روس کے وزیر خارجہ کا برطانیہ کو ’گریٹ‘ کہلانے پر اعتراض

روس کا کہنا ہے کہ برطانیہ یوکرین جنگ کے تناظر میں مغرب کے ساتھ مل کر اس کے خلاف سرگرم ہے، جبکہ برطانیہ روس کو یورپ کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ برطانیہ کو اب خود کو ’گریٹ برطانیہ‘ کہلوانا نہیں چاہیے، کیونکہ دنیا میں یہ واحد ملک ہے جو سرکاری طور پر اپنے نام کے ساتھ ’گریٹ‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔

منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لاوروف نے نوآبادیاتی تاریخ کے تناظر میں کہا کہ ’میرے خیال میں برطانیہ کو صرف برطانیہ کہا جانا چاہیے، کیونکہ ’گریٹ برطانیہ‘ واحد مثال ہے جہاں کوئی ملک خود کو ’عظیم‘ قرار دیتا ہے۔‘

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک اور ملک جس نے اپنے نام کے ساتھ ’گریٹ‘ استعمال کیا تھا وہ معمر قذافی کا ملک تھا، لیکن وہ ریاست اب موجود نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لاوروف کی ترجمان نے اس موقع پر برطانوی چینل سکائی نیوز کے نمائندے آئیور بینیٹ کو سوال کرنے کا موقع دیا، جس پر لاوروف نے مسکراتے ہوئے کہا ’کوئی برا نہ مانیں۔‘

روسی سرکاری میڈیا میں برطانیہ کو اکثر ’پرفیڈیئس البیئن‘ یعنی مکار برطانیہ کہا جاتا ہے اور اسے عالمی خفیہ سرگرمیوں میں ملوث ایک طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ برطانیہ یوکرین جنگ کے تناظر میں مغرب کے ساتھ مل کر اس کے خلاف سرگرم ہے، جبکہ برطانیہ روس کو یورپ کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

دونوں فریق ایک دوسرے پر سرد جنگ کے بعد کی شدید ترین جاسوسی سرگرمیوں کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا