جب ٹرمپ گھنٹوں اپنے ساتھیوں پر چیختے رہے اور انہیں سچویشن روم سے باہر رکھا گیا

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق جب صدر ٹرمپ کو معلوم ہوا کہ دو امریکی پائلٹ ایران میں لاپتہ ہو گئے ہیں تو وہ ’گھنٹوں اپنے معاونین پر چیخ و پکار کرتے رہے‘ اور انہیں صورتحال کی لمحہ با لمحہ اپ ڈیٹس دیے جانے کے دوران ’کمرے سے باہر رکھا گیا۔‘

صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 اپریل، 2026 کو وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں (اےا یف پی)

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو معلوم ہوا کہ دو امریکی پائلٹ ایران میں لاپتہ ہو گئے ہیں تو وہ ’گھنٹوں اپنے معاونین پر چیخ و پکار کرتے رہے‘ اور انہیں صورتحال کی لمحہ با لمحہ اپ ڈیٹس دیے جانے کے دوران ’کمرے سے باہر رکھا گیا۔‘

تین اپریل کو ایک F-15 لڑاکا طیارہ ایران میں مار گرایا گیا، جس کے بعد لاپتہ فضائیہ اہلکاروں کو بچانے کے لیے ایک ہنگامی اور نہایت اہم مشن شروع ہوا۔

ایک اہلکار کو فوری طور پر امریکی فورسز نے بچا لیا کیونکہ وہ طیارہ گرنے سے پہلے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

تاہم دوسرا اہلکار 24 گھنٹوں سے زیادہ وقت تک دشمن کے علاقے میں رہا، جس کے بعد اسے بحفاظت نکال لیا گیا۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں جنگ کی صورتحال پر ٹرمپ کی تشویش ’بڑھتی جا رہی تھی۔‘

رپورٹ کے مطابق ’ٹرمپ گھنٹوں تک معاونین پر چیخے چلائے‘ جب انہیں بتایا گیا کہ لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا ہے اور دو اہلکار لاپتہ ہیں۔

اخبار کے مطابق ایک سینیئر عہدے دار نے بتایا کہ ’1979 کے ایرانی یرغمالی بحران کی تصاویر، جو حالیہ تاریخ میں خارجہ پالیسی کی بڑی ناکامیوں میں سے ایک ہے، ان کے ذہن پر حاوی تھیں۔‘

اگلے 24 گھنٹوں کے دوران ٹرمپ کے اعلیٰ ترین معاونین، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف سٹاف سوسی وائلز شامل تھیں، سچویشن روم میں اپ ڈیٹس حاصل کرتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اس میٹنگ میں شامل نہیں تھے، تاہم انہیں ’اہم مواقع پرُ فون کے ذریعے آگاہ کیا جاتا رہا۔

ایک سینیئر عہدے دار کے مطابق ’معاونین نے صدر کو کمرے سے باہر رکھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ان کی بے صبری مددگار ثابت نہیں ہوگی۔‘

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیاوٹ نے اخبار کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ’وہ مستحکم قیادت فراہم کر رہے تھے جس کی ملک کو ضرورت ہے۔‘

انہوں نے کہا ’صدر ٹرمپ نے فخر کے ساتھ انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ایرانی حکومت کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکیں گے اور یہ آپریشن اسی مقصد کو پورا کرتا ہے۔‘

پہلے پائلٹ کے ریسکیو کے بعد امریکہ وقت کے خلاف دوڑ میں شامل تھا تاکہ دوسرے اہلکار کو ایران کے ہاتھ لگنے سے پہلے تلاش کیا جا سکے۔

چار اپریل کی شام، 24 گھنٹوں سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد، صدر کو بتایا گیا کہ دوسرے اہلکار کو بھی بچا لیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سینیئر عہدے دار کے مطابق یہ ریسکیو سی آئی اے کی مدد سے ممکن ہوا، جس نے پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کو اہلکار کی لوکیشن سے آگاہ کیا۔

عہدے دار نے کہا ’یہ واقعی گھاس کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے جیسا تھا لیکن اس بار ایک بہادر امریکی ایک پہاڑی دراڑ میں چھپا ہوا تھا، جو صرف سی آئی اے کی صلاحیتوں کے باعث نظر آ سکا۔‘

رپورٹس کے مطابق سی آئی اے نے ایک مہم بھی چلائی، جس میں غلط معلومات پھیلائی گئیں کہ اہلکار پہلے ہی مل چکا ہے۔

اخبار کے مطابق ٹرمپ نے آدھی رات کے قریب ٹروتھ سوشل پر اس مشن کی کامیابی پر فخر کا اظہار کیا اور تقریباً دو بجے سو گئے۔

انہوں نے کہا ’یہ بہادر سپاہی ایران کے خطرناک پہاڑوں میں دشمن کے علاقے میں تھا، جہاں دشمن اس کے قریب سے قریب تر ہو رہا تھا۔‘

اگلی صبح ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں آبنائے ہرمز کھولنے کا حکم دیا، ایک نازیبا پیغام میں جس کا اختتام ’اللہ کی حمد ہو‘ پر ہوا۔

سات اپریل کو انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے نہ کھولی تو ’آج رات پوری تہذیب تباہ ہو جائے گی۔‘

جب ایک مشیر نے ان غیر معمولی پیغامات کے بارے میں پوچھا تو رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’اللہ کی تعریف‘ کرنے کا خیال انہوں نے خود دیا تاکہ وہ غیر متوازن اور اشتعال انگیز نظر آئیں۔ ایک ایسا انداز جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ایرانی اس پر ردعمل دیں گے۔

اخبار کے مطابق ان بیانات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی اور پریشان قانون سازوں نے وائٹ ہاؤس سے صدر کی ذہنی حالت کے بارے میں وضاحت طلب کی۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ