ضلعی انتظامیہ کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ سے 12 ہزار سے زائد خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ تقریباً 80 فیصد تک علاقہ خالی ہو چکا ہے۔
متاثرین کے لیے رجسٹریشن مراکز تو خیبر کی تحصیل باڑہ میں قائم کیے جا چکے ہیں لیکن نقل مکانی کرنے والوں کے لیے کوئی کیمپ قائم نہیں کیا گیا، جہاں وہ رہائش اختیار کر سکیں۔
بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہی سوال آتا ہے کہ اگر ہزاروں خاندان نقل مکانی کر رہے ہیں تو یہ جاتے کہاں ہیں اور کہاں رہتے ہیں۔
اسی سلسلے میں انڈپینڈنٹ اردو نے باڑہ میں قائم رجسٹریشن مراکز کا دورہ کیا اور وہاں کے لوگوں اور ضلعی انتظامیہ سے بات کی۔
تیراہ سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے لیکن ابھی تک سرکاری سطح پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ نقل مکانی کی ہدایت کس نے جاری کی ہے۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ تیراہ سے نقل مکانی کے لیے کسی کو نہیں کہا گیا ہے اور نہ وہاں کوئی آپریشن کیا جا رہا ہے جبکہ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ تیراہ کے لوگوں نے ممکنہ فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی شروع کی ہے۔
علاقے میں اب تک کسی فوجی آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم پاکستانی فوج کے ترجمان نے مختلف پریس کانفرنسوں میں واضح کیا ہے کہ جہاں بھی شدت پسند ہوں گے، وہاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جائے گا۔
تیراہ متاثرین کہاں رہتے ہیں؟
جاوید خان آفریدی باڑہ میں قائم رجسٹریشن مرکز میں موجود اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے تاکہ حکومت کی جانب سے جاری کیے فنڈز میں سے تیراہ سے نقل مکانی کے سفری اخراجات وصول کر سکیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میرا گھر باڑہ میں ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہم مستقل باڑہ میں رہتے ہیں بلکہ میرا ایک گھر تیراہ میں بھی ہے اور وہاں خاندان کے کچھ لوگ آباد ہوتے ہیں۔ ‘
باڑہ تحصیل تیراہ سے متصل ہے جبکہ تیراہ ضلع خیبر کا بلندی پر واقع سرد ترین علاقہ ہے، جہاں موسم سرما میں شدید برف باری ہوتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گذشتہ دنوں بعض گاڑیاں نقل مکانی کے دوران برف میں پھنس گئی تھیں، جنہیں ریسکیو آپریشن کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
باڑہ کے اسسٹنٹ کمشنر طلحہ طارق عالم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آفریدی اقوام کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ان کا ایک گھر تیراہ اور ایک باڑہ میں ہوتا ہے اور تیراہ سے موسمیاتی مائیگریشن کا رجحان موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گرمی میں یہ لوگ تیراہ چلے جاتے ہیں کیونکہ وہاں گرمی کی شدت کم ہوتی ہے اور سردیوں میں نیچے باڑہ کے گھروں میں نقل مکانی کرتے ہیں۔
طلحہ کے مطابق کیمپ قائم نہ ہونے کی وجہ یہی تھی کہ آفریدی اور پشتون روایت ہے کہ ایک تو یہ مہمان نواز ہیں اور اس طرح کے حالات میں باقی لوگ مدد کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا: ’تاجر ہوں یا باقی یونین کے لوگ، وہ اس طرح کے حالات میں بوجھ بانٹنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں اور اگر کسی کو ریلیف کی ضرورت ہو تو ان کو مہیا کیا جاتا ہے جبکہ تیراہ کے علاقے پائندہ چینہ میں 30 خیموں پر مشتمل ایک خیمہ بستی بھی قائم کی گئی ہے۔ ‘
تیراہ سے شدید سردی میں نقل مکانی کی روایت
تیراہ سے حالیہ نقل مکانی کا سلسلہ گذشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہو گیا تھا جب سردی کا آغاز ہوا اور لوگ آہستہ آہستہ باڑہ میں منتقل ہونا شروع ہوئے۔
اُس وقت حکومت کی جانب سے نقل مکانی کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا تھا اور صوبائی حکومت کے نمائندے بھی یہی کہہ رہے تھے کہ تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا بلکہ لوگ سردی کی وجہ سے اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات شفیع جان نے اُس وقت ایک انٹرویو میں بھی یہی بتایا تھا کہ تیراہ سے لوگ اپنی مرضی سے سردی کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں کیونکہ وہاں پر برف پڑتی ہے۔
اسلام گل آفریدی باڑہ میں مقیم سینیئر صحافی ہیں۔ ان کا تعلق تیراہ سے ہے لیکن برسوں سے وہ باڑہ میں آباد ہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آفریدی قبائل کی تاریخ یہی ہے کہ ان کی زندگی تیراہ سے شروع ہوئی اور پھر دیگر علاقوں تک پھیلی۔
اسلام گل آفریدی نے بتایا: ’متحدہ ہندوستان کے وقت آفریدی مختلف علاقوں میں آباد تھے اور اب بھی ان کی تیراہ میں زمینیں ہیں جبکہ اسی شخص کو آفریدی سمجھا جاتا ہے جس کی تیراہ میں آبائی جائیداد موجود ہو۔ ‘
ان کے مطابق اب آفریدی اقوام کی تیراہ کے علاوہ میدانی علاقوں میں بھی زمینیں ہیں اور وہ سردیوں میں ان علاقوں میں رہتے ہیں اور گرمی میں تیراہ چلے جاتے ہیں۔
اسلام گل نے بتایا: ’شدید گرمی اور فصل اگانے کے لیے تیراہ کے لوگ اپریل کے مہینے سے میدانی علاقوں سے تیراہ چلے جاتے ہیں جبکہ وہاں سے اکتوبر یا نومبر میں نقل مکانی شروع ہو جاتی ہے۔ ‘
تاہم انہوں نے بتایا کہ تیراہ کو مکمل طور پر خالی نہیں کیا جاتا بلکہ کسی نہ کسی کو اپنے گھر کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے کیونکہ وہاں برف باری ہونے کی وجہ سے برف نہ ہٹانے کی وجہ سے مکان خراب ہو جاتا ہے۔
اسلام گل کے مطابق مکانات کی دیکھ بھال اس لیے بھی اہم ہوتی ہے کہ تیراہ میں مکان بنانا اور وہاں میٹریل وغیرہ پہنچانا ایک مشکل عمل ہے تو اسی وجہ سے بعض لوگ تو پیسے دے کر بھی گھر کو دیکھ بھال کے لیے کسی کے حوالے کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا: ’ابھی جو نقل مکانی جاری ہے تو یہ پچھلے موسم کی وجہ سے نقل مکانی سے قدرے مختلف ہے کیونکہ اب آپریشن کی بات ہو رہی ہے جبکہ یہ لوگ نقل مکانی کرنے سے پہلے تمام تر انتظامات کرتے ہیں اور تب ہی نقل مکانی کی جاتی ہے۔ ‘
حالیہ نقل مکانی تب شروع ہوئی تھی جب آفریدی اقوام کا 24 رکنی جرگہ بنایا گیا اور انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی اور پھر جرگے کی جانب سے انتظامیہ کو کچھ مطالبات پیش کیے گئے تھے۔
اس وقت جرگے کے سربراہ کمال الدین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ ’کچھ مطالبات ہمارے مانے گئے اور بعض میں ترمیم کر کے جرگہ متفق ہوا اور تیراہ کو خالی کرنے پر رضامند ہو گئے۔‘