ہر ختم ہوتا پہلو، ہر بڑھتے سفید بال کی طرح ہوتا ہے، فرق ہے تو بس یہ کہ ایک چیز آئینہ یاد دلاتا ہے اور ایک وقت، بے رحم یہ دونوں ہوتے ہیں، ظالم قسم کے!
ایک مرتبہ اس کے پاس سے گزرا تو دوسرے بستر سے کوئی ملاقاتی خاتون اپنے مریض کو بتا رہی تھیں، ’شودا کلہا اے، جڈن دا آیا ہے کوئی بندہ نمی ڈٹھا اینہدے کول‘ (اکیلا ہے بے چارہ، کوئی دوسرا دیکھا نہیں اس کے آس پاس جب سے آیا ہے۔)