’تین سی سیکشن کے بعد خواتین کی نس بندی‘: وزیر صحت سندھ کے بیان پر بحث

سندھ کی وزیر صحت و بہبودِ آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ تیسرے سیزیرین آپریشن (سی سیکشن) کے بعد خواتین کی ’ٹیوبل لیگیشن‘ یا ’نس بندی‘ کر دینی چاہیے۔

سندھ کی وزیر صحت و بہبودِ آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے ایک حالیہ بیان نے طبی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تیسرے سیزیرین آپریشن (سی سیکشن) کے بعد خواتین کی ’ٹیوبل لیگیشن‘(Tubal Ligation) یا ’نس بندی‘ کر دینی چاہیے۔

یہ بیان انہوں نے 24 جولائی کو کراچی میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے شعبۂ امراضِ نسواں میں چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ کے دوران دیا۔

اس بیان کے بعد سوشل میڈیا سمیت طبی اور سماجی حلقوں میں اس تجویز کے طبی، اخلاقی اور قانونی پہلوؤں پر بحث شروع ہو گئی جبکہ کئی سوالات بھی اٹھائے گئے کہ آیا یہ محض طبی سفارش ہے یا مستقبل میں کسی پالیسی کا حصہ بن سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہ کیا ٹیوبل لیگیشن ہی واحد حل ہے؟

ان سب سوالات سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ آخر ٹیوبل لیگیشن کیا ہے۔

ٹیوبل لیگیشن، جسے عام طور پر فیلوپین ٹیوبیں بند کروانا، رحم کی نالیوں کی بندش یا نس بندی بھی کہا جاتا ہے، حمل سے بچاؤ کا ایک مستقل جراحی طریقہ ہے، جس میں ڈاکٹر خواتین کی فیلوپین ٹیوبوں کو کاٹ دیتے ہیں، باندھ دیتے ہیں یا بند کر دیتے ہیں۔ اس طرح بیضہ نطفے سے نہیں مل پاتا اور حمل ٹھہرنے کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔

وزیر صحت کے بیان کے بعد ایک ماں کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات؟

کراچی کی رہائشی اور دو بچوں کی والدہ مہرین شعیب کے مطابق ان کے لیے یہ صرف ایک خبر نہیں تھی بلکہ ایک ایسا سوال تھا، جو ان کے اپنے مستقبل سے جڑا ہوا تھا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ان کے ’دونوں بچے سیزیرین آپریشن کے ذریعے پیدا ہوئے، دونوں کے درمیان تقریباً دو سال کا وقفہ رکھا گیا اور ہرحمل کے دوران انہوں نے اپنی گائناکالوجسٹ کی ہدایات پر عمل کیا۔‘

اب وہ تیسرے بچے کی خواہش رکھتی ہیں، اگرچہ انہیں معلوم ہے کہ اس کی پیدائش بھی ممکنہ طور پر سیزیرین کے ذریعے ہی ہوگی، لیکن وزیرِ صحت سندھ کے اس بیان نے انہیں تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

مہرین کہتی ہیں کہ ’اگر حکومت اس حوالے سے کوئی پالیسی بنانے پر غور کر رہی ہے تو سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ کیا یہ صرف ایک طبی مشورہ ہوگا یا لازمی اقدام؟‘

ان کے مطابق بچوں کی تعداد، حمل کا فیصلہ اور مستقل مانع حمل طریقہ اختیار کرنا میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ہونا چاہیے، نہ کہ کسی یکطرفہ فیصلے کے تحت۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر کسی خاندان میں دو یا تین بیٹے یا دو یا تین بیٹیاں ہیں اور وہ کسی ذاتی یا سماجی وجہ سے ایک اور بچے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔ حکومت کا کردار معلومات اور سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے، فیصلہ کرنا نہیں۔‘

مہرین نے ایک اور سوال بھی اٹھایا، جو اکثر اس بحث میں نظر انداز ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’خواتین کی ٹیوبل لیگیشن کی بات کیوں ہوتی ہے؟ مردوں کے لیے بھی مستقل مانع حمل طریقہ یعنی ویسیکٹومی (مردانہ نس بندی) موجود ہے، لیکن اس کے بارے میں نہ آگاہی دی جاتی ہے اور نہ ہی اس پر کھل کر بات ہوتی ہے۔‘

ان کے نزدیک خاندانی منصوبہ بندی صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں بلکہ شوہر اور بیوی دونوں کا مشترکہ فیصلہ ہونا چاہیے۔

دوسری جانب ماہرین صحت اس بحث کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔

گائنا کولوجسٹ طاہرہ یاسمین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں وزیر صحت کے بیان پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹیوبل لیگیشن خاندانی منصوبہ بندی کا واحد حل نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے کئی مؤثر اور محفوظ طریقے موجود ہیں۔

بقول طاہرہ یاسمین: ’حمل میں وقفہ رکھنے کے لیے مختلف طریقے دستیاب ہیں، جن میں آئی یو سی ڈی (IUCD) اور جلد کے نیچے لگایا جانے والا امپلانٹ شامل ہیں۔ یہ ایسے طریقے ہیں جن کے مضر اثرات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں ہٹا کر دوبارہ حمل بھی ٹھہرایا جا سکتا ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’ٹیوبل لیگیشن محفوظ ضرور ہے، مگر ناقابلِ واپسی طریقہ ہے۔‘

اسی معاملے پر گائنا کولوجسٹ شاہین ظفر سمجھتی ہیں کہ یہ ایک خاتون کی زندگی سے متعلق نہایت اہم اور ذاتی نوعیت کا فیصلہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’تین سیزیرین آپریشنز کے بعد ٹیوبل لیگیشن کو لازمی قرار دینے جیسی کوئی پالیسی اگر بن بھی جاتی ہے تواس  پر عملدرآمد ممکن دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ یہ ایک خاتون کی زندگی سے متعلق نہایت اہم اور ذاتی نوعیت کا فیصلہ ہے۔‘

ان کے مطابق: ’ٹیوبل لیگیشن ایک مستقل مانع حمل طریقہ ہے، جس کے بعد خاتون قدرتی طور پر دوبارہ حاملہ نہیں ہو سکتی۔ ایسے میں اس فیصلے کے طبی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ سماجی اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات ایسی صورتِ حال خواتین کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دیتی ہے کیونکہ کچھ مرد دوسری شادی کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔‘

شاہین ظفر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کی ذمہ داری زیادہ تر خواتین پر ڈال دی جاتی ہے جبکہ مردوں کی شمولیت نہایت محدود ہے۔ ان کے مطابق مردوں کی نس بندی (ویسیکٹومی) ایک محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے اور جناح ہسپتال میں اس کی سہولت بھی دستیاب ہے، لیکن اس کے باوجود اس کا رجحان انتہائی کم، تقریباً ایک فیصد ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ مردوں کی نس بندی کو اب بھی ہمارے معاشرے میں ایک ممنوع موضوع کیوں سمجھا جاتا ہے، حالانکہ تعلیم یافتہ طبقے میں ایسے افراد موجود ہیں جو یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔‘

شاہین ظفر کے مطابق: ’ٹیوبل لیگیشن سے متعلق کسی بھی قانون یا پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ فیصلہ مکمل طور پر خاتون کی آزادانہ اور باخبر رضامندی سے کیا جائے۔‘

کشھ سماجی حلقے اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی صرف خواتین نہیں بلکہ مردوں کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اس معاملے پر تحریک نسواں کی بانی شیما کرمانی نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’صرف خواتین پر ذمہ داری ڈالنے کے بجائے مردوں کی شمولیت بھی ضروری ہے۔ ویسیکٹومی مردوں کے لیے ایک محفوظ اور نسبتاً آسان طریقہ ہے، لیکن اس حوالے سے معاشرے میں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔‘

انہوں نے زور دیا کہ ’خواتین کی صحت اور جسم سے متعلق ہر فیصلہ ان کی آزادانہ اور باخبر رضامندی سے ہونا چاہیے۔‘

ان کے مطابق پاکستان میں زچگی کے دوران اموات اب بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں تربیت یافتہ دائیوں اور معیاری طبی سہولیات کی کمی ہے۔ بقول شیما کرمانی: ’ان سہولیات کی فراہمی اور آگاہی مہمات ہی اس مسئلے کا زیادہ مؤثر حل ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے رابطہ کرنے پر وزیرِ صحت سندھ کے ترجمان نے ان کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’طبی اعتبار سے یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ تین سیزیرین (C-Sections) کے بعد اگلا حمل ماں کی صحت اور زندگی کے لیے غیر معمولی حد تک خطرناک ہو سکتا ہے، اسی لیے طبی تعلیم میں بھی اس حوالے سے احتیاط پر زور دیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ان کے بیان کا مقصد عوام میں اس طبی حقیقت سے متعلق آگاہی پیدا کرنا تھا۔‘

تاہم ان کے مطابق: ’اگر مستقبل میں یہ مسئلہ بدستور سنگین رہا تو طبی ماہرین اور کابینہ کے اراکین کی مشاورت سے اس حوالے سےکسی پالیسی پر غور کیا جا سکتا ہے۔‘

ترجمان وزیر صحت نے مزید بتایا کہ ’اس سلسلے میں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن اور محکمۂ صحت سندھ کے ماتحت اداروں کے ذریعے آگاہی اور دیگر اقدامات کیے جائیں گے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’محکمۂ صحت ڈاکٹروں کو ویسیکٹومی کی تربیت دے رہا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین