امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن (اے ایچ اے) کی ایک نئی سائنسی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر بالغ افراد کے لیے روزانہ 400 ملی گرام تک کیفین، یا تقریباً پانچ آٹھ اونس کپ کیفین والی کافی پینا محفوظ ہے، اور بعض افراد میں یہ دل کی بیماریوں کے خطرات کم ہونے سے بھی منسلک ہو سکتی ہے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے پیر کو شائع ہونے والے اپنے سائنسی بیان میں کہا کہ تازہ ترین تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ معتدل مقدار میں کافی کا استعمال دل کی بعض بیماریوں، فالج اور دل کی کمزوری کے خطرات میں کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بہت زیادہ کیفین، خصوصاً انرجی ڈرنکس اور انرجی شاٹس میں موجود مقدار، بلند فشار خون اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کا سبب بن سکتی ہے۔
سائنسی بیان تیار کرنے والی کمیٹی کے سربراہ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے پروفیسر گریگوری مارکس کے مطابق لاکھوں افراد کی روزمرہ زندگی میں کافی اہم کردار ادا کرتی ہے اور موجودہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغیر اضافی چینی، کریم یا ذائقوں والی کافی کی روزانہ پانچ کپ تک مقدار زیادہ تر لوگوں کے لیے محفوظ ہے اور دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت نہیں ہوتی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کافی پر ہونے والی تحقیق پیچیدہ ہے کیونکہ کافی میں کیفین کے علاوہ بھی کئی حیاتیاتی طور پر فعال مرکبات موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان مرکبات میں اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات پائی جا سکتی ہیں، جو بعض ممکنہ طبی فوائد کی وضاحت کرتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تحقیق کے مطابق کافی کا معمول کے مطابق استعمال ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کی بیماری، فالج، دل کی کمزوری اور بعض اقسام کی بے ترتیب دھڑکنوں کے کم خطرے سے بھی وابستہ پایا گیا۔ تاہم سائنس دانوں نے واضح کیا کہ موجودہ بیشتر مطالعات مشاہداتی نوعیت کی ہیں، اس لیے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ ان فوائد کی براہ راست وجہ کافی ہی ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ ان نتائج کا اطلاق بنیادی طور پر عام کافی پر ہوتا ہے، جبکہ انرجی ڈرنکس، کیفین شاٹس اور بہت زیادہ کیفین والی مصنوعات دل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایسی مصنوعات بلند فشار خون اور دل کی دھڑکن کے خطرناک مسائل سے منسلک دیکھی گئی ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا کہ صحت سے متعلق فوائد کا تعلق بنیادی طور پر سادہ بلیک کافی سے ہے، نہ کہ چینی، فلیور سیرپ یا کریم والی کافی سے۔ کچھ مطالعات کے مطابق روزانہ دو سے چار کپ کافی پینے والوں میں مجموعی شرح اموات کا خطرہ سب سے کم پایا گیا۔
فلٹر کے بغیر بنائی جانے والی کافی (جیسے فرانسیسی پریس یا ترک کافی) میں موجود بعض مرکبات ایل ڈی ایل (خراب کولیسٹرول) کو بڑھا سکتے ہیں۔
امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کیفین اور دل کی صحت کے تعلق کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔