لاہور: سیوریج نالے میں گرنے والی ماں بیٹی کی لاشیں مل گئیں، ریسکیو ٹیم

لاہور پولیس کے مطابق ماں بیٹی بھاٹی گیٹ داتا دربار کے قریب بدھ کو سیوریج نالے میں گر گئی تھیں۔

پولیس اور امدادی عملے کے مطابق لاہور میں بھاٹی گیٹ داتا دربار کے قریب بدھ کو سیوریج نالے میں گرنے والی خاتون اور ان کی 10 سالہ بیٹی کی لاشیں مل گئی ہیں۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس لاہور فیصل کامران نے بدھ کو رات گئے خاتون کی لاش ملنے کی تصدیق کی۔

فیصل کامران نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا تھا کہ ’نالے میں گرنے والی خاتون کی لاش آؤٹ فال روڈ ڈسپوزل سے مل چکی ہے، تاہم بچی کی تلاش جاری ہے۔‘

متاثرہ خاتون کی شناخت 24 سالہ سعدیہ اور 10 ماہ کی ردا کے نام سے ہوئی ہے۔ ترجمان ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ بچی کی لاش سگیاں کے مقام سے ملی۔

ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق انہیں فون پر اس واقعے کی اطلاع دی گئی تھی، جس کے بعد ٹیم فوراً متحرک ہوئی۔

بیان میں بتایا گیا کہ انتظامیہ نے پرندہ مارکیٹ میں کھدائی کے دوران مین ہول بنا رکھے تھے، جہاں مناسب روشنی نہ ہونے کی وجہ سے خاتون کو مین ہول نظر نہیں آیا اور وہ اپنی بیٹی سمیت اس میں گر گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لاہور بھاٹی گیٹ کے قریب پیش آنے والے اس تازہ واقعے کے حوالے سے ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد کا ایک آڈیو کلپ بھی سامنے آیا ہے، جس میں انہیں کہتے سنا جا سکتا ہے کہ خاتون کے شوہر جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور انہوں نے خود ہی اس واقعے کے بارے میں بتایا ہے۔

ریسکیو ترجمان نے مزید کہا کہ انہوں نے اس واقعے کی خود بھی تحقیقات کی ہیں اور ان کی ’متاثرہ خاتون‘ کے والد سے بات ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب بات چیت کرنے کے بعد انہیں اس ’واقعے پر شک ہے۔‘

فاروق احمد کے مطابق: ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ کال فیک ہے لیکن میں شک میں ہوں۔ ریسکیو 1122 ایک فیصد چانس پر بھی ساری رات آپریشن کرے گی۔‘

واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی۔

دوسری جانب لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنے بیان میں کہا کہ تعمیراتی کام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو غفلت بتنے پر معطل کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل کچھ ہفتوں پہلے پنجاب کے ضلع لودھراں کے ایک کھلے مین ہول میں سات سالہ بچہ ریحان گر کر جان سے چلا گیا تھا، جس پر پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔

اس واقعے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نہ صرف غم و غصے کا اظہار کیا بلکہ ڈپٹی کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم بھی جاری کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان