پاکستان نیوی کی ہنگور آبدوز: بحری دفاع اور صنعتی تبدیلی

ماضی میں قومی مباحثہ زیادہ تر زمینی معاملات پر مرکوز رہا، لیکن اب بندرگاہوں، تجارتی راستوں اور سمندری وسائل کی اہمیت نے بحری سوچ کو ناگزیر بنا دیا ہے۔

ہنگور پروگرام کا ایک اور پہلو سٹریٹجک استحکام میں اس کا کردار ہے (پاکستان نیوی)

ایک ایسی تقریب میں جو بحری دفاع میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی علامت تھی، پاکستاں نیوی نے اپنی ہنگور کلاس کی پہلی آبدوز، پی این ایس/ایم ہنگور کو چین کے شہر سانیا میں کمیشن کیا۔ اس آبدوز کی شمولیت پاکستان کے بحری تحفظ کے ڈھانچے میں ایک اہم موڑ کی نمائندگی کرتی ہے۔

صدرِ مملکت اور چیف آف دی نیول سٹاف کی موجودگی اس حصول کی سٹرٹیجک اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

یہ محض ایک معمول کی شمولیت نہیں بلکہ ایک وسیع تر سٹرٹیجک تبدیلی کی عکاس ہے، جس کے ذریعے پاکستاں سمندری طاقت اور دفاعی صنعتی ترقی کو نئے انداز میں سمجھ رہا ہے۔ ایسے دور میں جب سمندری راستے متنازع ہو رہے ہیں، بحری مقابلہ شدت اختیار کر رہا ہے اور بحرِ ہند کا خطہ اہمیت حاصل کر رہا ہے۔

ہنگور کلاس پاکستاں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ بہتر زیرِ آب جنگی صلاحیت، معتبر دفاع اور زیادہ تکنیکی خود انحصاری کے امتزاج سے اپنی بحری پوزیشن کو از سرِ نو متعین کرے۔ پی این ایس/ایم ہنگور آٹھ آبدوزوں کے ایک پروگرام کی پہلی قسط ہے، جس کی مالیت تقریباً پانچ ارب ڈالر ہے۔ یہ شمولیت پاکستاں کو بحرِ ہند کے خطے میں ایک مضبوط زیرِ آب طاقت کے طور پر استوار کرتی ہے۔

ہنگور کلاس آبدوزوں کی اہمیت جزوی طور پر ان کی علامتی گونج میں بھی مضمر ہے۔ یہ نام پی این ایس/ایم ہنگور کی یاد دلاتا ہے، جس نے 1971 کی جنگ میں انڈین بحری جہاز آئی این ایس کھکری کو غرق کر کے تاریخی کارنامہ انجام دیا تھا۔ اس ورثے کو زندہ کر کے پاکستاں نیوی اپنی موجودہ قوت کی جدت کو ایک مضبوط ادارہ جاتی یادداشت اور عزم سے جوڑتی ہے۔

تاہم، ہنگور پروگرام کی موجودہ اہمیت محض علامت سے کہیں آگے بڑھتی ہے۔ یہ جنوبی ایشیا میں بحری مقابلے کی بدلتی نوعیت کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے، جہاں بحری طاقت اب قومی سلامتی، معاشی استحکام اور جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ سے گہرائی سے جڑ چکی ہے۔

عملی سطح پر جدید روایتی آبدوز کے طور پر تیار کی گئی یہ آبدوز جدید خفیہ خصوصیات سے لیس ہے اور پرانے نظاموں کے مقابلے میں بڑی بہتری کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا ہائیڈروڈائنامک ڈیزائن، آواز کو کم کرنے کی صلاحیت اور جدید جنگی خصوصیات اسے ایک ایسے سمندری ماحول میں زیادہ محفوظ بناتی ہیں جہاں نگرانی سخت ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اس کی ایئر انڈپینڈنٹ پروپلشن صلاحیت زیرِ آب قیام کے دورانیے کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔ اس خصوصیت سے آبدوز کو بار بار سطح کے قریب آ کر سانس لینے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جس سے اس کے دریافت ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بحیرہ عرب اور وسیع تر بحرِ ہند کے پانی تجارت، توانائی کے راستوں اور طاقت کے اظہار کے مرکز بن چکے ہیں۔ جیسے جیسے علاقائی بحری افواج اپنی صلاحیتیں بڑھا رہی ہیں اور بیرونی طاقتیں اپنی موجودگی مضبوط کر رہی ہیں، یہ خطہ ایک مسابقتی میدان بنتا جا رہا ہے۔ پاکستاں کے لیے، جو بحری تجارت اور محفوظ سمندری راستوں پر انحصار کرتا ہے، ممکنہ دشمن کے لیے غیر یقینی صورت حال پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ ہنگور کلاس آبدوزیں یہی برتری فراہم کرتی ہیں۔ ان کی پوشیدگی، برداشت اور حملہ آور صلاحیت دشمن کی منصوبہ بندی کو پیچیدہ بناتی ہے۔

ہنگور پروگرام کا ایک اور پہلو دفاعی استحکام میں اس کا کردار ہے۔ جنوبی ایشیا میں جہاں روایتی عدم توازن اور جوہری صلاحیت ساتھ ساتھ موجود ہیں، بحری طاقتیں کشیدگی کے ارتقا کو متاثر کرتی ہیں۔ ہنگور کلاس آبدوزوں کا بیڑا بہتر بقا اور اچانک حملے کی صلاحیت کے ذریعے دفاع کو مضبوط کرے گا۔

اسی طرح اس پروگرام کی صنعتی اور تکنیکی اہمیت بھی کم نہیں۔ چار آبدوزوں کی تعمیر کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں کرنے کا فیصلہ ایک طویل المدتی وژن کی عکاسی کرتا ہے، جو محض خریداری سے آگے کی بات ہے۔ مقامی تعمیر کے ذریعے مہارت، استعداد، افرادی قوت کی ترقی اور تکنیکی سیکھنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس سے پاکستاں کو ایک حساس شعبے میں خود کفالت کی جانب بڑھنے میں مدد ملے گی، جو دفاعی معیشت کے لحاظ سے نہایت اہم ہے۔

ہنگور کلاس پاکستان کے وسیع تر بحری نقطہ نظر کی پختگی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ ماضی میں قومی مباحثہ زیادہ تر زمینی معاملات پر مرکوز رہا، لیکن اب بندرگاہوں، تجارتی راستوں اور سمندری وسائل کی اہمیت نے بحری سوچ کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ بحری راستوں کا تحفظ، ناکہ بندی کا سدباب اور تجارت کا تحفظ قومی استحکام کے بنیادی عناصر ہیں اور ہنگور پروگرام اسی سوچ کا مظہر ہے۔

تاہم اس پروگرام کی کامیابی کا دارومدار صرف آبدوزوں کی تکنیکی برتری پر نہیں بلکہ مؤثر حکمتِ عملی، تربیت، دیکھ بھال اور ادارہ جاتی نظم و ضبط پر بھی ہے۔ آبدوزیں نہایت پیچیدہ اثاثے ہیں، جن کی حقیقی قدر، قیادت اور واضح حکمتِ عملی سے سامنے آتی ہے۔ اس لیے ہنگور کلاس کو ایک اختتام نہیں بلکہ بحری تبدیلی کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

مصنف پاکستان بحریہ کے سابق کمانڈر اور آج کل نیما کے سینیئر ریسرچ فیلو ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر