پاکستان کے سپنرز نے اپنی ٹیم کو بظاہر سیریز برابر کرنے والی فتح کی راہ پر گامزن کر دیا ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم منگل کو ٹرینیڈاڈ میں کھیلے جا رہے دوسرے اور آخری ٹیسٹ کے تیسرے دن 103 رنز پر چھ وکٹیں گنوا بیٹھی۔ میزبان ٹیم کو صرف 60 رنز کی برتری حاصل ہے۔
عبداللہ شفیق کی ناقابلِ شکست 160 رنز کی اننگز نے یقینی بنایا کہ مہمان ٹیم رات بھر حاصل کی گئی بہترین پوزیشن مکمل طور پر ضائع نہ کرے اور بالآخر پہلی اننگز میں 387 رنز تک پہنچ جائے۔
اس کے بعد ساجد خان نے دن کی دوسری اہم کارکردگی پیش کرتے ہوئے دوسری اننگز میں چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ علی عثمان نے دو شکار کیے، جن میں میزبان کپتان روسٹن چیز کی وکٹ بھی شامل تھی، جنہیں دن کی آخری گیند پر خود کی گیند پر کیچ کیا۔
پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے جسٹن گریوز چوتھے دن کی صبح اپنی ٹیم کی امیدوں کا مرکز ہوں گے جبکہ مستقل اوپنر برینڈن کنگ کی بیٹنگ کے لیے دستیابی بدستور غیر یقینی ہے۔
ایک ایسی وکٹ پر جو مسلسل خراب ہو رہی ہے اور جہاں گیند تیزی سے ٹرن لے رہی تھی اور اچھال بھی غیر متوقع تھی، ویسٹ انڈین بائیں ہاتھ کے سپنر جومیل واریکن اتنے ہی مؤثر نظر آئے جتنے وہ 18 ماہ قبل ان ہی حریفوں کے خلاف ملتان میں تھے۔
اس میچ میں ان کے چھ وکٹوں کے عوض 112 رنز، جن میں پاکستانی اننگز سمیٹنے کے لیے چار گیندوں میں تین وکٹیں بھی شامل تھیں، آنے والے حالات کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔
تاہم دن کا آغاز پاکستان نے 266 رنز دو کھلاڑی آؤٹ کی مضبوط پوزیشن سے کیا تھا اور وہ ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز کے 344 رنز کے قریب پہنچ چکا تھا، لیکن پاکستانی کپتان بابر اعظم کی ایک غلط فیصلہ سازی نے بتدریج زوال کا آغاز کیا، کیونکہ مہمان ٹیم کی آخری آٹھ وکٹیں صرف 106 رنز کے اضافے پر گر گئیں۔
دوسرے دن کی دوپہر میں شان دار، پراعتماد اور دلکش سٹروک پلے کے ذریعے ویسٹ انڈیز کے بولرز کی خوب خبر لینے والے بابر تیسرے دن کے آغاز پر مکمل طور پر محتاط اور دباؤ کا شکار دکھائی دیے، گویا تقریباً چار سال بعد پہلی ٹیسٹ سنچری مکمل کرنے کا امکان ان پر حاوی ہو گیا تھا۔
انہوں نے رات کے 86 رنز میں صرف چند رنز کا اضافہ کیا تھا کہ ایک ایسے سنگل کے لیے دوڑ پڑے جو موجود ہی نہیں تھا۔ عبداللہ شفیق کی جانب سے واپس بھیجے جانے پر انہوں نے کریز میں پہنچنے کی بھرپور کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ پوائنٹ پر موجود برینڈن کنگ کی سیدھی تھرو نے بابر کو کریز سے باہر پایا۔
بابر کے آؤٹ ہونے پر ویسٹ انڈیز کی خوشی جلد ہی برینڈن کنگ کی صحت کے حوالے سے تشویش میں بدل گئی، کیونکہ وہ رن آؤٹ مکمل کرنے کے بعد میدان میں ہی گر گئے اور اٹھ نہ سکے۔
ان کی حالت کا کئی منٹ تک جائزہ لیا گیا، جس کے بعد انہیں سٹریچر پر میدان سے باہر لے جایا گیا۔ بعد ازاں تشخیص میں معلوم ہوا کہ انہیں کمر میں شدید کھنچاؤ (بیک سپازم) کا سامنا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس غیر متوقع کامیابی نے پاکستانی بیٹنگ لائن میں ایک مختصر مگر اہم بحران پیدا کر دیا، کیونکہ صرف پانچ رنز کے اضافے پر مزید تین وکٹیں گر گئیں۔ فاسٹ بولر شامر جوزف اور واریکن نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
ساجد خان نے عبداللہ شفیق کے ساتھ مل کر صورت حال کو کچھ حد تک سنبھالا اور دونوں نے ساتویں وکٹ کے لیے 59 رنز کی شراکت قائم کی، جس کے بعد ایک اور فاسٹ بولر جیڈن سیلز نے ساجد خان کو 30 رنز پر آؤٹ کر دیا۔
اب جب کہ نچلے درجے کے بلے بازوں پر مشتمل ٹیل اینڈرز سامنے تھے، واریکن نے اننگز سمیٹنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کیا۔ انہوں نے چار گیندوں میں تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ عبداللہ شفیق نان سٹرائیکر اینڈ پر کھڑے رہ گئے۔ یوں پاکستان کو اس بات پر افسوس کرنا پڑا کہ وہ کہیں زیادہ بڑی برتری حاصل کرنے کا موقع گنوا بیٹھا۔
واریکن 'شان دار' قرار
عبداللہ شفیق کی یہ اننگز ساڑھے سات گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہی، جس دوران انہوں نے 323 گیندوں کا سامنا کیا اور 15 چوکے اور تین چھکے لگائے۔
ویسٹ انڈیز کے بولنگ کوچ روی رامپال نے کہا: 'جومیل آج ہمارے لیے واقعی شان دار رہے۔ انہوں نے وکٹ ٹو وکٹ بولنگ کی اور اننگز کو بہترین انداز میں ختم کیا۔'
انہوں نے مزید کہا: 'تاہم اس مرحلے پر، اور جس طرح وکٹ کھیل رہی ہے، اگر ہم کسی طرح برتری کو 150 رنز تک پہنچا لیں تو ہمارے پاس جیت کا موقع موجود ہوگا۔'
ساجد خان آخری سیشن میں اپنی بہترین فارم میں نظر آئے۔ انہوں نے پہلے ٹیگنرین چندرپال اور عامر جنگو کو جلدی آؤٹ کیا، پھر شائے ہوپ اور نائٹ واچ مین جیڈن سیلز کو بھی اپنی وکٹوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔
روسٹن چیز دوسرے اینڈ سے اپنی ٹیم کی تباہی دیکھتے رہے، لیکن بالآخر وہ خود بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہو کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کی وکٹ کے بعد ان کا ردعمل تقریباً وہی تھا جو سات گھنٹے قبل بابر اعظم کے مایوس کن انداز میں پویلین واپسی کے وقت دیکھا گیا تھا۔