نئی تحقیق کے مطابق سورج میں غیر محسوس طور پر ایسی تبدیلیاں آ رہی ہیں جنہیں ہم اس سے پہلے پوری طرح نہیں سمجھ پائے تھے۔
ماہرین فلکیات نے 40 برس سے زیادہ عرصے میں جمع کیے گئے سورج کے ڈیٹا کا جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ اس کی اندرونی ساخت اس کے مختلف چکروں کے درمیان معمولی انداز میں بدلتی رہتی ہے۔
ہر 11 سال بعد سورج ایک ایسے چکر سے گزرتا ہے جس میں وہ زیادہ سرگرم عروج سے نسبتاً پرسکون زوال تک پہنچتا ہے۔ ان پرسکون ادوار میں سورج کے دھبے کم ہوتے ہیں، مقناطیسی میدان کمزور ہوتے ہیں اور اس کی سطح زیادہ یکساں ہو جاتی ہے۔
لیکن جب سائنس دانوں نے اس کم ترین سرگرمی والے مختلف ادوار کا آپس میں موازنہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ سورج ہر بار دراصل کچھ نہ کچھ مختلف انداز میں برتاؤ کرتا ہے۔ انہیں معلوم ہوا کہ سورج کی سرگرمی میں معمولی فرق بھی اس کے اندر اہم تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔
اس تحقیق میں ماہرین فلکیات نے سورج کے اندر پیدا ہونے والی نہایت ہلکی لرزشوں کا جائزہ لیا، جو اندر پھنس جانے والی صوتی لہروں کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔ ان لرزشوں کی مدد سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ سورج کی سطح میں کیا ہو رہا ہے؟
وہ ایک خاص قسم کے ’بگاڑ‘ کی تلاش میں تھے جو اس وقت صوتی لہروں میں پیدا ہوتا ہے جب سورج کے اندر موجود ہیلیم گیس دگنی آئنائزڈ ہو جاتی ہے، ساتھ ہی وہ آواز کی رفتار میں آنے والی تبدیلیوں کو بھی دیکھ رہے تھے۔
سائنس دانوں نےسورج کے چار مختلف چکروں کا جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ ان میں سب سے زیادہ پرسکون دور، جو 2008 اور 2009 میں چکر 23 اور 24 کے درمیان آیا، اس کے دوران سورج کے اندر کے حالات نمایاں طور پر مختلف تھے۔
انہیں معلوم ہوا کہ ہیلیم والا ’بگاڑ‘ باقی تین ادوار کے مقابلے میں زیادہ بڑا تھا، اور سورج میں آواز کی رفتار بھی زیادہ تھی جبکہ مقناطیسی میدان کمزور تر تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
برمنگھم یونیورسٹی سے وابستہ بل چیپلن کا کہنا ہے کہ ’پہلی بار ہم یہ واضح طور پر جانچنے کے قابل ہوئے ہیں کہ سورج کی اندرونی ساخت ایک کم ترین مرحلے سے اگلے کم ترین مرحلے تک کس طرح بدلتی ہے؟ سورج کی بیرونی تہیں سرگرمی کے چکروں کے دوران نہایت باریک انداز میں تبدیل ہوتی ہیں، اور ہم نے پایا کہ غیر معمولی طور پر پرسکون کم ترین ادوار اس کے اندر ایک قابل پیمائش نشان چھوڑ سکتے ہیں۔‘
سائنس دانوں کو امید ہے کہ یہ تحقیق سورج اور خلائی موسم میں اس کے کردار کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی۔ اس کے نتیجے میں توانائی کے بھرپور اخراج کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں جو زمین پر تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، اور بجلی کے نظام، مواصلاتی نظام اور سیارچوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ییل یونیورسٹی سے وابستہ سربانی باسو کے بقول: ’یہ ظاہر کرنا کہ ان پرسکون ادوار میں سورج اپنی سطح کے نیچے کس طرح برتاؤ کرتا ہے، بہت اہم ہے، کیوں کہ اس برتاؤ کا اس بات پر گہرا اثر پڑتا ہے کہ اس کے بعد آنے والے چکروں میں سرگرمی کی سطحیں کس طرح بڑھتی ہیں۔‘
یہ تحقیق ایک نئے مقالے برمنگھم سولر آسیلیشنز نیٹ ورک (بائیسن) کے مشاہدے میں آنے والے چار مسلسل شمسی چکروں کے زوال کا زلزلیاتی تنوع میں پیش کی گئی ہے، جو رائل ایسٹرانومیکل سوسائٹی کے جریدے منتھلی نوٹسز میں شائع ہوا ہے۔
© The Independent