امریکہ اور ایران میں ’لاپتہ امریکی پائلٹ‘ کی تلاش کی دوڑ

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے جمعے کو ایران کے اندر تباہ ہونے والے پہلے امریکی جنگی طیارے کے پائلٹ کی تلاش کے لیے ایرانی اور امریکی افواج کے درمیان دوڑ جاری ہے جبکہ ایک پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے جمعے کو ایران کے اندر تباہ ہونے والے پہلے امریکی جنگی طیارے کے پائلٹ کی تلاش کے لیے ایرانی اور امریکی افواج کے درمیان دوڑ جاری ہے جبکہ ایک پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ واقعہ 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلا موقع ہے، جب ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود میں کسی طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا۔

یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل ایک خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے ایران کو ’شکست دے کر مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا ہے۔

ایران نے جمعے کو کہا تھا کہ اس نے F-15E جنگی طیارے کو مار گرایا ہے۔ 

نہ تو وائٹ ہاؤس اور نہ ہی پینٹاگون نے اس حوالے سے کوئی معلومات جاری کیں، لیکن اے پی کو موصول ہونے والے پینٹاگون کی ایک ای میل میں کہا گیا کہ انہیں ’مشرق وسطیٰ میں ایک طیارے کے گرائے جانے‘ کی اطلاع ملی۔ اس حوالے سے مزید کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ایک امریکی پائلٹ کو بچا لیا گیا اور پینٹاگون نے امریکی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کو آگاہ کیا کہ دوسرے رکن کی صورت حال معلوم نہیں ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے طیارے کے گرنے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا لیکن وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا: ’صدر کو بریفنگ دی گئی ہے۔‘

اے پی کے مطابق امریکی پائلٹ کی تلاش ایران کے جنوب مغربی صوبے کہگیلویه اور بویراحمد کے پہاڑی علاقے پر مرکوز ہے اور ایران نے امریکی پائلٹ کو گرفتار کروانے والوں کے لیے ’بڑے انعام‘ کا علان بھی کر رکھا ہے۔

ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کہ اس نے نئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے امریکی لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا اور وہ جلد اپنی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روئٹرز کے مطابق ایرانی فوج کے مشترکہ کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا مشترکہ فوجی کمانڈ نے کہا کہ جمعے کو ایک نئے ایئر ڈیفنس سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے امریکی لڑاکا طیارے کو ہدف بنایا گیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ایران اپنی فضائی حدود پر ’یقینی طور پر مکمل کنٹرول‘ حاصل کر لے گا اور اس مقصد کے لیے جدید دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایک امریکی A-10 طیارہ خلیج فارس میں ایرانی دفاعی فورسز کے نشانہ بنانے کے بعد تباہ ہو گیا۔ تاہم ایک امریکی اہلکار نے، حساس جنگی صورت حال کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، کہا کہ یہ واضح نہیں کہ طیارہ گر کر تباہ ہوا یا مار گرایا گیا۔

اس پیش رفت سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن ہایو دونوں ایران کی فضائی حدود پر مکمل برتری کا دعویٰ کر چکے تھے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ طیارے کا نقصان ایران کے ساتھ مذاکرات کو متاثر نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں، بالکل نہیں۔ نہیں، یہ جنگ ہے۔‘

یہ جنگ اب چھٹے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خلیجی خطے کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل پر کنٹرول سخت کرنے کے باعث عالمی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا