پاکستان کے فیلڈ مارشل اچھا کام کر رہے ہیں: ٹرمپ

نیویارک پوسٹ کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ پاکستان میں اگلے دو دنوں میں ایران مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 26 ستمبر 2025 کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ واشنگٹن ملاقات کے بعد (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی اسلام آباد میں ہونے کا امکان۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بنا معاہدے کے ختم ہوا تھا۔

امریکی صدر نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔

ایران نے امریکی ناکہ بندی کے اعلان کو ’خود مختاری خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

لائیو اپ ڈیٹس


ایران کے ساتھ مذاکرات کے آئندہ دور پر بات ہو رہی ہے: وائٹ ہاؤس

امریکی صدر کے دفتر اور سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے منگل کو انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار اظہاراللہ کے اس سوال کہ کیا امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہونے جا رہا ہے، کے جواب میں بتایا کہ مستقبل میں مذاکرات پر بات چیت چل تو رہی ہے لیکن ابھی تک شیڈول ترتیب نہیں پایا ہے۔  

عہدیدار نے بتایا کہ ’مستقبل میں مذاکرات زیر غور ہیں، تاہم اس وقت تک کوئی شیڈول طے نہیں ہوا ہے۔


اسلام آباد امن مذاکرات آئندہ دو روز میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: صدر ٹرمپ 

نیویارک پوسٹ کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان میں اگلے دو دنوں میں ایران مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے انٹرویور سے بات کرتے ہوئے کہا ’آپ کو وہاں رہنا چاہیے، واقعی، کیونکہ اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے، اور زیادہ امکان ہے کہ ہم وہاں جائیں گے۔‘

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، مذاکرات پر ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں۔


اقوام متحدہ کی ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستانی کردار کی تعریف اور حمایت کا اعلان

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے منگل کو ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، یو این سیکرٹری جنرل انتونی گوتریش نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر بات کی۔

بیان میں بتایا گیا کہ نائب وزیر اعظم اصھاق ڈار نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا برطانیہ کو شمالی سمندر کا تیل نکالنے کا مشورہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یورپ توانائی کے لیے بے حد بے چین ہے لیکن برطانیہ شمالی سمندر کے تیل نکالنے سے انکار کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ (سکاٹ لینڈ کے ساحل) ایبرڈین کو ترقی کی بلندیوں پر ہونا چاہیے تھا۔ 

’ناروے اپنا شمالی سمندر کا تیل برطانیہ کو دگنی قیمت پر فروخت کر رہا ہے۔ وہ ایک بڑی دولت کما رہے ہیں۔ برطانیہ، جو توانائی کے لحاظ سے ناروے سے بہتر پوزیشن میں شمالی سمندر پر واقع ہے، کو ڈرلنگ کرنا چاہیے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں برطانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’بے بی، ڈرل!!!‘

انہوں نے مزید لکھا کہ ’یہ بالکل پاگل پن ہے کہ وہ ایسا نہیں کر رہے... اور مزید ونڈ ملز نہیں!‘


رومانیہ کی اسلام آباد مذاکرات میں پاکستان کی سہولت کاری کی تعریف

رومانیہ کی وزیر خارجہ اوآنا سیلویا ٹوئیو نے منگل کو پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو منگل کو فون کیا۔

اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے مطابق، وزیر خارجہ ٹوئیو نے اسلام آباد مذاکرات میں سہولت کاری میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

بیان میں بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان رومانیہ تعلقات میں مثبت رفتار کا خیرمقدم کیا اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے تنازعات کے پرامن حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر اتفاق کرتے ہوئے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔


اٹلی کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ

اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے پیشِ نظر اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران اٹلی نے لبنان پر اسرائیلی حملوں پر سخت تنقید کی ہے، جہاں اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت اطالوی فوجی بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

وزارتِ دفاع کے ذرائع کے مطابق، اس فیصلے کے نتیجے میں اٹلی اب اسرائیل کے ساتھ فوجی تربیت کے شعبے میں تعاون نہیں کرے گا۔

یہ فیصلہ وزیرِ اعظم میلونی نے پیر کو اپنے وزرائے خارجہ، دفاع اور نائب وزیرِ اعظم کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا۔ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے فی الحال اس پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔


فرانس اور برطانیہ جمعے کو آبنائے ہرمز سے متعلق اہم اجلاس کی میزبانی کریں گے 

فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے منگل کو کہا ہے کہ فرانس اور برطانیہ جمعے کو ایک اہم اجلاس کی میزبانی کریں گے جس میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے منصوبے پر غور کیا جائے گا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ اجلاس ایک کثیر القومی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد جنگ کے بعد عالمی شپنگ کو محفوظ بنانا ہے۔


آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے شراکت داروں سے بات چیت جاری: قطر

قطری وزیر خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو میڈیا کو بتایا کہ ’ہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس کی بندش کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو کسی بھی فریق سے خطرہ نہیں لایا جا سکتا اور اسے دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی پیشگی شرط نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بحران کا حل علاقائی ہونا چاہیے، جس میں ساحلی ریاستیں اور اس پر انحصار کرنے والی ریاستیں شامل ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ہر ایک کے لیے منفی اثرات کو روکنے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘

ترجمان نے کہا کہ قطر پاکستان میں مذاکرات کے نئے دور کی تصدیق کے منتظر ہیں اور ان سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ 


امریکی اور ایرانی وفد رواں ہفتے پھر سے اسلام آباد آ سکتے ہیں: ذرائع

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونے کے امکانات کے حوالے سے خبر رساں ادارے نے بھی رپورٹ کیا ہے۔

روئٹرز نے چار ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کی ٹیمیں اس ہفتے مذاکرات کے لیے اسلام آباد آ سکتی ہیں۔

اس سے قبل ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی ذرائع کے حوالے سے ایسی ہی خبر شائع کی تھی۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔

واضح کر دیا کہ جوہری مواد ایران سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات میں واشنگٹن نے اپنی ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دی ہیں اور اب اقدام کرنا تہران کی ذمہ داری ہے۔

فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے، کیونکہ ہم نے بہت کچھ پیش کیا ہے اور اپنی ریڈ لائنز بالکل واضح کر دی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’دو ایسے معاملات ہیں جن پر امریکی صدر نے واضح کر دیا ہے کہ کوئی لچک نہیں ہوگی۔‘ ان کے مطابق یہ معاملات ایران کے افزودہ یورینیم پر امریکی کنٹرول اور ایسا تصدیقی نظام قائم کرنا ہیں جو یہ یقینی بنائے کہ ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔

وینس نے مزید کہا کہ ’یہ ایک بات ہے کہ ایرانی کہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے، لیکن یہ دوسری بات ہے کہ ہم ایسا نظام قائم کریں جو اس بات کو یقینی بنائے کہ ایسا نہ ہو سکے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ ہفتے دونوں فریقین کے درمیان طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بدلے میں واشنگٹن توقع رکھتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دے گا، جسے تہران کی افواج نے مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے۔


گذشتہ روز آبنائے ہرمز سے 34 جہاز گزرے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شب کہا کہ آبنائے ہرمز سے ’گذشتہ روز 34 بحری جہاز گزرے ہیں۔‘

ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’یہ بے وقوفانہ بندش کے بعد سے سب سے بڑی تعداد ہے۔‘


پاکستان کی امریکہ، ایران مذاکرات کی میزبانی کی پیش کش

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان نے آئندہ چند دنوں میں، موجودہ جنگ بندی کے اختتام سے پہلے، اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

دو پاکستانی حکام کے حوالے سے اے پی نے رپورٹ کیا کہ یہ پیشکش لچکدار ہے اور اگر فریقین کسی اور مقام کو ترجیح دیں تو اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ایک اہلکار نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ پہلے دور کے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے، لیکن یہ ایک مسلسل سفارتی عمل کا حصہ ہیں، نہ کہ کوئی ایک مرتبہ کی کوشش۔


امریکہ، ایران مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے دو امریکی حکام اور ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ اور ایران ایک بار پھر براہ راست مذاکرات پر غور کر رہے ہیں تاکہ اگلے ہفتے جنگ بندی کے خاتمے سے پہلے چھ ہفتوں سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

اے پی کا کہنا ہے ان تینوں افراد نے بتایا کہ مذاکرات کے نئے دور کے حوالے سے بات چیت جاری ہے جبکہ ثالثی کرنے والے ممالک میں سے ایک کے سفارت کار کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن اس پر متفق ہو چکے ہیں۔

حساس سفارتی مذاکرات پر بات کرنے کے لیے چاروں افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی سے گفتگو کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سفارت کار اور امریکی حکام کے مطابق یہ واضح نہیں کہ آیا اسی سطح کے وفود اس ممکنہ دور میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

ان کے مطابق اسلام آباد (پاکستان) ایک بار پھر میزبان مقام کے طور پر زیر غور ہے۔

امریکی حکام نے یہ بھی کہا کہ جنیوا بھی ایک ممکنہ مقام ہو سکتا ہے اور اگرچہ مقام اور وقت کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس سے تاحال اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دوسری جانب سے ہم سے رابطہ کیا گیا ہے اور وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا