پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے اتوار کو خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر عورت مارچ نہ ہونے دیا اور درجنوں مرد اور خواتین سماجی کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔
سکیورٹی حکام کی جاری کردہ فہرست، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، کے مطابق اب تک 27 مردوں اور 34 خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم رکن سحرش قریشی بھی حراست میں لیے جانے والوں میں شامل ہیں۔ زیر حراست افراد کی تعداد یا مستقبل کی قانونی کارروائی کے بارے میں پولیس نے تاحال کچھ نہیں بتایا۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کو بتایا کہ عورت مارچ کے منتتظمین کے پاس نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ (این او سی) نہیں تھا اور شہر میں امن و امان کی صورت حال کی وجہ سے پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے۔
متعدد خواتین کو شہر کے سیکٹر ایف-6 کی سپر مارکیٹ کے قریب سے حراست میں لیا گیا۔ مظاہرین بعد میں پریس کلب کے باہر پہنچے لیکن وہاں پولیس کی بڑی نفری نے انہیں حراست میں لے کر جی سیون خواتین پولیس سٹیشن منتقل کر دیا۔
موقعے پر موجود پولیس اہلکاروں کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے عورت مارچ کو اجازت نامہ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اجتماع کو غیر قانونی قرار دیا۔
عورت مارچ اسلام آباد نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں ڈاکٹر فرزانہ باری اور دیگر خواتین کو پولیس گاڑی میں بیٹھا دکھایا گیا۔
تنظیم نے گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنان کو رہا کیا جائے۔ اس کے علاوہ شرکا سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مزید گرفتاریوں سے بچنے کے لیے گھروں کو واپس جائیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رواں سال عورت مارچ کا موضوع ’فیمینسٹ آئین‘ تھا۔
عورت مارچ 2018 سے ملک بھر میں عالمی یوم خواتین پر ہر سال منعقد ہو رہا ہے اور خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور سماجی انصاف کے لیے احتجاج کا علامتی مظاہرہ سمجھا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی کارکن نشاط مریم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’گذشتہ چند برسوں سے ریاستی کریک ڈاؤن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کو بھی استعمال نہیں کرنے دیا جا رہا۔
’ہر سال عورت مارچ کے موقعے پر ریاستی دباؤ دیکھنے میں آتا ہے، مگر اس سال تو تمام حدیں پار کر دی گئیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ اس سال ورلڈ اکنامک فورم کے صنفی مساوات کے عالمی اشاریے میں پاکستان کا آخری نمبر بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ یہاں خواتین کو کن مسائل کا سامنا ہے۔‘
عورت مارچ کی منتظم رکن بریا شاہ نے کہا ’پاکستان میں عورت مارچ کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم ہمیشہ پرامن احتجاج کرتے آئے ہیں۔ ہمارے شرکا کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گرفتار کیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔‘