’میرا دل ٹوٹ گیا:‘ فیصل آباد کے مصور اپنی تصاویر چوری ہونے پر افسردہ

60 سالوں سے مصوری کرنے والے استاد محمد شفیق قیام پاکستان کے موضوع پر اپنی پینٹںگز کی وجہ سے مشہور ہیں۔

فیصل آباد کی ’پہلی پبلک آرٹ گیلری‘ کے منتظم اور مصور استاد محمد شفیق اپنی 40 سے زائد تصاویر اور پورٹریٹ چوری ہونے پر غم زدہ ہیں۔

’وہ اثاثہ تھا میری ساری عمر کا۔۔۔۔ وہ سارے لے گئے، جو اندر تھے وہ بھی لے گئے، دیوار توڑ کر، بس میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔‘

یہ کہنا تھا محمد شفیق کا جو گذشتہ 60 سالوں سے مصوری کر رہے ہیں۔

شفیق کے مطابق 11 اگست کو چوری ہونے والے ان کے فن پاروں میں قائد اعظم محمد علی جناح، فاطمہ جناح، علامہ اقبال اور دیگر اہم قومی رہنماؤں کے بیش قیمت پورٹریٹس شامل ہیں۔

چوروں نے صرف شفیق کے بنائے ہوئے فن پارے چوری کیے جبکہ ان کے بیٹے محمد فیصل کی خطاطی کے زیادہ تر نمونوں اور پینٹنگز کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا۔

شفیق کا کہنا تھا کہ یہ کام ضرور کسی ایسے شخص نے کروایا جس کی پہلے سے ان کے کام پر نظر تھی۔

’چور، ڈاکو تصویریں نہیں لے جاتے، کیا کرنی ہیں انہوں نے؟ چور ڈاکو تو پڑتے ہیں سونے، لوہے اور پیسے کو، یہ کام ضرور کسی اور بندے کا ہے۔‘

شفیق کے مطابق اس چوری کی وجہ سے ان کا ہر کام سے جی اچاٹ ہو گیا ہے۔

شفیق کی وجہ شہرت قائد اعظم محمد علی جناح کی جدوجہد آزادی اور قیام پاکستان کے بعد انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کو درپیش مشکلات کی کینوس پر عکاسی ہے۔

وہ اب تک قائد اعظم اور دیگر مشاہیر کے علاوہ کئی غیر ملکی سربراہان مملکت اور مہمانوں کے پورٹریٹ بنا چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہر سال یوم آزادی پر وہ بانیان پاکستان اور تحریک پاکستان سے متعلق بنائی گئی ان نایاب پینٹنگز کی اپنے خرچ سے نمائش کا اہتمام کرتے تھے لیکن چوری ہو جانے کی وجہ سے اس مرتبہ وہ یوم آزادی پر اپنے مصوری کے کام کی نمائش نہیں کر سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شفیق کی خدمات کے اعتراف میں 2012 میں انہیں جی ٹی ایس چوک کے قریب جھال خانوانہ فلائی اوور کے نیچے پبلک آرٹ گیلری بنانے کے لیے جگہ الاٹ کی تھی۔

’یہ میرا فن تھا ۔ اسی کی بدولت مجھے ضلعی انتظامیہ نے یہ جگہ دی۔ اب میرا اثاثہ لے گئے ہیں، کل کو کوئی آئے گا، وہ کہے گا کہ یہاں پر تو کچھ بھی نہیں۔

’اٹھو جاؤ گھر کو، اب تو یہاں کچھ نہیں، مصوری ختم ہو گئی ہے آپ کی تصویریں تو گئیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا کیلی گرافی اور فریمنگ کا کام کرتا ہے جس سے ان کی گزربسر ہو جاتی ہے اور انہوں نے کبھی اپنے کام کو فروخت کرکے پیسے کمانے کو ترجیح نہیں دی۔

’چوری ہونے والے فن پاروں کو خریدنے کے لیے انہیں کئی بار لاکھوں روپے کی پیشکشں ہوئی۔ ’دو، دو لاکھ تین، تین لاکھ روپے کی پینٹنگ تھی۔ میں نہیں بیچتا تھا، میں کہتا تھا کہ یہ میری زندگی کا اثاثہ ہیں۔‘

ایس ایچ او تھانہ پیپلز کالونی سفیان بٹر کے مطابق چوری کی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے چوری ہونے والی پینٹنگز کی برآمدگی کے لیے ملزموں کی تلاش جاری ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا