ٹرمپ کا بورڈ آف پیس ہے کیا؟

امریکی صدر نے ’بورڈ آف پیس‘ کا ذکر پہلی بار ستمبر 2025 میں غزہ کی جنگ ختم کرنے کا منصوبے کے دوران کیا تھا۔

’بورڈ آف پیس‘ کا ذکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ستمبر 2025 میں غزہ کی جنگ ختم کرنے کا منصوبے کے دوران کیا۔

بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ یہ بورڈ صرف غزہ تک محدود نہیں ہو گا بلکہ یہ دنیا کے دوسرے تنازعات کو بھی حل کرنے کی کوشش کرے گا۔

شروع میں سمجھا جا رہا تھا کہ یہ بورڈ اسرائیل کی غزہ جارحیت ختم کرنے اور تباہ حال علاقے کی از سر نو تعمیر کی نگرانی کے لیے ہو گا۔

لیکن اس کے مجوزہ چارٹر میں غزہ کا ذکر نہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے کچھ قوانین کی جگہ لینے کے لیے بنایا گیا ہے۔

لیک ہونے والے چارٹر کے مطابق امریکی صدر اس بورڈ کے پہلے چیئرمین ہوں گے۔ بورڈ کا مقصد دنیا میں امن کو فروغ دینا اور تنازعات حل کرنا ہوگا۔

بورڈ میں رکن ممالک کو تین سال کے لیے شامل کیا جائے گا، لیکن اگر کوئی ملک ایک ارب ڈالر دے تو وہ مستقل رکن بن سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بورڈ کی ابتدائی ایگزیکٹو ٹیم میں شامل ہیں۔

بورڈ کے اختیارات کیا ہوں گے؟

نومبر میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے بورڈ آف پیس کو صرف غزہ کے لیے 2027 تک کی منظوری دی۔

روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور کہا کہ امریکی قرارداد میں اقوام متحدہ کے کردار کو واضح نہیں کیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ بورڈ آف پیس کو ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر خوش آمدید کہا جاتا ہے جو ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ کی ری-کنسٹرکشن کے لیے فریم ورک بنائے گا اور فنڈنگ کو منظم کرے گا، جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات مکمل نہ ہو جائیں۔

اس قرارداد کے تحت بورڈ کو غزہ میں ایک عارضی بین الاقوامی سکیورٹی فورس بھیجنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

بورڈ کو ہر چھ ماہ بعد 15 رکنی سکیورٹی کونسل کو اپنی پراگرس رپورٹ دینا ہوگی۔

غزہ کے علاوہ یہ واضح نہیں کہ بورڈ کے پاس کیا قانونی اختیار یا طاقت ہو گی، یا یہ اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کے ساتھ کیسے کام کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بورڈ کے چارٹر کے مطابق چیئرمین یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کو وسیع اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں فیصلوں کو روکنا اور اراکین کو ہٹانا شامل ہے، لیکن کچھ شرائط کے ساتھ۔

کتنے ممالک نے دعوت قبول کی؟

وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق تقریباً 50 انوائٹس میں سے اب تک 35 عالمی رہنماؤں نے بورڈ میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر پاکستان کے بورڈ میں شامل ہونے کی وجہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے پاکستان مستقل جنگ بندی، انسانی امداد، غزہ کی ری کنسٹرکشن اور ایک منصفانہ اور مقررہ مدت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، جس کا مقبوضہ بیت القدس الشریف ہو گا۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک جیسے اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، قطر اور مصر بھی اس میں شامل ہیں۔ نیٹو کے رکن ترکی نے بھی دعوت قبول کر لی ہے۔

سوئٹزر لینڈ میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ پوتن نے بھی دعوت قبول کر لی ہے، لیکن کے مطابق وہ اس دعوت پر غور کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ روس منجمد روسی اثاثوں میں سے ایک ارب ڈالر دینے کو تیار ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بورڈ مشرق وسطیٰ سے متعلق ہے۔

کون سے ممالک نے انکار کیا؟

ناروے اور سویڈن نے ٹرمپ کی دعوت قبول نہیں کی جبکہ اٹلی نے کہا کہ اس بورڈ میں شامل ہونا مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔

کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ اصولی طور پر شامل ہونے پر متفق ہے، لیکن تفصیلات پر ابھی کام ہو رہا ہے۔

امریکہ کے دوسرے اہم اتحادی ممالک جیسے برطانیہ، جرمنی اور جاپان نے اب تک کوئی واضح موقف نہیں دیا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین