لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز

حکام کی جانب سے انتباہ کے باوجود نقل مکانی کرنے والے خاندانوں نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات کی طرف جانا شروع کر دیا ہے۔

لبنان کے دارالحکومت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں 17 اپریل 2026 کو شہری اسرائیل کے ساتھ جنگ پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کا سیز فائر جاری۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان۔

ثالثی کی کوششیں جاری۔

لبنان اور اسرائیل بھی 10 روزہ جنگ بندی پر متفق

لائیو اپ ڈیٹس


لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر عمل شروع

لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سے عمل میں آ گئی ہے۔

اس طرح اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی رک سکتی ہے اور ہفتوں کی تباہ کن جنگ کے بعد ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو وسعت دینے کی کوششوں کو فروغ مل سکتا ہے۔

 جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کا اعلان اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے طور پر کیا۔ آدھی رات کے فوراً بعد جنگ بندی کے آغاز کا جشن منانے کے لیے مقامی لوگوں نے ہوائی فائرنگ کی جس سے پورے بیروت میں گولیوں کی آوازیں گونج اٹھیں۔

حکام کے اس انتباہ کے باوجود کہ جب تک جنگ بندی برقرار رہنے کا واضح یقین نہ ہو جائے اپنے گھروں کو لوٹنے کی کوشش نہ کریں، نقل مکانی کرنے والے خاندانوں نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات کی طرف جانا شروع کر دیا ہے۔


لبنان جنگ بندی میں ثالثی پر پاکستان کے شکر گزار ہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں لبنان میں جنگ بندی کے لیے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کو سراہا ہے۔

انہوں اپنے پیغام میں حکومت پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔

پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں باقر قالیباف، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کی۔

 باقر قالیباف نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’جنگ بندی صرف حزب اللہ کی ثابت قدمی اور مزاحمتی محور کے اتحاد کا نتیجہ ہے۔ ہم اس جنگ بندی پر احتیاط کے ساتھ ڈیل کریں گے اور مکمل کامیابی کے حصول تک ایک ساتھ رہیں گے۔‘


امید ہے حزب اللہ بہتر انداز میں پیش آئے گی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ حزب اللہ اس اہم وقت میں اچھے اور بہتر انداز میں پیش آئے گی۔

اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ ہو گا۔ مزید کوئی قتل و غارت نہیں۔ آخرکار امن قائم ہونا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا