|
امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر جاری۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان۔ امریکی فوج کا ایران کی سمندر میں تجارت کو مکمل بند کرنے کا دعویٰ۔ لائیو اپ ڈیٹس |
صدر چھوٹی ڈیل نہیں، بڑا معاہدہ چاہتے ہیں: جے ڈی وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے مذاکرات میں ڈیل نہ ہونے کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کوئی ’چھوٹی ڈیل‘ نہیں چاہتے۔
ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کی تقریب کے دوران جب ان سے امریکہ ایران مذاکرات کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’بنیادی طور پر اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صدر نے ایک پالیسی طے کر دی ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونا چاہیے۔ اور اس وقت ہم اسی بات کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔‘
وینس نے کہا کہ ’صدر (ٹرمپ) کوئی چھوٹی ڈّیل نہیں چاہتے، وہ ایک بڑا، جامع معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ایران کو ایک سادہ پیشکش کی گئی ہے۔ ’صاف بات یہ ہے کہ شاید کسی بھی صدر کے پاس اس طرح کی پیشکش کرنے کی صلاحیت پہلے نہیں تھی۔
’اگر آپ ایک نارمل ملک کی طرح برتاؤ کرنے پر آمادہ ہوں، تو ہم بھی آپ کے ساتھ معاشی طور پر ایک نارمل ملک کی طرح سلوک کریں گے۔‘
انہوں نے مزید ہا کہ ’وہ (ٹرمپ) چھوٹا معاہدہ نہیں چاہتے، اور یہی ایک وجہ ہے کہ اگرچہ پاکستان میں کافی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن معاہدہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔
’کیونکہ صدر واقعی ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں، ایران دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی نہ کرے، اور ساتھ ہی ایران کے عوام ترقی کریں، خوشحال ہوں اور عالمی معیشت کا حصہ بنیں۔
’یہی وہ پیشکش ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کا عہد کریں، تو ہم ایران کو ترقی دیں گے، اسے معاشی طور پر مضبوط بنائیں گے۔‘
ایران کی سمندر میں تجارت مکمل روک دی ہے: امریکی فوج
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ناکہ بندی کے ذریعے ایران کی سمندر سے تجارت کو مکمل بند کر دیا ہے۔
امریکی فوج نے بدھ کی صبح ایک بیان میں کہا کہ ’امریکی فورسز نے سمندر میں ناکہ بندی کے ذریعے ایران میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والی اکنامک تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔‘
سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کے مطابق کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ’ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ کر دی گئی ہے اور امریکی افواج مشرقِ وسطیٰ میں سمندری برتری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
’اندازاً ایران کی 90 فیصد معیشت سمندری بین الاقوامی تجارت پر منحصر ہے۔ ناکہ بندی کے نفاذ کے 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں امریکی افواج نے ایران کے اندر اور باہر سمندری راستے سے ہونے والی معاشی تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔‘
ایرانی بندر گاہوں کی ناکہ بندی میں گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی شامل: سینٹ کام
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کو بتایا کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز ان وسائل میں شامل ہیں جو ایرانی بندرگاہوں کو متاثر کرنے والی ناکہ بندی کی کارروائی انجام دے رہے ہیں۔
بیان کے مطابق یہ ناکہ بندی ان تمام ممالک کے جہازوں پر بلا امتیاز نافذ کی جا رہی ہے جو ایران کے ساحلی علاقوں یا بندرگاہوں میں داخل ہو رہے ہیں یا وہاں سے روانہ ہو رہے ہیں۔
’ایک عام ڈسٹرائر پر 300 سے زائد ملاح (سیلرز) پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، جو سمندری جارحانہ اور دفاعی کارروائیاں انجام دینے میں اعلیٰ تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔‘