راول پنڈی ڈویژن میں مون سون بارشوں اور ممکنہ اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرنے اور نالہ لئی کی پانی کے بہاؤ کی استعداد بڑھانے کے لیے ضروری انجینیئرنگ اقدامات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ہفتے کو کمشنر راول پنڈی ڈویژن سلمان غنی اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے سیف انور جپہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر راول پنڈی، ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، واسا، راول پنڈی ویسٹ مینیجمنٹ کمپنی، پی ڈی ایم اے، نیسپاک اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں مون سون بارشوں، اربن فلڈنگ، نالہ لئی کی موجودہ صورتحال، پانی کے بہاؤ کی استعداد، فلڈ فورکاسٹنگ اور ارلی وارننگ سسٹم، نالہ لئی کی صفائی اور ڈی سلٹنگ سمیت ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نالہ لئی کی مجموعی لمبائی تقریباً 17 کلومیٹر ہے جبکہ پانی کے بہاؤ کی موجودہ گنجائش نیو کٹاریاں کے مقام پر تقریباً 20 ہزار کیوسک، گوال منڈی پر 33 ہزار کیوسک اور چکلالہ کے مقام پر 35 ہزار 600 کیوسک ہے۔
نالہ لئی کی چینل فلو کیپیسٹی بڑھانے کے لیے چکلالہ پل سے تقریباً ایک کلومیٹر ڈاؤن سٹریم سے کٹاریاں پل تک چینل کی بہتری اور دیگر ضروری انجینیئرنگ اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مجوزہ چینل ڈیزائن 25 سالہ ریٹرن پیریڈ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔
کمشنر راول پنڈی نے کہا کہ اسلام آباد کے برساتی نالوں پر چیک ڈیمز کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا جبکہ راول پنڈی کے نشیبی علاقوں، بالخصوص صفدر آباد، پیر ودھائی، ڈھوک کھبہ اور صادق آباد میں اربن فلڈنگ سے بچاؤ کے لیے گراؤنڈ سٹوریج ٹینکس کی تعمیر کے امکانات کا فوری سروے کرایا جائے گا۔
انہوں نے واسا کو ہدایت کی کہ آئندہ 15 سے 20 روز میں سیلابی خطرات کے نقشے، فلڈ رسک میپس اور حساس مقامات کی نشاندہی پر مشتمل سروے مکمل کیا جائے اور ہر مقام کے لیے مقامی سطح پر قابل عمل حل تجویز کیے جائیں۔
کمشنر نے سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نالہ لئی میں غیر قانونی ڈمپنگ کی نگرانی اور نالے کے رائٹ آف وے سے تجاوزات کے فوری خاتمے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا راول پنڈی اور اسلام آباد کے باہمی جغرافیائی تعلق اور اپ سٹریم و ڈاؤن سٹریم صورت حال کے باعث اسلام آباد میں ہونے والی شدید بارشوں کے اثرات راولپنڈی میں زیادہ شدت سے محسوس ہو سکتے ہیں، اس لیے دونوں شہروں کی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔
کمشنر نے نالہ لئی اور اس سے منسلک برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی، فلڈ فورکاسٹنگ اور ارلی وارننگ سسٹم کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کرنے اور بروقت اطلاعات متعلقہ اداروں اور عوام تک پہنچانے کے لیے مؤثر نظام وضع کرنے کی ہدایت بھی کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا نالہ لئی کی بروقت ڈی سلٹنگ اور ڈریجنگ، نکاسی آب کے نظام کی صفائی اور اہم ڈرینز و برساتی نالوں سے رکاوٹیں دور کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ شدید بارشوں کے دوران پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
اجلاس میں اربن فلڈنگ کے مستقل حل کے لیے مختلف مقامات پر پونڈز اور پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے کہا کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو منظم کرنے اور اضافی پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ممکنہ مقامات کا تکنیکی جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا ان تجاویز کو اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ آئندہ اجلاس میں شیئر کیا جائے گا تاکہ دونوں شہروں کے لیے مشترکہ اور قابل عمل حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر راول پنڈی نے اجلاس کو بتایا کہ گذشتہ پانچ روز سے جاری مسلسل بارشوں کے باوجود راول پنڈی میں تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اجلاس میں اسلام آباد انتظامیہ کو بارشی پانی نالہ لئی میں خارج کرنے سے قبل اس کے ٹریٹمنٹ کے لیے منصوبہ تیار کرنے کی تجویز دینے پر بھی غور کیا گیا جبکہ فاطمہ جناح پارک میں بارشی پانی ذخیرہ کرنے کے لیے زیر زمین سٹوریج ٹینکس کی تعمیر کی تجویز بھی زیر غور آئی۔