ایلون مسک کی کمپنی کا تجربات کے دوران بندروں کی موت کا اعتراف

ٹیسلا کے بانی ایلون مسک کی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی نیورولنک نے اپنی برین چپ ٹیکنالوجی کے تجربات کے دوران آٹھ جانوروں کی موت کا اعتراف کیا ہے لیکن ان الزامات کی تردید کی ہے کہ بندروں کو ’شدید تکلیف‘ پہنچائی گئی۔

ایلون مسک دس فروری کو ایک پریس کانفرنس کے  دوران سوچ و بچار کرتے ہوئے (اے ایف پی)

دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ایلون مسک کی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی نیورولنک نے اپنی برین چپ ٹیکنالوجی کے تجرباتی مراحل میں آٹھ بندروں کی موت کا اعتراف کیا ہے لیکن ان الزامات کی تردید کی ہے کہ بندروں کو ’شدید تکلیف‘ سے گزرنا پڑا۔

 گذشتہ ہفتے فزیشنز کمیٹی فار رسپانسبل میڈیسن (پی سی آر ایم) نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ڈیوس پرائمیٹ سینٹر میں نیورولنک کے تحقیقی بندروں کی’ناکافی دیکھ بھال‘ کے متعلق شکایت کی تھی۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ نے الزام لگایا کہ نیورولنک نے جانوروں کی فلاح و بہبود کے قانون کی نو خلاف ورزیاں کیں اور کہا یہ ’انتہائی مشکوک‘ ہے کہ کمپنی رواں سال انسانی رضاکاروں پر تجربات کا ارادہ رکھتی ہے۔

فزیشنز کمیٹی فار رسپانسبل میڈیسن (پی سی آر ایم) نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تجربات کے دوران 15 بندروں کی موت ہوئی۔ تاہم نیورو لنک کی جانب سے صرف آٹھ کی تصدیق کی گئی۔

پیر کو شائع ہونے والی ایک بلاگ پوسٹ میں نیورولنک نے تحقیق میں جانوروں کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام جدید طبی آلات اور علاج‘ کو اخلاقی طور پر انسانوں پر آزمانے سے پہلے جانوروں پر آزمایا جانا چاہیے۔

فرم نے کہا کہ ’نیورولنک میں ہم انسانیت کے ساتھ اور اخلاقی طریقے سے جانوروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔‘

بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ ’ہر جانور کو استعمال کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی کی گئی تھی اور جانوروں کے اخلاقی دائرے میں استعمال کے ساتھ سائنسی دریافت کو متوازن کرنے پر غور کیا گیا تھا۔

کمپنی نے ان جگہوں کی تصاویر شیئر کیں جہاں لیب کے جانوروں کو رکھا گیا ہے اور دعوی کیا کہ انہوں نے رہنے کی جگہ کے لیے صنعتی ضوابط سے 150 گنا زیادہ جگہ مختص کی ہے۔

بندروں کی غذا کی تفصیلات اور تصاویر بھی بلاگ پر پوسٹ کا حصہ تھیں جس کی نگرانی ’جانوروں کے ڈاکٹر، ویٹرنری تکنیکی ماہرین، جانوروں کا رویہ سمجھنے والے، افزودگی تکنیکی ماہرین اور جانوروں کی دیکھ بھال کے ماہرین پر مشتمل ایک بڑی ٹیم کرتی ہے۔‘

کمپنی نے 2020 میں ایک عوامی ڈیمو کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیورو لنک نے کبھی بھی کسی جانور کو تربیتی کام میں حصہ لینے پر مجبور نہیں کیا۔ اس ڈیمو میں گرٹروڈ نامی خنزیر نے سٹیج پر آنے کی بجائے چارہ کھانے کا انتخاب کیا تھا۔

کمپنی نے بتایا کہ ’آج گرٹی اپنے دو بہترین دوستوں ہیریئٹ اور فریڈا کے ساتھ فارم میں زندگی گزار رہی ہے۔‘

نیورولنک نے دعویٰ کیا وہ تجربات میں حصہ لینے والے ان متعدد جانوروں میں سے ایک تھی جو مطالعہ میں اپنا حصہ ڈالنے کے بعد پناہ گاہوں میں ریٹائر ہو گئے تھے۔

بلاگ نے اختتام  پر لکھا گیا کہ ’نیورولنک میں، ہم جانوروں کی صحت کے موجودہ معیارات سے مطمئن نہیں اور ہم ہمیشہ ان جانوروں کے لیے مزید کام کرنے پر زور دیں گے جو انسانیت کے لیے بہت زیادہ حصہ ڈال رہے ہیں۔‘

’ہم ایک ایسے دن کے بھی منتظر ہیں جب طبی تحقیق کے لیے جانوروں کی ضرورت نہیں رہے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیورولنک نے اعتراف کیا کہ تجربات کے دوران آٹھ جانوروں کی موت ہوئی: ’دو اہم ہسٹولوجیکل ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے طے شدہ تاریخوں پر اور چھ سرجیکل پیچیدگیوں، مشین کی ناکامیوں یا آلے سے وابستہ انفیکشن کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔‘

نیورو لنک نے کہا کہ ’ان واقعات کے باوجود کمپنی کو کبھی بھی امریکی محکمہ زراعت کی جانب سے ان کی سہولیات اور جانوروں کی دیکھ بھال کے پروگرام کے معائنے کا نوٹس نہیں آیا اور انہیں ایسوسی ایشن فار دی اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیشن آف لیبارٹری اینیمل کیئر (اے اے اے ایل اے سی) انٹرنیشنل سے تسلیم کیا گیا ہے۔‘

نیورولنک کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی حالیہ ملازمت کی فہرستوں سے پتہ چلتا ہے کہ  کمپنی اپنی برین کمپیوٹر انٹرفیس ٹیکنالوجی کا پہلا انسانی تجربہ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

کمپنی اس ٹیکنالوجی کو انسانی اور مصنوعی ذہانت کے ملاپ کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ ابتدائی طور پر اسے دماغی امراض اور بیماریوں میں مبتلا افراد کے علاج کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا