انڈیا میں دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو جمعرات کو ہدایت دی ہے کہ سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگ چک کی صحت کا سرکاری ڈاکٹروں کے ذریعے روزانہ طبی معائنہ کرایا جائے اور اگر ان کی حالت بگڑتی ہے تو فوری طبی اقدامات کیے جائیں۔
سونم وانگ چک گذشتہ تقریباً 20 روز سے نئی دہلی کے جنتَر منتَر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ وہ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے کے لیے یہ بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔
انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق چیف جسٹس ڈی کے اُپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا پر مشتمل بنچ نے یہ احکامات اس یقین دہانی کے بعد جاری کیے جو سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو کرائی۔
ان کا کہنا تھا کہ سونم وانگ چک کی صحت کی روزانہ بنیاد پر سرکاری ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کی ٹیم نگرانی کرے گی۔
تازہ طبی معلومات کے مطابق سونم وانگ چک نے بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بعد سے نو کلوگرام سے زائد وزن کم کر لیا ہے اور ان کا موجودہ وزن 57.15 کلوگرام رہ گیا ہے۔
ان کی صحت پر نظر رکھنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کی بنیادی جسمانی علامات مستحکم ہیں، تاہم آنے والے چند دن انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب سونم وانگ چک واضح کر چکے ہیں کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے کسی ردعمل یا پیش رفت کے بغیر وہ احتجاج ختم کرتے ہیں تو اس سے احتجاج کی سنجیدگی متاثر ہوگی۔
انہوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سے ہڑتال ختم کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کی جانب ایک پُرامن مارچ میں شریک ہوں۔
ایک ویڈیو پیغام میں سونم وانگ چک نے کہا: ’اگر میں کھانا کھا لوں تو کیا پیغام جائے گا؟ حکومت کو یہی پیغام ملے گا کہ جواب دہی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘
سونم وانگ چک لداخ سے تعلق رکھنے والے معروف انجینیئر، ماہر تعلیم اور ماحولیاتی کارکن ہیں۔ وہ تعلیمی اصلاحات اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اپنی مہمات کے باعث انڈیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں اور حالیہ بھوک ہڑتال نے ایک بار پھر انہیں قومی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
کئی لوگ انہیں بالی وڈ کی مشہور فلم تھری ایڈیٹس کے کردار ’فنسُک وانگڈو‘ کے حقیقی محرک کے طور پر جانتے ہیں، مگر ان کی اصل زندگی فلمی کہانی سے کہیں زیادہ دلچسپ اور متاثر کن ہے۔
سونم وانگ چک یکم ستمبر 1966 کو لداخ کے ایک چھوٹے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کے گاؤں میں کوئی سکول موجود نہیں تھا، اس لیے زندگی کے ابتدائی نو برس انہوں نے اپنی والدہ سے گھر پر تعلیم حاصل کی۔
جب انہیں پہلی مرتبہ سکول بھیجا گیا تو انہیں ایک ایسے نظامِ تعلیم کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی زبان، ثقافت اور ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
کلاس روم میں اردو زبان میں پڑھایا جاتا تھا جبکہ ان کی مادری زبان لداخی تھی۔ نتیجتاً وہ خود کو اجنبی محسوس کرتے رہے۔
بعد میں انہوں نے میکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) سری نگر سے حاصل کی، لیکن ان کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال موجود رہا کہ آخر مقامی بچوں کو ایک ایسے نظام کے تحت کیوں پڑھایا جاتا ہے جو ان کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
تعلیم میں انقلاب کا خواب
1988 میں انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر سٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ (SECMOL) کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم کا مقصد لداخ کے طلبہ کو ایسا عملی اور مقامی ضرورتوں کے مطابق علم فراہم کرنا تھا جو انہیں زندگی میں کامیاب بنا سکے۔
SECMOL کا کیمپس خود ایک زندہ تجربہ گاہ ہے۔ یہاں شمسی توانائی استعمال ہوتی ہے، عمارتیں ماحول دوست طریقوں سے بنائی گئی ہیں اور طلبہ کو صرف نصابی کتابیں نہیں بلکہ زندگی گزارنے کے عملی ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ ماڈل اتنا کامیاب ثابت ہوا کہ ہزاروں ایسے طلبہ، جو روایتی امتحانی نظام میں ناکام قرار دیے گئے تھے، بعد ازاں تعلیم اور روزگار کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے لگے۔
برف کا مینار
سونم وانگ چک کی سب سے معروف ایجاد ’آئس سٹوپا‘ ہے۔ لداخ میں کسانوں کو موسمِ بہار کے آغاز میں پانی کی شدید قلت کا سامنا رہتا ہے کیونکہ برفانی ذخائر ابھی مکمل طور پر نہیں پگھلے ہوتے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے وانگ چک نے مخروطی شکل کے مصنوعی برفانی ڈھیر بنائے جنہیں ’آئس سٹوپا‘ کہا جاتا ہے۔
سردیوں میں پانی کو فوارے کی شکل میں ہوا میں چھوڑا جاتا ہے جہاں وہ جم کر برف کے مینار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ برف موسمِ بہار میں آہستہ آہستہ پگھلتی ہے اور فصلوں کے لیے پانی فراہم کرتی ہے۔
اس سادہ مگر ذہین حل نے دنیا بھر کے ماہرین کی توجہ حاصل کی اور پہاڑی علاقوں میں پانی کے بحران سے نمٹنے کی نئی امید پیدا کی۔
تعلیم اور ماحولیات کے شعبوں میں ان کی خدمات کے اعتراف میں سونم وانگ چک کو متعدد بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔
ان میں 2018 کا معتبر ریمون میگسیسے ایوارڈ بھی شامل ہے، جسے اکثر ایشیا کا نوبیل انعام قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں رولیکس ایوارڈ فار انٹرپرائز اور گلوبل ایوارڈ فار سسٹینیبل آرکیٹیکچر سمیت کئی اعزازات مل چکے ہیں۔
ماحولیاتی کارکن اور آوازِ لداخ
گذشتہ چند برسوں میں سونم وانگ چک محض ایک موجد یا استاد نہیں رہے بلکہ لداخ کے ماحولیاتی اور سماجی مسائل پر ایک نمایاں آواز بن گئے ہیں۔
وہ مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہا ہے اور اس کی نازک ماحولیات کو بچانے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
2026 میں وہ ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں آئے جب انہوں نے احتجاجی تحریکوں میں حصہ لیا اور بھوک ہڑتال کے ذریعے مختلف تعلیمی اور سماجی مطالبات کی حمایت کی۔ ان کی سرگرمیوں نے ملک بھر میں نوجوانوں اور ماحولیاتی کارکنوں کی توجہ حاصل کی۔
ایک شخص، کئی کردار
سونم وانگ چک کی کہانی دراصل اس سوچ کی کہانی ہے کہ مسائل کا حل ہمیشہ بڑی مشینوں یا بڑے بجٹ میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک مقامی آدمی، جو اپنے ماحول کو گہرائی سے سمجھتا ہو، ایسی اختراعات پیش کر سکتا ہے جو پوری دنیا کے لیے مثال بن جائیں۔
نوٹ: یہ مضمون مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ہے اور عوامی طور پر دستیاب معلومات پر مبنی ہے۔ اشاعت سے قبل انڈپینڈنٹ اردو کی ادارتی ٹیم نے اس کا جائزہ لیا ہے۔