|
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی اسلام آباد میں ہونے کا امکان۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بنا معاہدے کے ختم ہوا تھا۔ امریکی صدر نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ ایران نے امریکی ناکہ بندی کے اعلان کو ’خود مختاری خلاف ورزی‘ قرار دیا۔ لائیو اپ ڈیٹس |
واضح کر دیا کہ جوہری مواد ایران سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں: جے ڈی وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات میں واشنگٹن نے اپنی ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دی ہیں اور اب اقدام کرنا تہران کی ذمہ داری ہے۔
فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے، کیونکہ ہم نے بہت کچھ پیش کیا ہے اور اپنی ریڈ لائنز بالکل واضح کر دی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دو ایسے معاملات ہیں جن پر امریکی صدر نے واضح کر دیا ہے کہ کوئی لچک نہیں ہوگی۔‘ ان کے مطابق یہ معاملات ایران کے افزودہ یورینیم پر امریکی کنٹرول اور ایسا تصدیقی نظام قائم کرنا ہیں جو یہ یقینی بنائے کہ ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔
“We've made clear that we absolutely need to see the nuclear material come out of the country of Iran...the ball is in the Iranians' court because we put a lot on the table.” — VP Vance pic.twitter.com/s4Ki2HqL4U
— Vice President JD Vance (@VP) April 14, 2026
وینس نے مزید کہا کہ ’یہ ایک بات ہے کہ ایرانی کہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے، لیکن یہ دوسری بات ہے کہ ہم ایسا نظام قائم کریں جو اس بات کو یقینی بنائے کہ ایسا نہ ہو سکے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ ہفتے دونوں فریقین کے درمیان طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بدلے میں واشنگٹن توقع رکھتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دے گا، جسے تہران کی افواج نے مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے۔
گذشتہ روز آبنائے ہرمز سے 34 جہاز گزرے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شب کہا کہ آبنائے ہرمز سے ’گذشتہ روز 34 بحری جہاز گزرے ہیں۔‘
ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’یہ بے وقوفانہ بندش کے بعد سے سب سے بڑی تعداد ہے۔‘
پاکستان کی امریکہ، ایران مذاکرات کی میزبانی کی پیش کش
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان نے آئندہ چند دنوں میں، موجودہ جنگ بندی کے اختتام سے پہلے، اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔
دو پاکستانی حکام کے حوالے سے اے پی نے رپورٹ کیا کہ یہ پیشکش لچکدار ہے اور اگر فریقین کسی اور مقام کو ترجیح دیں تو اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ایک اہلکار نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ پہلے دور کے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے، لیکن یہ ایک مسلسل سفارتی عمل کا حصہ ہیں، نہ کہ کوئی ایک مرتبہ کی کوشش۔
امریکہ، ایران مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے دو امریکی حکام اور ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ اور ایران ایک بار پھر براہ راست مذاکرات پر غور کر رہے ہیں تاکہ اگلے ہفتے جنگ بندی کے خاتمے سے پہلے چھ ہفتوں سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
اے پی کا کہنا ہے ان تینوں افراد نے بتایا کہ مذاکرات کے نئے دور کے حوالے سے بات چیت جاری ہے جبکہ ثالثی کرنے والے ممالک میں سے ایک کے سفارت کار کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن اس پر متفق ہو چکے ہیں۔
حساس سفارتی مذاکرات پر بات کرنے کے لیے چاروں افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی سے گفتگو کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سفارت کار اور امریکی حکام کے مطابق یہ واضح نہیں کہ آیا اسی سطح کے وفود اس ممکنہ دور میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
ان کے مطابق اسلام آباد (پاکستان) ایک بار پھر میزبان مقام کے طور پر زیر غور ہے۔
امریکی حکام نے یہ بھی کہا کہ جنیوا بھی ایک ممکنہ مقام ہو سکتا ہے اور اگرچہ مقام اور وقت کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس سے تاحال اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دوسری جانب سے ہم سے رابطہ کیا گیا ہے اور وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘