بندر نے طویل وقت تک ویڈیو گیم کھیل کر سائنس دانوں کو کیسے حیران کیا؟

محققین کے مطابق یہ نتائج اس بات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ تجسس کس طرح جانوروں کے رویے کو متاثر کرتا ہے۔

ایک گیمنگ زون میں مختلف سکرینز اور گیمنگ کونسولز رکھے ہیں (اینواتو)

ایک نئی تحقیق میں بندروں نے رضاکارانہ طور پر طویل وقت تک ٹچ سکرین ویڈیو گیم کھیلی، وہ بھی صرف تجسس میں، بطور انعام خوراک کے بغیر، جس نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا۔

محققین کے مطابق یہ نتائج اس بات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ تجسس کس طرح جانوروں کے رویے کو متاثر کرتا ہے۔

تجسس خوراک یا ملاپ جیسے بیرونی انعامات سے آزاد ہو کر جانوروں کو اپنے ماحول کی کھوج پر آمادہ کرتا ہے۔

تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ کسی جانور کے ماحول کے کون سے پہلو دوسروں کی نسبت زیادہ تجسس پیدا کرتے ہیں۔

محققین کا نظریہ ہے کہ تجسس عموماً درمیانی درجے کی پیچیدگی یا غیر یقینی صورتحال والی چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے، جبکہ بہت زیادہ سادہ یا بہت زیادہ پیچیدہ حالات سے گریز کرتا ہے۔

اسے ’گولڈی لاکس اصول‘ کہا جاتا ہے، اور یہی انسانی تجسس کی بھی ایک خصوصیت ہے۔

تاہم جانوروں میں اس رجحان پر بہت کم تحقیق ہوئی ہے۔

جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے بندروں کو ایک ٹچ سکرین ویڈیو گیم دے کر جانچا کہ ان میں تجسس کیسے کام کرتا ہے۔

حالیہ برسوں میں ویڈیو گیمز انسانی ذہنی صلاحیتوں کی تربیت اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے آلات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

تحقیقات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آیا ویڈیو گیمز لیبارٹریوں اور چڑیا گھروں میں جانوروں کی دلچسپی بڑھا سکتی ہیں اور ان کی فلاح میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

مطالعے کی مصنفہ ساکومی اکی نے کہا: ’میں پہلے جنگلی بندروں کے کھیلنے کے رویے کا مطالعہ کرتی تھی، اس لیے میں طویل عرصے سے چاہتی تھی کہ لیبارٹری میں ایسے حالات پیدا کروں جہاں بندروں کا کھیلنے کا رویہ قدرتی طور پر سامنے آئے۔‘

محققین نے جاننا چاہا کہ کس قسم کے محرکات جاپانی مکاک بندروں میں تجسس پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے چھپن چھپائی سے متاثر ایک ٹچ سکرین گیم تیار کی۔

اس کھیل میں جب بندر ٹچ سکرین پر بٹن دباتا، تو ایک پُتلا سکرین پر بٹنز کے مطابق مختلف مقام پر ظاہر ہوتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پُتلے کی نمودار ہونے کی جگہ مختلف درجے کے شور سے منسلک تھی، یعنی شور جتنا زیادہ ہوتا، پُتلا اتنی ہی کم متوقع جگہ پر نمودار ہوتا۔

سائنس دانوں نے درمیانے شور اور کم شور، پھر درمیانے شور اور زیادہ شور پر بندروں کے ردعمل کا مشاہدہ کیا۔

انہوں نے پایا کہ بندروں نے درمیانے شور والا بٹن منتخب کیا، جس سے پُتلا ایسی جگہ ظاہر ہوتا تھا جو کسی حد تک متوقع مگر پھر بھی معتدل غیر یقینی ہوتی تھی۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکاک بندر بھی انسانوں کی طرح درمیانی درجے کی غیر یقینی صورتحال والی چیزوں کو دریافت کرنے کا رجحان رکھتے ہیں، نسبتاً ان چیزوں کے جو بہت سادہ یا بہت زیادہ بے ترتیب ہوں۔

بندروں نے طویل وقت تک یہ کھیل جاری رکھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کھیل نے ان کے تجسس کو ابھارا۔

ڈاکٹر اکی نے کہا: ’عام ذہنی آزمائشی کاموں میں بندروں کو متحرک رکھنے کے لیے عموماً خوراکی انعام دیا جاتا ہے، اس لیے مجھے یقین نہیں تھا کہ وہ بغیر انعام کے اس کھیل میں دلچسپی لیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’لیکن حیرت انگیز طور پر کچھ بندروں نے بغیر کسی انعام کے تقریباً 100 آزمائشیں مکمل کیں۔‘

مستقبل کی تحقیقات میں محققین امید رکھتے ہیں کہ ایسے مزید کھیل تیار کیے جائیں جو بندروں کے تجسس کو متوجہ کریں۔

وہ تجسس کے پیچھے موجود اعصابی اور ذہنی طریقہ کار کو سمجھنا چاہتے ہیں تاکہ اس مظہر کی زیادہ جامع سمجھ حاصل کی جا سکے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق