انڈیا میں دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل مردم شماری جاری ہے، جو 15 سال سے زائد عرصے بعد ہو رہی ہے۔
کیا آپ کے پاس نوکری ہے؟ آپ کھاتے کیا ہیں؟ آپ کے گھر کی حالت کیسی ہے؟ گھر میں واش روم ہے؟ ان سب سوالوں کے ساتھ انڈیا کی ایک ارب سے زیادہ آبادی کو اس بار مردم شماری میں 33 سوالات کے جواب دینے ہوں گے، جن میں پہلی بار کاسٹ اور میریٹل سٹیٹس کے سوال بھی شامل ہیں۔
انڈیا نے اس مشق کے پہلے مرحلے میں ملک کی پانچ ریاستوں اور تین وفاقی علاقوں میں سروے شروع کر دیے ہیں۔
لیکن ایک ارب سے زائد افراد کا شمار آخر کیسے ممکن ہو گا؟
اس کام کے لیے 30 لاکھ سے زائد اہلکار، جن میں اکثریت اساتذہ کی ہے، ملک بھر کے ہر گھر تک جائیں گے، ہر دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور ہر فرد کو شمار کریں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ عمل انڈیا کی تمام 36 ریاستوں اور وفاقی علاقوں تک پھیلا ہوا ہوگا، جن میں تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار دیہات بھی شامل ہیں۔
یہ گھر گھر جا کر کیے جانے والے سروے دو مراحل میں مکمل ہوں گے۔
پہلے مرحلے میں گھروں اور رہائشی سہولیات کا اندراج کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں افراد اور ان کے معاشی و سماجی حالات سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔ مجموعی طور پر یہ عمل ایک سال میں مکمل ہوگا اور اس پر تقریباً 1.3 ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔
ہر 10 سال بعد ہونے والی یہ مردم شماری، جو اصل میں 2021 میں ہونا تھی، اگلے سال مارچ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
خود اندراج
پہلی بار، گھر گھر سروے سے پہلے ہر علاقے میں شہریوں کو ایک محدود وقت دیا جائے گا تاکہ وہ حکومتی پورٹل پر خود کو آن لائن رجسٹر کر سکیں، جو 16 زبانوں میں دستیاب ہوگا۔
شہری اس پورٹل پر اپنی معلومات درج کر سکیں گے، جن کی بعد میں اہلکار اپنے دورے کے دوران تصدیق کریں گے اور انہیں مرکزی ڈیٹا بیس کا حصہ بنایا جائے گا۔
ڈیجیٹل ٹولز
انڈیا میں اس مردم شماری کے لیے ایک ایپ بھی لانچ کی گئی ہے، جس کے ساتھ خود اندراج کا آپشن بھی موجود ہوگا۔ اس کے علاوہ ایک ویب پورٹل بھی بنایا گیا ہے تاکہ پورے عمل کو منظم اور مانیٹر کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ نئی دہلی نے ایک خصوصی ایپلی کیشن بھی متعارف کروائی ہے، جس کے ذریعے ملک کے گھروں کو چھوٹے جغرافیائی حصوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ ہر علاقے میں محدود تعداد میں گھروں کا احاطہ کیا جا سکے۔
یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے کہ کوئی بھی فرد شمار ہونے سے رہ نہ جائے اور سروے مکمل طور پر درست ہو۔
ڈیجیٹل نظام کی بدولت مردم شماری کے کئی اعداد و شمار جلد جاری کیے جا سکیں گے، کیونکہ اس سے ڈیٹا پراسیسنگ کا وقت کم ہونے کی توقع ہے۔