ایران کی خاتم الانبیا فوجی کمانڈ نے ہفتے کو آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
بقائی نے ایک بیان میں کہا ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے ایران کا اصول ’عہد کے بدلے عہد‘ ہے اور اگر دوسرا فریق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا تو ایران ضروری اقدامات کرے گا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں پر دوسرے فریق کی جانب سے عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ایران کے ردعمل سے متعلق سوال پر اسماعیل بقائی نے کہا ’ہم نے یہ معاہدہ اس لیے نہیں کیا کہ اس پر عمل نہ ہو۔
’یہ مفاہمت کئی ہفتوں پر محیط انتہائی گہرے مذاکرات، ثالث ممالک کی کوششوں، ایران کی نیک نیتی اور سب سے بڑھ کر قومی طاقت اور یکجہتی کی حمایت کے نتیجے میں طے پائی ہے۔‘
تکنیکی مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں: پاکستان
پاکستان کے دفتر خارجہ نے آج ایک بیان میں بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان فنی سطح کے مذاکرات 21 جون کو برگن سٹاک، سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔
بیان کے مطابق امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے علاوہ پاکستان اور قطر کے ثالث بھی ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان اپنی ثالثی کے کردار میں اس عمل کو سہولت فراہم کرتا رہے گا تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی تفہیم کو آگے بڑھایا جا سکے۔
پاکستانی وزیر داخلہ کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات
اس سے قبل پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی آج ایران پہنچے جہاں انہوں نے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کر کے دوطرفہ امور اور حالیہ سفارتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
ارنا کے مطابق یہ ملاقات ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور ان سے متعلق پاکستانی حکام کی سفارتی مشاورتوں کے سلسلے کی کڑی ہے۔
محسن نقوی اس سے قبل 17 جون کو بھی تہران کے دورے کے دوران عراقچی سے ملاقات کر چکے ہیں۔
پاکستانی وزیر داخلہ کا دورہ ایران
اس سے قبل پاکستانی وزارت داخلہ کے اعلیٰ عہدے دار نے نامہ نگار قرہ العین شیرازی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ محسن نقوی ’کچھ دیر قبل مشہد پہنچے ہیں۔ وہ یہاں سے تہران کے لیے روانہ ہوں گے۔‘
ایرانی نیوز ایجسنی ارنا کے مطابق ’محسن نقوی کے دورہ مشہد کے دوران روضہ امام رضا پر حاضری بھی ان کے پروگرام میں شامل ہے۔‘
اس سے قبل ارنا نے رپورٹ کیا تھا کہ محسن نقوی ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ارنا نے اس حوالے سے مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں اور تہران کی جوابی کاررائیوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ پر چھائے جنگ کے بادلوں اور آبنائے ہرمز کی بندش نے پوری دنیا کو متاثر کیا تھا۔
پاکستان نے اس سلسلے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی اور اس کے بعد بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس دوران ایران کے متعدد دورے کیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا یہ حالیہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب 18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کیے تھے اور بعدازاں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اس معاہدے پر بطور ثالث دستخط کیے۔
اس پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ پر چھائے جنگ کے بادل چھٹنے کی امید پیدا ہوئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اس معاہدے کو فوری طور پر نافذ العمل ہونا ہے اور اس سے جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے جب کہ دونوں فریقوں کو بڑے مسائل پر وسیع تر معاہدے طے کرنے کے لیے 60 دن دیے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں 20 جون کو وسطی سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاک ریزورٹ میں مذاکرات ہونے تھے، تاہم انہیں ملتوی کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ لبنان میں اسرائیلی حملے بتایا گیا۔
ایران امریکہ سے جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بند کی جائیں۔ بعدازاں جمعے کو اسرائیل اور لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
جمعے کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں، جہاں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پہلے سے موجود ہیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کو وہاں جائیں گے۔

