیں پوری دنیا میں ہر لحاظ سے حقیر ترین سمجھا جاتا ہے اور جن کا پیشہ آپ کے لیے گالی ہے۔

تو ایسی تصویریں اقبال حسین بناتے تھے، دنیا بھر میں جانے جاتے تھے لیکن پاکستان میں بہرحال کوئی قبول عام انہیں حاصل نہیں ہوا۔ ہو بھی نہیں سکتا تھا، عام آدمی کو تصویروں سے زیادہ آج بھی ان کے ہوٹل کا پتہ ہے۔

چونکہ انہیں معلوم تھا کہ آرٹ گیلری سے زیادہ بلب ایک جوتوں کی دکان میں لگتے ہیں اور اس دکان سے بھی زیادہ روشنی اور آمدن کسی ریسٹورینٹ میں ہوتی ہے، تو اس لیے آبائی مکان کو فوڈ سپاٹ میں تبدیل کرنا بہترین زمینی فیصلہ تھا۔ 

کھانا کھانے مختلف لوگ وہاں جاتے ہیں، تھوڑا کلچر ولچر کے چکر میں دو تین تصویریں پرانی جالیوں یا دروازوں کے ساتھ کھنچواتے ہیں، بچوں کو مجسموں سے دور رکھتے ہیں، فوٹو گرافی سے فارغ ہو کے ترنت اوپر جاتے ہیں، چرغے پھڑکائے جاتے ہیں، اس کے بعد فائلوں اور پلاٹوں کی گفتگو ہوتی ہے، مصور کا ہوٹل چلتا رہتا ہے، سائیں سب کا پالن ہار ہے!

باقی اب، اقبال حسین کے بعد؟ اب تو بس بقول اختر حسین جعفری، درختوں کے ہاتھ خالی ہیں، اور پتے آنے کی بھی امید نشتہ!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ