آبنائے ہرمز پر مبہم ایرانی بیان، امن کی کوششوں کے لیے نیا چیلنج

ایران کے وزیر خارجہ کے مہبم بیانات اور آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی نے اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

ایرانی فوج کی طرف سے 12 ستمبر 2020 کو فراہم کی گئی تصویر میں ایرانی بحری جہازوں کو خلیج میں آبنائے ہرمز میں ایک فوجی مشق کے آخری دن پریڈ کرتے دکھایا گیا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع دوسرے مذاکراتی دور سے قبل خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ بیان ہے، جس نے اہم عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی صورت حال سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تمام تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو جنگ بندی کے باقی ماندہ عرصے کے لیے مکمل طور پر کھلا قرار دیا جاتا ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جہازوں کو ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے مقرر کردہ مخصوص راستے پر عمل کرنا ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے، جبکہ اسی پس منظر میں اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں تقریباً مکمل ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو روک کر اپنی تحویل میں لے لیا۔

ان کے مطابق جہاز کو پہلے خبردار کیا گیا، تاہم نہ رکنے پر اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے قابو میں کیا گیا۔

اس پیش رفت پر ایران نے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی کارروائی، ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی اور لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ میں تاخیر کو سیز فائر کی ’واضح خلاف ورزیاں‘ قرار دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ’جارحانہ اقدامات‘ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں۔

ان متضاد بیانات اور حالیہ کشیدگی نے اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

11 اور 12 اپریل کو ہونے والا پہلا مذاکراتی دور کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث یہ راستہ کئی بار بند اور کھولا گیا، جس سے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔

مارچ 2026 کے آغاز میں ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آمد و رفت پر پابندیاں عائد کیں، جبکہ 13 اپریل کو امریکہ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی شروع کی، جس کے بعد صورت حال مزید کشیدہ ہو گئی۔

لیکن پھر اسرائیل اور لبنان میں مذاکرات کے بعد 16 اپریل کو لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران نے عارضی طور پر اس گزرگاہ کو کھولنے کا عندیہ دیا۔

تاہم زمینی حقائق اس اعلان کے برعکس زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ’مکمل طور پر کھلا‘ قرار دیا ہے، لیکن امریکی ناکہ بندی، جہازوں کی روک تھام اور سخت نگرانی جیسے عوامل اس دعوے کو محدود کرتے ہیں۔

ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں، جبکہ امریکی وفد کی پیر کی شب اسلام آباد آمد متوقع ہے۔

اس تمام صورت حال میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا دوسرا دور کس حد تک کامیاب ہو سکے گا۔

آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی بیان بظاہر ایک مثبت سفارتی اشارہ ضرور ہے، تاہم اس میں موجود ابہام اور زمینی کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں تناؤ بدستور برقرار ہے اور سفارتی کوششوں کا مستقبل غیر واضح دکھائی دیتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا