حکومت سندھ نے جمعرات کو کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی سے درجنوں اموات کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔
17 جنوری کی رات شہر کے گنجان آباد علاقے میں واقع اس چار منزلہ شاپنگ مال میں لگنے والی آگ کو مکمل طور پر بجھانے میں تقریباً دو دن لگ گئے تھے۔
اس واقعے میں کم از کم 73 افراد کی جان گئی جبکہ 1,100 سے زائد دکانیں تباہ ہوئیں۔
سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے آج ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کی جائے گی کہ وہ ایک حاضر سروس جج کو نامزد کریں۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی نے کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مبنی دو رکنی ٹیم کی جمع کرائی گئی رپورٹ کا جائزہ لیا۔
کمیٹی میں شرجیل میمن، ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور ضیاء الحسن لانجرا شامل تھے۔
شرجیل انعام میمن نے کمیٹی میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق بتایا کہ سول ڈیفنس کے محکمے نے 2023 سے گل پلازہ اور دیگر عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ کیے، لیکن ’ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر، اصلاحی، احتیاطی یا قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔‘
انہوں نے کہا کہ سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر اور ساؤتھ ڈسٹرکٹ کے ایڈیشنل کنٹرولر نے معاملہ اوپر حکام تک نہیں پہنچایا اور نہ ہی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کوئی مناسب قدم اٹھایا، اس لیے دونوں افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔
’اگر ثابت ہوا کہ کسی اعلیٰ افسر کو کارروائی کرنے کا کہا گیا، مگر اس نے عمل نہ کیا تو وہ بھی معطل ہو گا۔‘
انہوں نے بتایا کابینہ کی ذیلی کمیٹی میں نشاندہی ہوئی کہ فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، جس سے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) کے فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کی کارروائی متاثر ہوئی۔
اس بنا پر کے ڈبلیو ایس سی کے چیف انجینیئر اور ہائیڈرنٹس انچارج کو بھی معطل کر کے محکمانہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شرجیل انعام میمن کے مطابق کمیٹی نے پایا کہ کے ایم سی فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کے آلات، تربیت اور صلاحیتیں اس نوعیت کے واقعے سے نمٹنے کے لیے ناکافی تھیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ آلات کی کمی کے باوجود فائر فائٹرز نے بہادری سے کام کیا اور فائر فائٹر فرقان شوکت جان کی بازی ہار گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کے ایم سی میونسپل سروسز کے سینیئر ڈائریکٹر کو بھی فوری طور پر معطل کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ عملے کی تربیت اور تیاری یقینی بنانے میں ناکام رہے۔
سینیئر وزیر کے مطابق 17 جنوری کو جب آگ بھڑکی تو اس وقت عمارت میں 2,000 سے 2,500 افراد موجود تھے، جن میں ملازمین اور گاہک شامل تھے۔
کمیٹی نے پایا کہ گل پلازہ کی عمارت میں مناسب فائر فائٹنگ نظام موجود نہیں تھا اور اس کی تحریری نشاندہی کی گئی تھی لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ عمارت کا تعمیر شدہ ڈھانچہ منظور شدہ پلان سے ہٹ کر تھا، جس کی وجہ سے آگ بجھانے کے امکانات محدود ہوئے اور عوامی تحفظ خطرے میں پڑا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ چونکہ عمارت انتظامیہ نے ضروری اقدامات نہیں کیے، اس لیے ان کے کردار اور رویے کی بھی تحقیقات ہوں گی۔
’اگر غفلت یا قانونی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔‘