حسن سے مالامال وادی تیراہ کا کربناک منظر

سیاسی ایوانوں کی بحث سے دور، پائندہ چینا کے رجسٹریشن کاؤنٹر پر کھڑا قبائلی صرف یہ جاننا چاہتا ہے کہ شام کو جب طالبان روٹی مانگتے ہیں اور صبح جب ریاست حساب مانگتی ہے تو وہ جائیں تو جائیں کہاں؟

وادی تیراہ کا پہلا نظارہ کسی خواب جیسا لگتا ہے۔ فطرت کا حسن دیکھ کر گمان ہوتا ہے جیسے انسان جنت میں داخل ہو گیا ہو  (جمشید برکی)

ضلع خیبر کے باڑہ علاقے سے آخری مگر شان دار سڑک پر بل کھاتی گاڑی جب شین کمر کو کراس کرتی ہے، تو وادی تیراہ کا پہلا نظارہ کسی خواب جیسا لگتا ہے۔

فطرت کا حسن دیکھ کر گمان ہوتا ہے جیسے انسان جنت میں داخل ہو گیا ہو۔

ابھی کچھ لگ بھگ 70 کلومیٹر کا سفر اس جگہ تک باقی ہے جہاں قدرتی حسن اپنی بلندیوں کو چھوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے گذشتہ ہفتے یہ سفر اس حسن سے لطف اندوز ہونے کا نہیں تھا۔

اس سڑک پر جیسے ہی آپ کی نظریں مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں پر پڑتی ہیں، دل لرز جاتا ہے۔

گھریلوں سامان سے لدی گاڑیاں اور ان پر بیٹھے لوگوں کے افسردہ اور غم زدہ چہرے آپ کی توجہ کہیں اور ہٹنے نہیں دیتے۔

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے تیراہ کے ہیڈکوارٹر ’میدان‘ تک کا 90 کلومیٹر کا یہ سفر چند گھنٹوں کا ہے، لیکن اب یہ سفر دنوں پر محیط ہو چکا ہے۔

اپنے آباد گھروں کو چھوڑنے والوں کے قافلوں اور گاڑیوں کی لمبی قطاروں نے اس راستے کو طویل، پریشان کن اور غم زدہ بنا دیا ہے۔

تیراہ کے ان باسیوں کے لیے نقل مکانی کوئی نیا لفظ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا زخم ہے جو ہر دہائی میں دوبارہ ہرا کر دیا جاتا ہے۔

گذشتہ دہائی کے بڑے فوجی آپریشنز کی تلخ یادیں ابھی دھندلی بھی نہیں ہوئی تھیں اور ان کے ہاتھوں کے چھالے جو انہوں نے اپنے مسمار مکانات کو دوبارہ بنانے میں پائے تھے، ابھی بھرے بھی نہیں تھے کہ ایک بار پھر انہیں ’محفوظ مقامات‘ کی تلاش میں نکلنے کا حکم دے دیا گیا۔

یہ ایسے لوگ ہیں  جو اپنی ہی زمین پر ’پناہ گزین‘ کا لیبل سجائے دربدر ہو رہے ہیں۔

یہ لوگ صرف گھر نہیں چھوڑ رہے، بلکہ وہ برسوں کی محنت اور وہ یادیں بھی چھوڑ رہے ہیں جو ان پہاڑوں کے پتھروں میں جذب تھیں۔

پہاڑوں پر برف باری اور جنوری کی ہڈیوں میں اتر جانے والی سردی کسی قہر سے کم نہیں ہے۔

کھلے ٹریکٹروں اور منی پک اپس پر بیٹھے بچوں اور بوڑھوں کے لیے یہ بے رحم ہوا کسی تازیانے کی طرح ہے جو ان کے چہروں کو جھلسا رہی ہے۔

دراصل ان بے گھر ہونے والوں کے لیے یہ سردی بیماریوں اور اداسی کا وہ پیغام لائی ہے جس کا کوئی علاج معاوضے کے چیک میں موجود نہیں۔

رجسٹریشن پوائنٹس اور سڑک پر کھلے آسمان تلے راتیں کاٹتے یہ خاندان پوچھتے ہیں کہ کیا ہر بار امن کی قیمت ان کی بے گھری کی صورت میں ہی ادا کی جائے گی؟

چار دن سے اپنے خاندان کے ساتھ راستے میں خوار ہونے والے 60 سالہ حاجی محمد یوسف بھی اس کرب کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ سندانہ کے مقام پر ایک خاتون بھوک اور علاج نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ گئی اور متاثرین کی گاڑی کو حادثہ کے نتیجے میں دو بجے جان سے گئے۔

صوبائی حکومت نے سندانہ، پائندہ چینا اور منڈی کس پر رجسٹریشن، ویریفکیشن اور پیسوں کی وصولی کا ایک ایسا صبر آزما انتظام کیا ہے جہاں نہ پینے کا پانی ہے اور نہ ہی انسانی ضرورت کی دیگر سہولیات۔

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ان متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک ’بڑے پیکیج‘ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر باڑہ کے مطابق، فی خاندان کو ایک بار کے لیے ڈھائی لاکھ روپے سے زائد کی رقم اور ماہانہ 50 ہزار روپے کا وظیفہ دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سم کارڈز تقسیم کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ رقم براہِ راست ان تک پہنچ سکے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چند پیسے دے کر ان لوگوں کو ان کے گھروں سے دور ایک غیر یقینی مستقبل کی طرف چھوڑ دینا کافی ہے؟

کیا کسی مالی پیکیج کے ذریعے اس ذلت اور نفسیاتی اذیت کا مداوا ممکن ہے جو ایک پورا خاندان رجسٹریشن کاؤنٹر کی قطار میں کھڑے ہو کر سہتا ہے؟

اس انسانی المیے کے پیچھے سیاسی اور عسکری بیانیوں کی اپنی جنگ ہے۔

ایک طرف ریاست پر حملہ آور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی (جس کے ثبوت بھی ہیں اور مقامی لوگ خود تسلیم کررہے ہیں) اور ممکنہ فوجی آپریشن کا خطرہ ہے، تو دوسری طرف صوبائی حکومت اور وفاقی اداروں کے درمیان کھینچ تان۔

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم آفریدی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مقامی آبادی کے لیے مزید مشکلات کا باعث قرار دیتے ہیں جبکہ دیگر دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے ان اقدامات کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔

مقامی عمائدین جو بڑی حد تک خود آپریشن کے حق میں ہیں اس اختلاف کو لوگوں کے مسائل بڑھنے کا سبب قراردے کر سوال بھی کررہے ہیں کہ یہ شدت پسند بار بار کیسے آجاتے ہیں؟

مگر سیاسی ایوانوں کی بحث سے دور، پائندہ چینا کے رجسٹریشن کاؤنٹر پر کھڑا قبائلی صرف یہ جاننا چاہتا ہے کہ شام کو جب طالبان روٹی مانگتے ہیں اور صبح جب ریاست حساب مانگتی ہے تو وہ جائیں تو جائیں کہاں؟

اور اب اس صورت حال نے ان کو دوبارہ نکلنے پر مجبور کر ہی دیا ہے تو ان کو بے یارو مدد گار کیوں چھوڑ دیا گیا ہے۔

25 جنوری کی ڈیڈ لائن قریب ہے اور تیراہ کی اس شان دار سڑک پر بکھرا انسانی کرب چیخ چیخ کر پوچھ رہا ہے کہ کیا اگلی دہائی میں پھر ان کے ہاتھوں میں گھر بنانے کے لیے وہی چھالے ہوں گے یا اس بار کوئی مستقل امن نصیب ہوگا؟

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ