آبنائے ہرمز پھر بند، امریکہ - ایران مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں

دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں پاکستان اور قطر کے ثالث بھی شرکت کریں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم سے حاصل کردہ تصویر میں پاسدران انقلاب مبینہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو قبضے میں لینے کی کارروائی کر رہی ہے۔ یہ واقعہ 21 اپریل، 2026 کو پیش آیا

ایران کی خاتم الانبیا فوجی کمانڈ نے ہفتے کو آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

خبر رساں ایجنسی ارنا نے کمانڈ کے ایک بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ فیصلہ ’امریکہ کی جنگ بندی معاہدے کی پہلی شق کی کھلی خلاف ورزی‘ اور جنوبی لبنان میں ’اسرائیلی حکومت کی مسلسل اور بلا تعطل جنگ بندی خلاف ورزیوں‘ کے ردعمل میں کیا گیا۔‘
 
بیان کے مطابق جنوبی لبنان میں ’لاکھوں مظلوم افراد کے بے رحمانہ قتل اور بے دخلی اور اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے جنوبی لبنان سے انخلا میں ناکامی کو بھی اس فیصلے کی وجوہات میں شامل کیا گیا ہے۔‘
 
خاتم الانبیا فوجی کمانڈ نے کہا کہ ان حالات کے پیش نظر آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
 
’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کے لیے کسر نہیں چھوڑیں گے‘
 
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ’ایران کا مذاکراتی وفد چند لمحوں میں سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گا۔‘

بقائی نے ایک بیان میں کہا ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے ایران کا اصول ’عہد کے بدلے عہد‘ ہے اور اگر دوسرا فریق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا تو ایران ضروری اقدامات کرے گا۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں پر دوسرے فریق کی جانب سے عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ایران کے ردعمل سے متعلق سوال پر اسماعیل بقائی نے کہا ’ہم نے یہ معاہدہ اس لیے نہیں کیا کہ اس پر عمل نہ ہو۔

’یہ مفاہمت کئی ہفتوں پر محیط انتہائی گہرے مذاکرات، ثالث ممالک کی کوششوں، ایران کی نیک نیتی اور سب سے بڑھ کر قومی طاقت اور یکجہتی کی حمایت کے نتیجے میں طے پائی ہے۔‘

تکنیکی مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں: پاکستان

پاکستان کے دفتر خارجہ نے آج ایک بیان میں بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان فنی سطح کے مذاکرات 21 جون کو برگن سٹاک، سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔

بیان کے مطابق امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے علاوہ پاکستان اور قطر کے ثالث بھی ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان اپنی ثالثی کے کردار میں اس عمل کو سہولت فراہم کرتا رہے گا تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی تفہیم کو آگے بڑھایا جا سکے۔

پاکستانی وزیر داخلہ کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات

اس سے قبل پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی آج ایران پہنچے جہاں انہوں نے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کر کے دوطرفہ امور اور حالیہ سفارتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

ارنا کے مطابق یہ ملاقات ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور ان سے متعلق پاکستانی حکام کی سفارتی مشاورتوں کے سلسلے کی کڑی ہے۔ 

محسن نقوی اس سے قبل 17 جون کو بھی تہران کے دورے کے دوران عراقچی سے ملاقات کر چکے ہیں۔

پاکستانی وزیر داخلہ کا دورہ ایران

اس سے قبل پاکستانی وزارت داخلہ کے اعلیٰ عہدے دار نے نامہ نگار قرہ العین شیرازی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ محسن نقوی ’کچھ دیر قبل مشہد پہنچے ہیں۔ وہ یہاں سے تہران کے لیے روانہ ہوں گے۔‘

ایرانی نیوز ایجسنی ارنا کے مطابق ’محسن نقوی کے دورہ مشہد کے دوران روضہ امام رضا پر حاضری بھی ان کے پروگرام میں شامل ہے۔‘

اس سے قبل ارنا نے رپورٹ کیا تھا کہ محسن نقوی ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ارنا نے اس حوالے سے مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔

28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں اور تہران کی جوابی کاررائیوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ پر چھائے جنگ کے بادلوں اور آبنائے ہرمز کی بندش نے پوری دنیا کو متاثر کیا تھا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

پاکستان نے اس سلسلے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی اور اس کے بعد بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں۔

پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس دوران ایران کے متعدد دورے کیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا یہ حالیہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب 18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کیے تھے اور بعدازاں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اس معاہدے پر بطور ثالث دستخط کیے۔ 

اس پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ پر چھائے جنگ کے بادل چھٹنے کی امید پیدا ہوئی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان اس معاہدے کو فوری طور پر نافذ العمل ہونا ہے اور اس سے جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے جب کہ دونوں فریقوں کو بڑے مسائل پر وسیع تر معاہدے طے کرنے کے لیے 60 دن دیے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں 20 جون کو وسطی سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاک ریزورٹ میں مذاکرات ہونے تھے، تاہم انہیں ملتوی کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ لبنان میں اسرائیلی حملے بتایا گیا۔

ایران امریکہ سے جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بند کی جائیں۔ بعدازاں جمعے کو اسرائیل اور لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔

جمعے کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں، جہاں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پہلے سے موجود ہیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کو وہاں جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا