خیبرپختونخوا میں حکام کا کہنا ہے کہ 70 سے 80 فیصد وادی تیراہ خالی ہو چکی ہے جبکہ اب تک نقل مکانی کرنے والے 12 ہزار سے زائد خاندانوں کی رجسٹریشن کر لی گئی ہے۔
وادی تیراہ سے ہونے والی اس نقل مکانی کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومت کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں جہاں خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نقل مکانی ممکنہ ’فوجی آپریشن‘ کی جا رہی ہے جبکہ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ مقامی افراد اور صوبائی حکومت کے درمیان مذاکرات کے بعد ایسا کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں نہ تو کوئی فوجی آپریشن جاری ہے اور نہ ہی اس کی کوئی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ لوگوں کی نقل مکانی کی وجہ فوجی کارروائی نہیں بلکہ سخت موسمی حالات ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ’جرگہ مشران اور صوبائی حکومت کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے تھے اور چار ارب روپے کا پیکج تیار کیا گیا۔ اس سارے معاملے سے اس علاقے میں تعینات فوجی اہلکاروں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
دوسری جانب وفاقی حکومت کے ایک نوٹیفیکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے 25 جنوری کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ’پاکستانیو جو یہ نوٹفکیشن نکالا گیا ہے یہ صوبائی حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم کا پروانہ ہے۔ اس سے تھوڑا بہت جو اعتماد ہمارے درمیان تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار نے بدھ کو اس مقام کا دورہ کیا جہاں وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔
وہاں موجود باڑہ کے اسسٹنٹ کمشنر طلحہ رفیق عالم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’12 ہزار سے زائد خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے اور مجموعی طور پر تقریباً 19 ہزار خاندان ہیں جنہیں نقل مکانی کرنی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نقل مکانی شروع ہوئے اب کچھ وقت ہو چکا ہے اور اس دوران 70 سے 80 فیصد علاقہ خالی ہو گیا ہے۔
طلحہ رفیق عالم نے بتایا کہ ’12 ہزار سے زائد خاندانوں کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے جو تقریباً 70 ہزار افراد بنتے ہیں۔‘
رجسٹریشن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بچوں کی پولیو ویکسینیشن ڈیٹا کے تحت تصدیق کا عمل شروع کیا ہے یعنی اگر کسی کے بچے کا تیراہ میں پولیو ویکسین ریکارڈ موجود ہے، تو انہیں درست متاثرہ شخص مانا جاتا ہے۔
’رجسٹرڈ گھرانوں سے ٹوکن زیادہ جاری کیے گئے ہیں کیونکہ ٹوکن راستے میں ایک مرکز میں جاری کیا جاتا ہے اور سامان سمیت وہاں تصدیق اگر ممکن نہیں ہوتی تو رقم کی تقسیم کے دوران تمام افراد کو تصدیقی عمل سے گزارا جاتا ہے اور تب ہی ان کو رقم دی جاتی ہے۔‘
تاہم متاثرہ افراد اس ساری صورت حال سے خوش دکھائی نہیں دیتے اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کروڑوں کا سامان اور مکانات چھوڑ دیے اور انہیں چند ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔
وہاں موجود ایک متاثرہ شخص نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا کہ ’تین دن میں تو ہم تیراہ سے یہاں پہنچے ہیں جبکہ سفری اخراجات کے لیے 22 ہزار دیے جاتے ہیں جبکہ گاڑی کا خرچہ بھی اس سے زیادہ ہے لیکن پیسوں کے علاوہ ہمارا مکان وہاں رہ گیا ہے تو اس کا کیا بنے گا؟‘
یہ قطار میں کھڑے سینکڑوں لوگوں کی کہانی تھی جنہوں نے تیراہ سے نقل مکانی کی لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ نقل مکانی کس کے کہنے پر کی گئی ہے۔
تیراہ کے متاثرین جب تیراہ سے نکلتے ہیں تو پائندہ چینہ میں ان کے لیے ایک مرکز قائم کیا گیا ہے اور سامان سمیت وہاں مرکز میں ان کو ایک ٹوکن جاری کیا جاتا ہے۔
وہی ٹوکن لا کر پہلے اس کی مقامی تحصیلدار سے تصدیق اور بعد میں باڑہ میں قائم مراکز میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں انہیں سفری اخراجات کی مد میں حکومت کی جانب سے نقد رقم دی جاتی ہے۔
اس کے بعد ان کو حکومتی نظام کے تحت سیلولر کمپنی کا ایک سم کارڈ دیا جاتا ہے اور اسی سم کارڈ کے تحت ان کو دو لاکھ 75 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
جس مرکز میں ہم گئے تھے تو وہاں پر رجسٹریشن اور رقم کی تقسیم کا نظام درست چل رہا تھا جبکہ متاثرین کو ترتیب میں کرنے کے لیے پولیس کے اہلکار کھڑے تھے۔
چھوٹی گاڑی پر سامان لے کر آنے والوں کو 22 ہزار روپے جبکہ بڑی گاڑی کے متاثرین کو 45 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔
تیراہ کے رہائشی جاوید خان آفریدی، جو اب باڑہ میں مقیم ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیو ریکارڈ سے تصدیق کرنے میں مسائل ہو رہے ہیں کیونکہ ’میں یہاں رہائش پذیر ہوں لیکن میرا باقی خاندان تیراہ میں رہتا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ ’میں متاثرین میں شامل ہوں لیکن میری تصدیق میں مسئلہ اس لیے ہوگا کہ میرے بچوں کا پولیو ریکارڈ تیراہ میں نہیں بلکہ یہاں باڑہ میں ہوگا۔‘
ایسے ہی مسائل پر بات کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر باڑہ طلحہ رفیق عالم نے بتایا کہ ’ہم نے مراکز میں بھی گریونسز کاؤنٹر قائم کیے ہیں جس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر کر رہے ہیں اور ایسے مسائل کی نشاندہی کر کے وہ کاؤنٹر اس کو حل کرتا ہے۔‘
نقل مکانی کیوں کی؟
وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان بیانات کی جنگ بھی جاری ہے اور بنیادی سوال یہی ہے کہ تیراہ سے لوگوں کو نقل مکانی کی ہدایت کس نے جاری کی ہے۔
بعض لوگوں سے جب پوچھا گیا تو ان کے پاس بھی واضح کوئی جواب موجود نہیں تھا لیکن یہ ضرور بتایا کہ مزید وہاں حالات خراب ہو رہے تھے تو نکل گئے۔
ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ وہاں حالات ایسے بھی خراب نہیں تھے کہ ہمیں نکال دیا گیا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ گذشتہ 20 سالوں سے ہم یہی سن رہے ہیں کہ تیراہ میں حالات خراب ہیں اور سمجھ نہیں آ رہا کہ کب یہ مسائل ختم ہوں گے۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بظاہر تو جرگہ آفریدی اقوام کے 24 رکنی جرگے کے ساتھ کیا گیا تھا اور اسی پر راضی ہوئے تھے کہ نقل مکانی کریں۔
عہدیدار نے بتایا کہ ’ایک تو ویسے بھی تیراہ کے لوگ سردی میں وہاں سے نقل مکانی کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف جرگے کی بات آ گئی تو نقل مکانی شروع کی گئی اور اب جاری رہے گی۔‘