روس، یوکرین اور امریکہ کے مذاکرات کاروں نے تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے پر جمعے کو ابوظبی میں پہلی بار براہ راست بات چیت کی ہے۔
امریکہ نے روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی طور پر ایک منصوبہ تیار کیا تھا، جس پر کیئف اور مغربی یورپ میں شدید تنقید کی گئی کیوں کہ وہ روس کے مؤقف کے بہت قریب تھا، جب کہ بعد کی تجاویز پر ماسکو نے یورپی امن دستوں کی تجویز پیش کیے جانے پر تنقید کی تھی۔
ابوطبی میں ہونے والے مذاکرات ہفتے کو بھی جاری رہیں گے جب کہ جمعے کو یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے کہا کہ علاقائی حدود کا معاملہ بدستور بنیادی مسئلہ ہے جب کہ ماسکو نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مشرقی علاقے دونبیس سے یوکرینی فوج کے انخلا کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہو گا۔
مذاکرات کے پہلے دن کے بعد یوکرین کے چیف مذاکرات کار رستم عمروف نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ملاقات میں ’جنگ کے خاتمے کے لیے روس کی شرائط اور مذاکراتی عمل مزید جاری رکھنے کی منطق‘ پر توجہ مرکوز رہی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہفتے کو بھی ملاقاتیں طے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ابتدائی بیان میں کہا کہ یہ بات چیت دو روز تک جاری رہے گی اور یہ ’مذاکرات کے فروغ اور بحران کے سیاسی حل تلاش کرنے کی جاری کوششوں کا حصہ‘ ہے۔
جمعرات کو ٹرمپ نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقعے پر صدر زیلنسکی سے ملاقات کی تھی اور بعد ازاں امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف نے کریملن میں ولادی میر پوتن سے بات چیت کی تھی۔
دونبیس کا تنازع
متحدہ عرب امارات میں یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب کیئف میں روسی حملوں کے باعث ہزاروں لوگ نقطہ انجماد سے کم درجہ حرارت میں گرم رہنے کی سہولت محروم تھے۔
یورپی یونین نے، جس نے وہاں سینکڑوں جنریٹرز بھیجے ہیں، ماسکو پر الزام لگایا کہ وہ ’جان بوجھ کر شہریوں کو حرارت سے محروم کر رہا ہے۔‘
کیئف کا کہنا ہے کہ جمعے کو خارکیف کے علاقے میں روسی حملوں میں تین افراد جان سے گئے جب کہ مشرقی علاقے میں رات گئے ہونے والے حملوں میں ایک باپ اور اس کے پانچ سالہ بیٹے سمیت چار افراد مارے گئے۔
اگرچہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کے اس بدترین تنازعے کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آئی ہے، لیکن ماسکو اور کیئف علاقوں کے مسئلے پر تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
ماسکو میں پوتن کی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کے چند گھنٹوں بعد ہی کریملن نے کہا کہ کیف کے مشرقی دونبیس ریجن سے واپسی کا ان کا انتہائی مطالبہ اب بھی برقرار ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا: ’اس حقیقت پر روس کا موقف سب کو معلوم ہے کہ یوکرین اور یوکرینی مسلح افواج کو دونبیس کا علاقہ چھوڑنا ہو گا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’یہ ایک بہت اہم شرط ہے۔‘
کیئف نے، جس کا اب بھی مشرقی علاقے کے تقریباً 20 فیصد حصے پر کنٹرول ہے، ان شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔
دونوں فریقین کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں علاقوں کا مستقبل اس جنگ کے تصفیے کی تلاش میں اہم ترین حل طلب مسائل میں سے ایک ہے، جس میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک، کروڑوں بے گھر اور مشرقی یوکرین تباہ ہو چکا ہے۔
بات چیت سے قبل جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے، جنہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے اور ٹرمپ نے ڈیووس میں جنگ کے بعد کی سکیورٹی ضمانتوں پر اتفاق کیا ہے، بتایا کہ ’دونبیس ایک کلیدی مسئلہ ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بعد ازاں آن لائن پوسٹ میں انہوں نے مزید کہا: ’یہ ضروری ہے کہ نہ صرف یوکرین جنگ کے خاتمے اور مکمل سکیورٹی کے حصول کی خواہش رکھے، بلکہ کسی نہ کسی طرح روس میں بھی ایسی ہی خواہش پیدا ہونی چاہیے۔‘
روسی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کی آخری بار آمنے سامنے ملاقات گذشتہ موسم گرما میں استنبول میں ہوئی تھی، اور وہ مذاکرات صرف قیدی فوجیوں کے تبادلے کے معاہدوں پر ختم ہوئے تھے۔
ابوظبی میں ہونے والی یہ ملاقات پہلا موقع ہے جب فریقین ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبے پر بات کرنے کے لیے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے ہیں۔
ولادی میر پوتن بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ماسکو طاقت کے زور پر مشرقی یوکرین کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
کریملن میں روس اور امریکہ کے مذاکرات کے بعد پوتن کے مشیر یوری اوشاکوف نے اصرار کیا کہ ماسکو سفارتی طریقے سے جنگ کو ’حل کرنے میں حقیقی دلچسپی‘ رکھتا ہے۔
لیکن انہوں نے مزید کہا: ’جب تک ایسا نہیں ہوتا، روس میدان جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرتا رہے گا۔‘
ماضی میں ٹرمپ یوکرین پر ایسی شرائط ماننے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں جنہیں کیئف ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھتا ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کو دوبارہ اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ پوتن اور زیلنسکی معاہدے کے قریب ہیں۔
انہوں نے کہا: ’میرا ماننا ہے کہ وہ اب اس مقام پر ہیں جہاں وہ اکٹھے ہو کر کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ احمق ہیں، اور یہ بات دونوں کے لیے ہے۔‘