اسلام آباد: انسانی پلیسینٹا کی سمگلنگ، تین چینیوں سمیت پانچ ملزم گرفتار

ایف آئی اے کے مطابق ملزمان اس پلانٹ میں پلیسینٹا کو غیر قانونی طور پر پراسیس کر کے ویتنام برآمد کرتے تھے۔

ایف آئی اے کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں اسلام آباد میں انسانی اعضاء کی غیر قانونی پراسیسنگ اور ہیومن پلیسینٹا  بیرون ملک سمگل کرنے والے گینگ کے گرفتار ارکان کو دیکھا جا سکتا ہے (ایف آئی اے)

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں کارروائی کرتے ہوئے انسانی پلیسینٹا (نال) کو غیر قانونی طور پر پراسیس کرنے کے بعد بیرون ملک سمگل کرنے والے مبینہ نیٹ ورک کا سراغ لگا کر تین چینی شہریوں سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

ایف آئی اے کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ انسانی اعضا کی غیر قانونی پراسیسنگ فیکٹری کی مصدقہ اطلاع پر جمعرات کی رات سیکٹر ایف-سیون میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں انسانی اعضا، بالخصوص ہیومن پلیسینٹا (بچے کی پیدائش کے بعد خارج ہونے والی نال) کی غیر قانونی پراسیسنگ کے لیے مکمل پلانٹ قائم تھا۔

پلیسینٹا ایک عارضی عضو ہے جو دوران حمل ماں اور بچے کے درمیان آکسیجن اور غذائیت کی فراہمی کا کام کرتا ہے۔ 

بچے کی پیدائش کے بعد یہ جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ بعض ممالک میں اسے ادویات، کاسمیٹکس اور روایتی علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم اس کی خرید و فروخت اور پراسیسنگ کئی ممالک میں سخت قانونی ضوابط کے تابع ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان اس پلانٹ میں پلیسینٹا کو غیر قانونی طور پر صاف، خشک (ڈرائے) اور پراسیس کرنے کے بعد ’شی پلیسینٹا‘ کے نام سے ویتنام برآمد کرتے تھے۔

تحقیقات کے دوران اسی نیٹ ورک کی نشاندہی پر سیکٹر ای-الیون میں واقع ایک اور مقام پر بھی چھاپہ مارا گیا، جہاں اسی نوعیت کا ایک اور مکمل پراسیسنگ سینٹر فعال پایا گیا۔

ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے قبضے سے پراسیسنگ مشینری، آلات اور تیار شدہ مواد برآمد کر لیا گیا۔ 

ملزمان کے خلاف ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ (HOTA) 2010 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان