پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری ہے: روسی صدر

روسی صدر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ ماہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ اسلام آباد اور ماسکو تیل کے شعبے میں ایک نئے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سفیر برائے روس، فیصل نیاز ترمذی 15 جنوری، 2026 کو ماسکو میں صدر پوتن کو اپنی اسناد رسمی پیش کرنے کی تقریب کے موقع پر پوز دیتے ہوئے (روسی سفارت خانہ اسلام آباد/ایکس)

روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے ماسکو کا پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری ہے جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

روس کے پاکستان میں سفارت خانے نے جمعے کو ایکس پر جاری بیان میں صدر پوتن کے حوالے سے کہا: ’ہم پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، جو شنگھائی تعاون تنظیم کا مکمل رکن ہے اور اقتصادی، تکنیکی اور انسانی وسائل کے لحاظ سے خطے کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے۔‘

صدر پوتن نے مزید کہا کہ ’روس پاکستان تعلقات حقیقی معنوں میں دونوں کے لیے مفید ہیں۔‘

پاکستان کے روس میں سفارت خانے کے مطابق، یہ بیان پاکستان کے سفیر برائے روس، فیصل نیاز ترمذی، کے صدر پوتن کو اپنی اسناد رسمی پیش کرنے کی تقریب کے موقع پر سامنے آیا جو جمعرات کو ماسکو کے گرینڈ کریملن پیلس میں منعقد ہوئی۔

حالیہ برسوں میں پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی تعلقات نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔

یہ سفارتی تبدیلی 2023 میں عروج پر پہنچی جب پاکستان نے سرکاری طور پر اپنے توانائی کے منصوبوں میں روسی خام تیل کو شامل کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ ماہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ اسلام آباد اور ماسکو تیل کے شعبے میں ایک نئے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

تاہم پاکستان کے لیے روسی تیل کی خریداری واشنگٹن کو ناراض کر سکتی ہے جہاں ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں روسی تیل کی خریداری پر انڈیا پر25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا ہے۔

پاکستان، جو اپنی خام تیل کی 70 فیصد ضرورت درآمدات سے پوری کرتا ہے، بنیادی طور پر خلیجی خام تیل پر انحصار کرتا ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں روسی وزیر توانائی سرگئی تسویلیف اسلام آباد آئے جہاں دونوں ممالک نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا عزم دہرایا، جس میں تجارتی تعلقات، توانائی، کاروبار سے کاروبار کے منصوبے اور صحت و تعلیم جیسے سماجی شعبے شامل ہیں۔

گذشتہ سال ہی پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقعے پر سائیڈ لائن ملاقات کی تھی جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی بات کی گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت