فرانس کے ہاتھوں روس کے ’شیڈو فلیٹ‘ (یا ظلی بیڑے) کا حصہ ہونے کے شبہے میں ایک آئل ٹینکر کا پکڑے جانے نے آشکار کیا کہ یہ جہاز مبینہ طور پر مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے کس طرح کام کرتے ہیں۔
’شیڈو فلیٹ‘ کیا ہے؟
روس نے مبینہ طور پر مبہم ملکیت کے پرانے آئل ٹینکرز کا ایک بحری بیڑا تیار کر رکھا ہے تاکہ 2022 میں شروع ہونے والے یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد یورپی یونین، امریکہ اور جی سیون ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں سے بچا جا سکے۔
روسی خام تیل کی قیمت کی حد پر مبنی پابندیوں نے ماسکو کی اپنی جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال ہونے والی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے، مغربی انشورنس اور شپنگ سسٹم سے روسی تیل لے جانے والے بہت سے ٹینکروں کو بند کر دیا ہے۔
یورپی یونین نے 598 جہازوں کی فہرست جاری کی ہے جن پر یورپی بندرگاہوں اور سمندری خدمات پر پابندی ہے۔
امریکہ، جس نے جنوری کے اوائل میں شمالی بحر اوقیانوس میں ایک روسی پرچم والے ٹینکر کو پکڑا تھا، 183 جہازوں کی فہرست بناتا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کے ایک ماورائے اختیار حق پر زور دیتا ہے۔
شیڈو فلیٹ کیسے کام کرتا ہے؟
ماہرین اور یورپی پارلیمنٹ کے ایک بریفنگ پیپر کے مطابق، ’شیڈو فلیٹ‘ جہازوں کی ملکیت کو چھپاتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ان کا انتظام کرنے والی کمپنیاں روس سے باہر ہیں اور جہاروں پر اپنی سہولت کے جھنڈے لگاتی ہیں یا بعض اوقات دعوےگمراہ کرنے والے جھنڈے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ سمندر میں جہاں روسی تیل کی ایک جہاز سے دوسرے ،یإ منتقلی ہوتی ہے وہاں ان جہازوں کو اپنے خودکار شناختی نظام بند کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا جس سے وہ سمندر میں جیسے ’اندھیرے‘ میں چلے جاتے ہیں۔
بہت سے بحری جہاز پرانے ہیں، مطلب یہ کہ ضبطگی کی صورت میں انہیں آسانی سے چھوڑا جا سکتا ہے، یا اگر وہ تیل بہنے کا سبب بنتے ہیں تو انہیں ضبط کیا جا سکتا ہے۔
کیئف سکول آف اکنامکس، جو کہ روسی آئل ٹریکر‘ چلاتا ہے، دسمبر میں اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا کہ نومبر میں جن شیڈو فلیٹ ٹینکرز کی نگرانی کی گئی ان میں سے 78 فیصد 15 سال سے زیادہ پرانے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ’خام تیل کی نقل و حمل کرنے والے روسی شیڈو فلیٹ جہازوں کے ذریعے استعمال ہونے والے سرفہرست تین جھنڈے جھوٹے/نامعلوم جھنڈے ہیں، سیرا لیون اور کیمرون۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جہازوں کی انتظامی کمپنیاں متحدہ عرب امارات، سیشلز، ماریشس، مارشل آئی لینڈز اور دیگر جگہوں پر موجود تھیں۔
کیئف سکول آف اکنامکس نے یہ بھی کہا کہ ’انڈیا روس کی کل برآمدات میں 40 فیصد حصے کے ساتھ سب سے بڑا روسی سمندری خام تیل کا درآمد کنندہ ہے۔‘
اس کے خلاف کیا کیا جا رہا ہے؟
امریکہ، جو یوکرین کے تنازعے کو ختم کرنے کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے، نے جنوری کے اوائل میں شیڈو فلیٹ سمیت روس کی تیل کی صنعت کے خلاف اپنی پابندیاں تیز کر دی تھیں۔
جب سات جنوری کو امریکی فورسز نے بحر اوقیانوس میں ٹینکر کو پکڑا تو وائٹ ہاؤس نے کہا کہ جہاز کو ’گمراہ کن جھنڈا لہرانے کے بعد بے وطن سمجھا گیا۔‘
روس نے منگل کو کہا کہ امریکہ نے ابھی تک ٹینکر سے دو روسی عملے کے ارکان کو رہا نہیں کیا ہے۔
اکتوبر میں پولیٹیکو کے ذریعے دیکھی جانے والی اس کی خارجہ پالیسی سروس کی ایک دستاویز کے مطابق، ’یورپی یونین روس کے شیڈو فلیٹ جہازوں پر سوار ہونے کے لیے اپنے اختیارات کو بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔‘
فرانسیسی بحریہ نے جمعرات کو بحیرہ روم میں ایک آئل ٹینکر پر سوار ہوئی جس پر شبہ ہے کہ اس کا تعلق روس کے شیڈو فلیٹ سے ہے۔
صدر ایمانوئل میکرون نےایکس پر کہا کہ ’روس سے آنے والا یہ جہاز بین الاقوامی پابندیوں کا تابع تھا اور اس پر کمراہ کن جھنڈا لہرانے کا شبہ تھا۔‘
برطانیہ نے کہا کہ اس نے فرانسیسی مداخلت کے لیے ٹریکنگ اور مانیٹرنگ سپورٹ فراہم کی۔
روس کا ردعمل کیسا ہے؟
جب ستمبر کے اواخر میں فرانس نے روس سے منسلک بوراکے نامی بحری جہاز کو حراست میں لیا، جو بینن میں جھنڈا لگانے کا دعویٰ کرنے والا جہاز تھا، تو روسی صدر ولادی میر پوتن نے اس اقدام کو ’بحری قذاقی‘ قرار دیا تھا۔
جنوری کے اوائل میں امریکی ٹینکر کو قبضے میں لینے کے بعد، روسی وزارت خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ اس اقدام سے ’مزید فوجی اور سیاسی تناؤ پیدا ہو سکتا ہے‘ اور کہا کہ وہ ’شدید بین الاقوامی بحران کے حالات پیدا کرنے کے لیے واشنگٹن کی رضامندی‘ سے پریشان ہے۔