ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک ٹیم جمعے کی شب اسلام آباد آمد پہنچ گئی جہاں امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔
بیان کے مطابق دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں خطے کی تازہ صورت حال اور علاقائی امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پی ٹی وی کے مطابق امریکہ کی سکیورٹی اور لاجسٹک ٹیم پہلے ہی پاکستان میں موجود ہے۔
تاہم پاکستان اور ایران کی جانب سے جمعے کو عباس عراقچی کے دورے کے حوالے سے جاری بیانات میں امریکہ سے مذاکرات کا براہ راست ذکر نہیں ہےـ
Pleased to receive and welcome my brother, Foreign Minister of Iran, H. E. Abbas Araghchi @Araghchi, to Islamabad, alongside Field Marshal Syed Asim Munir and Interior Minister Mohsin Naqvi.
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) April 24, 2026
Look forward to our meaningful engagements aimed at promoting regional peace and… pic.twitter.com/XHrqXijgqx
امریکی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کے اس متوقع دورے سے قبل اسلام آباد پہنچی تھی، جسے 21 اپریل کو موخر کر دیا گیا تھا اور جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے بعد سے امریکہ اور ایران میں مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے تو ابہام تھا، تاہم اسلام آباد میں حکام نے اسی طرح سکیورٹی اقدامات کر رکھے تھے، جیسے مذاکرات کے پہلے دور میں کیے گئے تھے۔
وائٹ ہاؤس نے بھی جمعے کو تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک انٹرویو میں کہا: ’اگر ضرورت پڑی تو سب لوگ پاکستان جانے کے لیے تیار رہیں گے، لیکن سب سے پہلے سٹیو اور جیرڈ وہاں جا کر صدر، نائب صدر اور ٹیم کے دیگر ارکان کو صورت حال سے آگاہ کریں گے۔‘