شیلڈن کوپر کو پورے گھر میں ایک کونا پسند تھا، اس کونے میں ایک صوفہ تھا، آف کورس سنگل سیٹر، اور وہ اسی پہ بیٹھتا تھا۔
اسے وہ پورے حق سے ’مائے سپاٹ‘ کہتا تھا، سب دوست یار مانتے بھی تھے اور کوئی اس کی جگہ پہ بیٹھنے کی غلطی نہیں کرتا تھا۔
بگ بینگ تھیوری ایک شو تھا وارنر برادرز کا جو بعد میں سوپر ہٹ ہوا، وہ کیریکٹر میرا پسندیدہ اس لیے تھا کیونکہ اسے دیکھ کے مجھے سمجھ آئی کہ ہم سب اپنی ذات میں شیلڈن کوپر ہیں چھوٹے چھوٹے، لیکن مانتے نہیں ہیں، دوسرا کوئی بن جائے تو اس سے اکتانا شروع ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔ یہی چیز غلط ہے۔
آدمی کریچر آف ہیبٹس ہے، کوئی زیادہ کوئی کم، ایکدم بالکل خالی کوئی نہیں ہوتا۔ اب اس کا اردو کیا ہو گا؟ یوں سمجھ لیں عادت کا پکا، روٹین کا پابند ۔۔۔ لیکن فوجیوں والا کام نہیں، تھوڑا من موجی ہونے کی گنجائش بھی رہتی ہے۔
تو اسے سادہ لفظوں میں یہ سمجھیں کہ آپ ایک لگے بندھے معمول کے عادی ہیں، جیسے آپ صبح اٹھے اس کے بعد چائے پی، ناشتہ کیا، نہائے دھوئے، اپنے خاص راستے سے دفتر گئے، واپس آئے پھر اس کے بعد ٹی وی شی وی دیکھا، موبائل پہ سکرولنگ کی، کھانا کھایا اور سو گئے۔ یہ ایک روٹین ہو گئی، جس دن ان میں سے کوئی ایک ایلیمنٹ مس ہوگا اس دن آپ کو پرابلم ہوگی کہ فلاں کام میں نے نہیں کیا۔
اب کچھ لوگ ہو سکتے ہیں جو ایک خاص وقت چائے نہ پیئیں تو انہیں سر میں درد ہو جائے، کچھ سے ہو سکتا ہے بھوک برداشت نہ ہو، کچھ کی شرط ہو سکتی ہے کہ سب کچھ کھانا ہے سبزی نہیں کھانی، کچھ کہہ سکتے ہیں کہ گھر سے بغیر بند جوتے پہنے باہر نہیں جانا ۔۔۔ جیسے میں ہوں، سو کر اٹھنے کے بعد جتنی دیر نہانے میں ہوتی جائے گی اسی رفتار سے طبیعت بیزار ہونا شروع ہو جاتی ہے تو یہ سب جو ایک پورا سرکل ہے اور اسی دائرے کے اندر قید رہنا جو ہے یہ کہلاتا ہے کریچر اف ہیبٹس ہونا۔
مجھے بتائیں کہ اس میں اور کسی نشے میں کیا فرق ہے؟ نشے میں بھی ہم لوگوں نے یہی سنا ہے کہ بھائی نشئی جو ہے اسے ہر وقت نشے کی طلب رہتی ہے اور جس وقت نہ ملے تو وہ پریشان ہوتا ہے، اسے بہت زیادہ تکلیف شروع ہو جاتی ہے، تو ہر آدمی بہرحال اپنی کچھ مخصوص عادتوں کا نشئی ہے، یہ طے ہو گیا۔
تو ایک نشئی کسی دوسرے پہ اعتراض کیسے کر سکتا ہے؟ وہ یہ سمجھ کر دوسرے کی عادتیں قبول کیوں نہیں کرتا کہ یہ سب کچھ اس کے سسٹم میں شامل ہے؟ آپ کوئی نیا (بلکہ پرانا بھی) شادی شدہ جوڑا دیکھ لیں، ہوسٹل کے ایک کمرے میں موجود دو تین لوگوں کی مثال لے لیں، اپنے آس پاس موجود کولیگز کا سوچ لیں، اپنے دوستوں کو دماغ میں لائیں، ان کی کتنی ہی چیزوں پہ آپ کو روز اعتراض ہوتا ہے ۔۔۔ کیوں ہوتا ہے؟
کیونکہ وہ آپ سے الگ ہیں لیکن بہرحال وہ سب کچھ دوسرے انسان کا لگا بندھا معمول ہے، آپ اسے بدل نہیں اور ٹیکنیکلی بدلنا چاہیے بھی نہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عادت پہ چلتے رہنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دماغ آٹومیٹک رہتا ہے۔ انسان کو فالتو کی انرجی کسی نئی چیز کے لیے ضائع نہیں کرنا پڑتی۔ جیسے میں اگر دیر سے سوتا ہوں اور صبح لیٹ اٹھتا ہوں تو اس کے بعد میری ہر چیز سیدھی چل رہی ہوتی ہے، جس دن آپ سات بجے صبح میرے سر پہ ڈنڈا مار کے مجھے اٹھا دیں گے وہ سارا دن صرف میں اپنے جسم سے لڑتا رہوں گا کام دھام خاک بھی نہیں ہو گا۔
ایک اور مثال سے سمجھیں، فرض کیا آپ انٹروورٹ ہیں، زیادہ گھلتے ملتے نہیں ہیں لوگوں میں، لیکن کام اپنا آپ پورا کرتے ہیں ۔۔۔ تو کیا ضرورت ہے کہ میں آپ کو مجبور کروں کہ نہیں تم میری وجہ سے اپنی سوشل لائف بھی پیدا کرو؟ صرف اس ایک عادت کو توڑنے کے لیے آپ کا آدھا دماغ سارا دن اسی چکر میں کھپتا رہے گا کہ یہ سب شروع کیسے ہو، کس سے بات کی جائے، کون کیا سوچے گا، کون دوست ہو گا، کون یہ سمجھے گا کہ خواہ مخواہ فری ہو رہا ہے اگلا بندہ، اور آخر میں دن ڈھلے آپ یہ بھی سوچنے پہ مجبور ہوں کہ ایسا کیا تھا؟ کچھ کیا بھی نہیں آج اور دماغ ختم ہوا پڑا ہے۔
ہر انسان کی عادتیں اس کے فنگر پرنٹس کی طرح بالکل ایک الگ پیکج ہیں جو اسے چلتے رکھنے میں، پروڈکٹو ہونے میں، حالات سے لڑنے میں اور سنبھلے رہنے میں مدد کرتی ہیں۔ آپ جیسی نہیں ہیں لیکن قسمت نے آپ کو باندھ دیا ہے تو حل تلاش کیجیے، بندہ مت بدلیے۔
باقی شیلڈن کوپر جو تھا اس کے آرام، سروائیول، دماغی امن اور اچھے موڈ کے لیے وہ ایک صوفہ ضروری تھا۔ عین اسی طرح میرے لیے، آپ کے لیے، آس پاس موجود لوگوں کے لیے، ان کی الگ عادتیں، ان کی روٹین ضروری ہے۔ اپنی چھوڑیں مت، دوسروں کی چھیڑیں مت، یقین کریں مولا بہت برکت کرے گا!
یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔