جنگ بندی کی خلاف ورزی، امداد میں رکاوٹ پر اسرائیلی جواب دہی ناگزیر: پاکستان

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے غزہ کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’جواب دہی ناگزیر ہے، کیونکہ انصاف اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔‘

پاکستان نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر غزہ میں جنگ بندی کی خلاف وزریوں اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جواب دہی ’ناگزیر‘ ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے بدھ کو سلامتی کونسل میں فسلطین سمیت مشرق وسطیٰ پر کھلی بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں شدید تشویش ہے کہ غزہ میں نازک صورتِ حال مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بلا تعطل جاری ہیں اور شہریوں کی جانیں بدستور خطرے میں ہیں۔

’اسی طرح بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر بڑھتا ہوا دباؤ، جس میں رجسٹریشن کی منسوخی اور انسانی ہمدردری کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیاں شامل ہیں، انتہائی کمزور افراد کے لیے امداد اور تحفظ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غیر حل شدہ مسئلہ فلسطین کو مشرقِ وسطیٰ میں ’عدم استحکام کی بنیادی وجہ‘ قرار دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ ’فلسطینی عوام نے دہائیوں تک غیر قانونی قبضے کا سامنا کیا ہے، جس میں گھروں سے بے دخلی، وحشیانہ جبر اور حق خود ارادیت سمیت ان کے ناقابلِ تنسیخ حقوق سے انکار شامل ہے۔

’گذشتہ دو برسوں کے دوران غزہ میں یہ تکالیف غیر معمولی سطح تک بڑھ گئیں، جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر اموات، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کی تقریباً مکمل تباہی اور شدید انسانی محرومی سامنے آئی۔‘

مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے عالمی برادری کی جانب سے کی جانے والی کوششوں بالخصوص ’غزہ بورڈ آف پیس‘ اور غزہ کے انتظام کے لیے قائم کی گئی کمیٹی ’نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ ’ان اقدامات سے اب جنگ بندی کے استحکام، مستقل طور پر جارحیت کے خاتمے، عبوری انتظامات کی سہولت، بحالی اور تعمیرِ نو، بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام کی جانب ایک پائیدار اور قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے لیے راہ ہموار ہونی چاہیے۔‘

انہوں نے اقوامِ متحدہ کی تنصیبات اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: ’ایسے اقدامات استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اب تک حاصل ہونے والی محدود پیش رفت کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔‘

عاصم افتخار نے غزہ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے ٹھوس نتائج کے حصول کے لیے پاکستان کی جانب سے بیان کی گئی درج ذیل چھ ترجیحات پر زور دیا۔

۔ غزہ بورڈ آف پیس مستقل جنگ بندی کے نفاذ، انسانی امداد میں مزید اضافہ، غزہ کی تعمیرِ نو، اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے عملی اظہار کی جانب ٹھوس اقدامات کرے گا۔ یہ سارا عمل ایک سیاسی عمل اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو، جس کے نتیجے میں 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

۔ جنگ بندی کا مکمل احترام یقینی بنایا جانا چاہیے، تاکہ جارحیت کا مستقل خاتمہ ہو سکے۔

۔ بڑے پیمانے پر مکمل، محفوظ، مسلسل اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ اس ضمن میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کا کردار نہایت اہم ہے۔

۔ بحالی اور تعمیرِ نو کا کام کسی الحاق، جبری بے دخلی یا مقبوضہ فلسطینی علاقے کی علاقائی وحدت میں تبدیلی اور کسی تاخیر کے بغیر شروع ہونا چاہیے۔

۔ غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں، آبادکاروں کا تشدد اور مقدس مقامات سمیت مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی، قانونی یا تاریخی کردار کو تبدیل کرنے کی کوششیں فوری طور پر بند ہونی چاہییں۔

اسی طرح اسرائیل کو شام اور لبنان میں ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری غیر قانونی اور عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیاں بھی فوری طور پر روکنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل کو تمام مقبوضہ عرب علاقوں سے مکمل طور پر انخلا کرنا ہوگا۔

۔ جواب دہی ناگزیر ہے، کیونکہ انصاف اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔

پاکستانی مندوب کے مطابق: ’بین الاقوامی برادری بالخصوص سلامتی کونسل اس بات کی ذمہ دار ہے کہ نئے عزم کو زمینی سطح پر قابلِ پیمائش اور مثبت تبدیلی میں بدلے، تاکہ فلسطینی عوام کی حالت بہتر ہو۔‘

عاصم افتخار نے مزید کہا کہ ’فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔ ہم سلامتی کونسل کے اراکین، علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ مل کر مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور پائیدار حل اور مشرقِ وسطیٰ میں جامع امن کے فروغ کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان