پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سیوریج کی کھلی مین لائن میں گر کر جان سے جانے والی ماں اور بیٹی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ ادارے بروقت سیوریج لائن کو کور کر دیتے تو یہ حادثہ پیش نہ آتا۔
پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق بھاٹی گیٹ داتا دربار کے قریب بدھ کی شام سیوریج لائن میں گرنے والی 24 سالہ سعدیہ اور ان کی 10 ماہ کی بچی ردا کی لاشیں کئی گھنٹوں کے آپریشن کے بعد برآمد کر لی گئیں۔
سعدیہ کے ماموں صابر حسین نے بتایا کہ حادثے کے وقت سڑک پر سیوریج کی مین لائن کھلی ہوئی تھی اور اندھیرے میں رکشے پر سوار ہوتے ہوئے ماں بیٹی اندر جا گریں۔
ان کے مطابق وہ شورکوٹ کے رہائشی ہیں اور سعدیہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ داتا دربار کی زیارت کے لیے لاہور آئی تھی۔
صابر حسین نے کہا کہ واقعے کے بعد سیوریج مین لائن پر باڑ لگا دی گئی ہے، اگر یہ کام پہلے کر لیا جاتا تو دو جانیں نہ جاتیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غفلت برتنے والے ٹھیکے دار، انتظامیہ اور واسا حکام کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق خاتون کی لاش تقریباً پانچ گھنٹے بعد جائے وقوعہ سے دو کلومیٹر دور آؤٹ فال روڈ ڈسپوزل پوائنٹ سے ملی جبکہ بچی کی لاش 15 گھنٹے بعد دریائے راوی کے کنارے سگیاں ڈسپوزل پوائنٹ سے برآمد کی گئی۔
کنٹرول روم انچارج فرید زیدی نے بتایا کہ انہیں شام ساڑھے سات بجے اطلاع ملی جس کے بعد سرچ آپریشن فوراً شروع کیا گیا۔
ان کے مطابق سیوریج لائن زیرِ زمین دو فٹ چوڑی ہے لیکن اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور یہ مختلف علاقوں سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے تلاش میں غیر معمولی مشکلات پیش آئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تعمیراتی کام کے باعث مین ہول کھلا چھوڑا گیا تھا جو حادثے کی وجہ بنا۔
واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایل ڈی اے کے دو افسران کو معطل کر کے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی۔