اس کام کے لیے 30 لاکھ سے زائد اہلکار، جن میں اکثریت اساتذہ کی ہے، ملک بھر کے ہر گھر تک جائیں گے اور ہر دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
انتخابات میں دھاندلی صرف پولنگ کے روز نہیں ہوتی بلکہ ماہرین کے مطابق اس کا آغاز کئی ماہ قبل ہونے والی مردم شماری سے ہو جاتا ہے اور یہ سلسلہ پولنگ کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔