پاکستان نے جمعرات کو کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے باوجود بھی امریکہ اور ایران میں مذاکرات جاری ہیں اور پاکستان اس سلسلے میں ’بھرپور‘ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ’فریقین کے مابین کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری ہیں۔‘
ترجمان کے مطابق: ’ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ فریقین دوبارہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں تاکہ اختلافات دور کیے جا سکیں اور ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے اثرات خطے کے دیگر محاذوں تک نہ پھیلیں۔‘
امریکہ اور ایران کے درمیان کچھ روز کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے لگی ہے۔
جمعرات کو امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں ایران کی جانب سے اس کے فوجیوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پھر سے فضائی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
تقریباً ایک ہفتے تک جاری نسبتاً خاموشی کے بعد ہونے والے یہ پہلے حملے تھے، جنہوں نے مذاکرات کی بحالی کی امیدوں کو دھندلا دیا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مستقبل سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ دستاویز اب بھی فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ جہاں تک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا تعلق ہے، ہم پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ ’یہ اب بھی فریقین کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی بنیاد ہے۔ یہ ایک بنیادی دستاویز ہے، جو مستقبل میں دوبارہ شروع ہونے والے کسی بھی امن عمل کی اساس بن سکتی ہے۔ اس لیے اسے ’مردہ‘ یا ’فعال‘ قرار دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ایم او یو اور پاکستان مشترکہ اعلامیہ، دونوں آج بھی متعلقہ اور مؤثر دستاویزات ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بقول طاہر اندرابی: ’حقیقت یہ ہے کہ یہ دستاویز آج بھی اتنی ہی اہم ہے اور فریقین کے پاس اس کی بنیاد پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا واضح راستہ موجود ہے۔ صرف اسلام آباد ایم او یو ہی نہیں بلکہ پاکستان مشترکہ اعلامیہ بھی موجود ہے، جس پر دونوں فریق متفق ہوئے تھے اور جس میں طے کیا گیا تھا کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات اسی فریم ورک کے تحت آگے بڑھیں گے۔‘
امریکہ و ایران میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے بھی بدھ کو اعلان کیا کہ اس نے حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں امریکہ کے ساتھ مل کر عراق میں ’شدت پسندوں‘ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔
سعودی وزارت دفاع نے ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا تھا کہ ’سعودی عرب کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا، تاہم وہ کسی بھی جارحیت کا جواب دے گا۔‘
اس حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بریفنگ کے دوران کہا کہ بحیرہ احمر کی صورتِ حال تشویش ناک ہے اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے سعودی عرب پر حملے ’مکمل طور پر قابل مذمت‘ ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ایران اور امریکہ میں جاری حالیہ کشیدگی کو روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں پر مزید کہا کہ ’سفارتی کوششیں جاری ہیں اور ہمیں امید ہے کہ کشیدگی میں کمی آئے گی اور تمام معاملات پرامن طریقے سے حل کیے جائیں گے۔
’ہمیں یہ امید بھی ہے کہ دونوں فریق 22 تاریخ کے اسلام آباد مشترکہ اعلامیے میں طے کیے گئے روڈ میپ کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے۔‘