اسلام آباد مذاکرات کے سائے میں ’کریکٹر سرٹیفکیٹ‘

اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایک خاتون صحافی کے لباس پر ہونے والی تنقید اور ’اہلیانِ انٹرنیٹ‘ کے تضادات: کیا عورت کا لباس ہی قوم کی نظریاتی اساس کا واحد پیمانہ رہ گیا ہے؟

18 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات کی تیاریوں کے سلسلے میں بینر اور سائن بورڈ (اے ایف پی)

’وہ جو خاتون صحافی تھیں، وہ ہمارے مقرر کردہ معیار سے کچھ کلو وزنی اور عمر میں ذرا سی بڑی تھیں، اس لیے یہ لباس ان کے لیے موزوں نہیں تھا۔‘ منجانب اہلیانِ انٹرنیٹ۔

جی قارئین، ابھی امن معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے لیکن اس سے پہلے ایک اہم مسئلہ نمٹا لیا گیا۔ عورت کو کیا، کب، کیوں اور کیسے پہننا چاہیے، جو معاملہ پہلے طے ہو جائے وہی اہم ہوتا ہے۔ یقیناً یہی معاملہ اہم تھا۔

جاری جنگ میں بھی دیگر معاملات کے ساتھ ایک معاملہ عورت کے لباس کا بھی ہے۔ عورت کے سر پر سکارف ہو گا تو پوری قوم بشمول مردوں کے بنیاد پرست ہو جائے گی، عورت کے سر سے حجاب اتر جائے گا تو آزاد خیال۔

عورت پتلون قمیض پہن لے گی تو قومی تشخص اور ملک کی ناک کٹ کر وہ جا گرے گی اور یہی پتلون قمیص دیکھ کر دیگر بزرجمہر سکون کا سانس لیں گے کہ شکر ہے بھائی، عورت آزاد ہو گئی اور ہم ترقی کی شاہراہ پر سرپٹ ہو لیے۔

اسی دوران مرد پتلون بھی پہنتے ہیں، ٹائی بھی لگاتے ہیں، چاہے وہ پتلون ان کی توند پر تنی ہوئی ہو اور ٹائی گردن میں پھندے کی طرح لٹک رہی ہو، اس کا تعلق قوموں کی نظریاتی اساس وغیرہ سے بالکل نہیں ہوتا، تالیاں!

یہ جو ہمارے ساتھ کام کرنے والے مرد ہوتے ہیں، ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر (بلکہ وہ بھی نہ چھوڑیے) انہیں ہم پر بہت غصہ ہوتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ بڑی وجہ تو وہی کہ کوئی موٹی ہے، کوئی کالی ہے، کوئی بھینگی ہے اور کوئی بوڑھی۔

ان معصوموں کے خیال میں یہ تو گھر سے کمانے نکلتے ہیں اور ہم ان کی دل بستگی کے لیے نکلتے ہیں۔ غصے کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ہم عورتیں بھی کمانے کے لیے نکلتی ہیں، اب کمانا بس انہوں نے ہی ہے نا، عورت کیوں کمائے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لباس کے معاملے پر تو میں بخوبی سمجھ سکتی ہوں کہ باہر نکلنے سے پہلے عورت، اور خاص کر وہ عورت جو برقع نہیں اوڑھتی، کیا کیا سوچتی ہے۔ دفتر میں کام کرنے والی عورت اپنے لباس پر اتنا غور کرتی ہے کہ آدھا وقت اسی پر صرف ہو جاتا ہے۔

کپڑا ذرا موٹا ہو، گلا اونچا ہو، قمیض کے چاک نہ تو بند ہوں اور نہ زیادہ کھلے، دامن گھٹنوں سے نیچے ہو۔ بھلے فیشن کچھ بھی چل رہا ہو، پائنچے کھلے ہوں۔ لپ سٹک کا شیڈ ہلکا ہو، کاجل آنکھوں سے باہر نہ جائے، زیور ایسا نہ ہو کہ نظر پڑے۔ ہوتے ہوتے اب وہ زمانہ آ لگا ہے کہ کپڑوں کے ایک برانڈ کا نام بھی ’ورکنگ وومن‘ ہے۔

یہ تو ہوئیں وہ خواتین جنہیں ہر وقت معاشرے سے تصدیق شدہ کیریکٹر سرٹیفکیٹ چاہیے۔ بعض خواتین کو یہ سرٹیفکیٹ نہیں چاہیے ہوتا اور بعض کبھی کبھار بھول جاتی ہیں۔

یہ بھولی ہوئی بھیڑیں جہاں کسی کو نظر آئیں، وہ انہیں مفت کے مشوروں سے نوازنے چلا آتا ہے۔ یوں بھی عورت کو مشورہ دینے کے لیے کسی مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی، جس کا جب دل چاہے جو چاہے کہہ دے۔

تو بس یہی ہوا، غریدہ بہن! یہ کوآرڈ سوٹ پہن کر تم نے کتنے ہی سوٹ پہننے والوں کو پریشان کر دیا، نہ کیا کرو بہن۔ بےچارے کام دھندہ چھوڑ کر تمہیں سمجھانے آئے تھے۔ اتنی نادان نہ بنو، آئندہ ان کی مرضی کے کپڑے پہنا کرو۔

مزے کی بات یہ ہوئی کہ ہمارے ایک کالم نگار دوست نے اپنے بھولے بھالے انداز میں غریدہ کو کافی سمجھایا کہ اسے کیا پہننا چاہیے۔ ان بے چارے کو خود شامیانے کی وضع کی پتلون اور دسترخوان کی طرح کی قمیض پہنے دیکھ کر ہمیں کس قدر ترس آتا ہے، کاش کبھی ہم بھی بتا پائیں لیکن ہائے مروت!

جنگ تو ابھی بظاہر رکی ہوئی ہے، امن معاہدہ ابھی تحریر سے بھی دور ہے، اس دوران ہم کیا کریں۔ بقول شخصے، ’ویلے جو بیٹھے آں، جدوں تک ابا مر نہیں جاندا، پولی پولی ڈھولکی نہ بجا لییے؟‘

تو اس دوران، ذرا دھیان سے کپڑے پہنیے ورنہ ڈھولکی بجانے والے کم نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر