عیش و عشرت کی زندگی، جعلی سرمایہ کاری، چینی ارب پتی کو 30 سال قید

جج نے کہا کہ گوو نے ’چین میں جمہوریت لانے کے خواہاں افراد کو نشانہ بنایا‘ اور ان سے پیسے لے کر ایک عیش و عشرت بھری زندگی گزاری۔

چین سے فرار ارب پتی گوو ونگوئی 20 نومبر 2018 کو نیویارک میں ایک نیوز کانفرنس کر رہے ہیں، جس میں انہوں نے 3 جولائی 2018 کو فرانس میں ٹائیکون وانگ جیان کی موت پر بات کی۔ (ڈان ایمرٹ / اے ایف پی)

چین سے فرار ہو کر خود جلاوطنی اختیار کرنے والے ارب پتی گوو وِنگوئی کو، جنہیں کبھی چین کے امیر ترین افراد میں شمار کیا جاتا تھا، پیر کو امریکہ میں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

یہ سخت سزا ایک بڑے مالیاتی فراڈ کیس میں ان کی سزا کے بعد دی گئی، جس کے بارے میں وفاقی جج نے تصدیق کی کہ اس میں دنیا بھر کے ایک ہزار سے زائد افراد کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا۔

مین ہیٹن کی عدالت میں، جہاں ان کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جج اینالیسہ ٹوریس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ گوو نے ’چین میں جمہوریت لانے کے خواہش مند افراد کو نشانہ بنایا‘ اور ان کے خوابوں کا فائدہ اٹھا کر اپنی شاہانہ زندگی کے اخراجات پورے کیے۔

گوو، جو ایک دہائی قبل چین چھوڑ کر چلے گئے تھے، خود کو امریکہ میں کمیونسٹ پارٹی کے ایک نمایاں ناقد کے طور پر پیش کرتے رہے۔

سزا سنائے جانے سے پہلے گوو نے جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر احتجاج کیا اور کہا کہ انہیں اسی روز صبح ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ انہوں نے استغاثہ کے اس دعوے کو رد کیا کہ وہ بیماری کا بہانہ کر رہے تھے اور بتایا کہ جیل واپس جانے کے بعد انہیں بار بار قے آئی، جس کے بعد انہیں عدالت لایا گیا۔

انہوں نے مترجم کے ذریعے بتایا: ’جب میں یہاں آیا تو میں نے کہا کہ مجھے پیٹ میں درد ہے، مجھے باتھ روم جانا ہے، میں ٹھیک محسوس نہیں کر رہا۔‘ بعد میں انہیں بار بار ٹشو سے منہ صاف کرتے دیکھا گیا۔

انہوں نے مقدمے کے بارے میں مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد درست تھا اور چینی کمیونسٹ پارٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ‘میں امریکہ اسی لیے آیا تھا کہ سی سی پی کو ختم کروں۔‘

جج نے سزا سناتے ہوئے متاثرہ افراد کے وہ خطوط بھی پڑھے جو انہیں موصول ہوئے تھے، جن میں لوگوں نے بتایا کہ ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی ضائع ہوگئی، وہ شدید ذہنی دباؤ اور شرمندگی کا شکار ہوئے اور ان کے خاندانوں نے بھی ان سے کنارہ کر لیا۔

ٹوریس نے کہا کہ گوو ’اپنے اعمال کی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتے بلکہ حیران کن طور پر دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے رویے سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ گوو نے ’اپنے حامیوں کو ان لوگوں کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے کے لیے اُکسایا جو ان کے خلاف بولنے کی ہمت کرتے ہیں۔‘

جج نے حکم دیا کہ گوو 889 ملین ڈالر بطور ہرجانہ ادا کریں۔

وی چن نامی ایک متاثرہ خاتون نے، جنہوں نے مقدمے میں گواہی دی، کہا کہ گوو کے فراڈ نے ‘میری اور میرے خاندان کی زندگی تباہ کر دی۔‘

سزا سنائے جانے کے بعد جب گوو عدالت سے باہر نکلے تو ان کے حامیوں نے تالیاں بجائیں اور ان کی طرف آوازیں لگائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گرفتاری اور بغیر ضمانت حراست میں لیے جانے سے قبل، گوو امریکی قدامت پسند سیاسی حکمت کار سٹیو بینن کے اتنے قریب ہو گئے تھے کہ دونوں نے 2020 میں چین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے مشترکہ مہم کا اعلان کیا تھا۔

وہ نیویارک میں سینٹرل پارک کے سامنے ایک لگژری اپارٹمنٹ میں رہتے تھے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلوریڈا کے مار-اے-لاگو گالف کلب کے رکن بھی تھے۔

استغاثہ نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں کم از کم 30 سال قید دی جائے اور کہا تھا کہ 2018 سے 2023 تک کے ان کے ‘حیران کن’ فراڈ نے ‘سینکڑوں زندگیاں تباہ کر دیں’ اور متاثرہ خاندانوں کو مالی، جذباتی اور نفسیاتی طور پر برباد کر دیا۔

استغاثہ کے مطابق، اس غیر قانونی دولت نے ‘انتہائی حد تک عیش و عشرت کی زندگی’ کو جنم دیا، جس میں محلات، یاٹ، ریس کاریں، مہنگے ڈیزائنر کپڑے اور قیمتی فرنیچر شامل تھا۔

گوو کو سات ہفتوں کے ٹرائل میں 12 میں سے 9 الزامات میں قصوروار ٹھہرایا گیا، جہاں استغاثہ کے مطابق انہوں نے ہزاروں سرمایہ کاروں کو جعلی کاروباری سودوں میں دھوکہ دیا، جس سے ان کی لگژری زندگی ممکن ہوئی۔

عدالتی دستاویزات میں گوو کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی ‘وسیع، ہمہ گیر اور جان لیوا’ مہم کا نشانہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی نے امریکا کے کاروباری، تفریحی اور سیاسی حلقوں کے بااثر افراد کو ان کے خلاف سازش کے لیے استعمال کیا۔

وکلا کا کہنا تھا کہ طویل قید چین کی بدنام کرنے کی مہم کو درست ثابت کرے گی اور ‘چینی اختلاف رائے رکھنے والوں کو عوامی زندگی سے نکالنے کی کوششوں کو مزید تقویت دے گی،’ جبکہ اسی نوعیت کے دیگر کیسز میں ملزمان کو صرف دو سے چار سال قید دی گئی۔

وکلا نے یہ بھی بتایا کہ عدالت کے ایک افسر نے جج کو لکھے گئے خط میں کہا کہ گوو، جنہیں مائلز گوو اور ہو وان کوک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، چین میں جسمانی تشدد کا شکار رہے اور 1993 سے 2022 کے دوران انہوں نے ان زخموں کے علاج کے لیے متعدد سرجریز کروائیں۔

دفاعی وکلا کے مطابق، گوو کی دولت اس وقت بڑھی جب ان کا خاندان چین کی سب سے بڑی سکیورٹیز کمپنی کا بڑا شیئر ہولڈر بنا، لیکن بعد میں انہوں نے حکومتی اہلکاروں کی مبینہ کرپشن بے نقاب کی جس کے باعث وہ حکومت کے نشانے پر آگئے۔ بعد ازاں وہ ہانگ کانگ، لندن اور پھر 2017 میں نیویارک منتقل ہو گئے۔

چینی حکام نے ان پر ریپ، اغوا، رشوت اور دیگر جرائم کے الزامات عائد کیے، لیکن گوو نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا۔

استغاثہ کے مطابق، گوو نے لاکھوں افراد کو قائل کیا کہ وہ ان کی کمپنیوں میں ایک ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کریں، جن میں جی ٹی وی میڈیا گروپ، ہمالیہ فارم الائنس اور ہمالیہ ایکسچینج شامل ہیں۔

حکومت کے مطابق، گوو نے اپنے جرائم پر کوئی پچھتاوا ظاہر نہیں کیا اور امریکا کے نرم قوانین سے فائدہ اٹھا کر وہاں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ