انڈیا: بیڈمنٹن ورلڈ چیمپئن شپ کے دوران بندروں کو کیسے بھگایا جائے گا؟

یہ غیر معمولی انوکھا اقدام ان رکاوٹوں کے بعد کیا گیا، جب دارالحکومت دہلی کے اندرا گاندھی انڈور سٹیڈیم میں ایک بندر تماشائیوں کے سٹینڈز اور پریکٹس ہال میں دیکھا گیا تھا۔

نئی دہلی میں 2 دسمبر 2022 کو بندر پولیس بیریکیڈ پر سے گزر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

بیڈمنٹن ورلڈ چیمپئن شپ کے انڈین منتظمین نے بندروں کو بھگانے کے لیے لنگور کی آوازیں نکالنے کے تربیت یافتہ تین افراد کو ملازم رکھا ہے، تاکہ ٹورنامنٹ کو کسی شرمندگی کا باعث بننے والی رکاوٹ سے محفوظ رکھا جا سکے۔

یہ غیر معمولی اقدام اس سال کے آغاز میں انڈیا اوپن کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں کے بعد کیا گیا، جب دارالحکومت دہلی کے اندرا گاندھی انڈور سٹیڈیم میں ایک بندر تماشائیوں کے سٹینڈز اور پریکٹس ہال میں دیکھا گیا تھا۔

کھلاڑیوں اور شائقین نے اس جانور کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں، جس سے عالمی سطح پر منتظمین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ سالانہ بیڈمنٹن ایونٹ انڈیا اوپن اس وقت بھی متاثر ہوا تھا جب کبوتروں نے کورٹ اور پریکٹس ایریاز میں بیٹ کر دی تھی۔

یہی سٹیڈیم، جہاں 17 اگست سے بی ڈبلیو ایف ورلڈ چیمپئن شپ 2026 کا آغاز ہو رہا ہے، اس کے بعد جانوروں اور پرندوں کو باہر رکھنے کے لیے ازسرنو تیار کیا گیا ہے۔

اس کے وینٹی لیٹر کے سوراخ ڈھانپ دیے گئے ہیں، ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں بند کر دی گئی ہیں، اور اندرونی ہال کے تمام 16 داخلی راستوں پر ڈبل دروازے نصب کر دیے گئے ہیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، کبوتروں کو بیٹھنے سے روکنے کے لیے ایئر کنڈیشننگ پائپوں پر جراثیم کش جیل لگائی گئی ہے۔ پرندوں کو دور رکھنے اور بھگانے کے لیے امریکہ میں تیار کردہ ایک پیٹنٹ شدہ آلہ بھی سٹیڈیم میں نصب کیا جائے گا۔

ان اقدامات کے ساتھ ساتھ، تین افراد کو بندروں کو بھگانے کے لیے لنگور کی آوازیں نکالنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

لنگور کی آوازیں نکالنے والے افراد میں سے ایک، جنہیں مقامی میڈیا نے جبار کے نام سے شناخت کیا، نے پیر کو کہا: ’صرف میں ہی نہیں ہوں، میرے ساتھ دو اور لوگ بھی ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’جب ہم یہ آوازیں نکالتے ہیں تو بندر فوراً بھاگ جاتے ہیں۔ ہم یہ بھی یقینی بناتے ہیں کہ بندر لوگوں یا گاڑیوں وغیرہ کی طرف نہ دوڑیں۔ ہم اسی مناسبت سے آوازیں نکالتے ہیں۔ یہ طریقہ خاصا مؤثر ہے۔‘

ہندوستان ٹائمز نے ان کا یہ بیان رپورٹ کیا کہ ’روزگار مستقل نہیں ہوتا، لیکن وقتاً فوقتاً کام ملتا رہتا ہے۔ ہم جیسے بہت سے لوگ یہ کام کرتے ہیں۔‘

کئی برسوں تک تربیت یافتہ سرمئی لنگوروں کو عوامی مقامات پر بندروں کو بھگانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، کیونکہ ریسس مکاک نسل کے بندر ان سے خوف کھاتے تھے۔

تاہم یہ طریقہ اس وقت بند کر دیا گیا جب اس نسل کو وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت تحفظ حاصل ہو گیا، جس کے بعد انہیں قید میں رکھنا، نجی ملکیت میں رکھنا یا نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ممنوع قرار دے دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2010  کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کے دوران دہلی میں لنگور تعینات کیے گئے تھے۔ تاہم 2023 کے جی20 سربراہ اجلاس میں منتظمین نے تربیت یافتہ افراد سے لنگور کی آوازیں نکلوائیں اور مکاک بندروں کو دور رکھنے کے لیے لنگوروں کی حقیقی جسامت کے برابر کٹ آؤٹس بھی نصب کیے۔

ایک دوسرے نقال، جنہیں ظفر کے نام سے شناخت کیا گیا، نے روئٹرز سے کہا کہ بندر لنگوروں سے بے حد خوفزدہ ہوتے ہیں، اسی لیے ان کی آواز کی نقل اتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ میں کئی سرکاری دفاتر میں خدمات انجام دے چکا ہوں اور مقصد بندروں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ وہ یہاں نہ آئیں۔‘

جبار نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ لنگور کی آواز نکالنے کی مہارت ان کے خاندان میں نسل در نسل منتقل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا: ’میں نے یہ اپنے والد سے سیکھی تھی، لیکن میں نہیں چاہتا کہ میرا بیٹا یہ کام کرے۔‘

انڈیا کی سٹار بیڈمنٹن کھلاڑی اور سابق عالمی چیمپئن پی وی سندھو نے لنگور کی آوازیں نکالنے والوں کی خدمات حاصل کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’آپ اس حل پر ہنس سکتے ہیں، لیکن اس کوشش کو سراہنا بھی چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’بہت سے لوگ پس منظر میں کام کر رہے ہیں تاکہ دنیا کے استقبال کے لیے انڈیا پوری طرح تیار ہو۔ ہمارے حل شاید منفرد طور پر انڈین ہوں، لیکن ہماری گرم جوشی، ہمارا جذبہ اور ہماری مہمان نوازی بھی اتنی ہی منفرد ہے۔‘

بیڈمنٹن ایسوسی ایشن آف انڈیا کے جنرل سیکریٹری سنجے مشرا نے سپورٹس سٹار کو بتایا کہ حکام نے گذشتہ ٹورنامنٹ کے دوران سٹیڈیم کی روشنی کے نظام میں بھی مسائل کی نشاندہی کی تھی، جس کے بعد ورلڈ چیمپئن شپ سے قبل اسے بہتر بنایا گیا ہے۔

سپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امبر پرتاپ سنگھ کے مطابق، وسیع پیمانے پر جاری تزئین و آرائش کے کاموں میں 2,500 نشستوں اور سٹیڈیم کمپلیکس کے 66 میں سے 57 واش رومز کی مرمت بھی شامل ہے۔

انڈیا دوسری مرتبہ ورلڈ چیمپئن شپ کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس سے قبل 2009 میں حیدرآباد کے گاچی باؤلی انڈور سٹیڈیم میں یہ ٹورنامنٹ منعقد کیا گیا تھا۔

انڈیا اوپن کو تنقید کا سامنا کرنے کے بعد بی ڈبلیو ایف ورلڈ چیمپئن شپ جیسے معتبر ایونٹ کی میزبانی کرنے کی انڈیا کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

ٹورنامنٹ میں شی یو چی، اکانے یاماگوچی، کم وون ہو اور سیو سیونگ جے، لیو شینگ شو اور تان ننگ، اور چن تانگ جیے اور توہ ای وی جیسے سرفہرست کھلاڑی شرکت کریں گے۔ میزبان ملک کی نمائندگی پی وی سندھو، لکشیا سین، اور ڈبلز جوڑی ستوک سائیراج رنکی ریڈی اور چراگ شیٹی کریں گے۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل