سانحہ گل پلازہ میں میری بھی غلطی ہو تو سزا ملنی چاہیے: وزیر اعلیٰ سندھ

سندھ اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ سے 52 باقیات کے ڈی این اے نمونے لیے گئے جن میں سے اب تک نو افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جمعے کو کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی تاہم ساتھ ہی انہوں نے سانحے پر سیاست کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔ 

مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں واقعے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’مجموعی طور پر 82 افراد لاپتہ ہوئے، جن میں سے 62 افراد کی باقیات برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ 52 لاشوں کے ڈی این اے نمونے لیے گئے اور اب تک 9 افراد کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔‘

گل پلازہ میں آتشزدگی کا یہ واقعہ 17 جنوری کو پیش آیا جہاں 1200 سے زائد دکانیں موجود تھیں۔ آگ کے باعث پلازہ میں موجود دکاندار اور خریدار اندر ہی پھنس گئے جب کہ آگ پر قابو پانے میں 24 گھنٹے سے زائد کا وقت لگا۔

حکام کے مطابق عمارت کے مزید منہدم ہونے کے خدشے کے باعث جائے حادثہ پر تاحال امدادی ٹیمیں موجود ہیں۔

سندھ اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ گل پلازہ میں آگ رات 10 بج کر 14 منٹ پر گراؤنڈ فلور کی ایک دکان میں لگی، جبکہ 10 بج کر 36 منٹ پر ریسکیو 1122 کو پہلی کال موصول ہوئی۔ ان کے مطابق ریسکیو کی پہلی گاڑی 10 بج کر 37 منٹ پر روانہ ہو گئی تھی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ گل پلازہ جیسے سانحے پر سیاست کرنا افسوس ناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پر تنقید ہر کسی کا حق ہے، لیکن لاشوں پر سیاست کرنا اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے جیسے بیانات دینا درست طرزِ عمل نہیں۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ واقعے میں اگر کسی قسم کی غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا: ’اگر میری اپنی غلطی ثابت ہو جائے تو مجھے بھی سزا ملنی چاہیے۔‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت کے دوران اس نوعیت کے تین بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

مراد علی شاہ نے متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آگ میں مرنے والے ہر فرد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے، جبکہ گل پلازہ میں موجود ہر دکان کے مالک کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور سانحے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شہری انتظامیہ کی توجہ ریسکیو آپریشن اور متاثرین کی باقیات جلد از جلد ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنے پر مرکوز ہے۔ ان کے یہ بیانات متاثرہ خاندانوں کے گھروں کے دورے کے بعد سامنے آئے۔

میئر کے مطابق: ’کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ریسکیو اہلکار تاحال امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور انتظامیہ پوری کوشش کر رہی ہے کہ متاثرین کی باقیات جلد ان کے پیاروں کے حوالے کی جائیں۔‘

کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بتایا کہ لاشوں کی حالت کے باعث شناخت کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ ان کے مطابق بیشتر باقیات ٹکڑوں کی صورت میں ملی ہیں، جس سے فرانزک شناخت مشکل ہو گئی ہے اور اہل خانہ کو انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کی مکمل بحالی تک ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’سندھ حکومت اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گی جب تک متاثرین کی مکمل بحالی نہیں ہو جاتی اور ہر ممکن تعاون فراہم نہیں کیا جاتا۔‘

گل پلازہ میں آگ کے نتیجے میں 15 ارب روپے تک کے مالی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے عرب نیوز کو بتایا کہ پلازہ کی تمام دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور مجموعی نقصان 15 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’یہاں بڑے درآمد کنندگان موجود تھے۔ آگ لگنے سے صرف تین دن قبل 31 شپنگ کنٹینرز اتارے گئے تھے۔‘

آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد بجلی کے شارٹ سرکٹ کی طرف اشارہ کرتے ہیں، البتہ حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

کراچی جیسے دو کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں آتشزدگی کے واقعات معمول بن چکے ہیں، جہاں گنجان بازار، بوسیدہ انفراسٹرکچر، غیرقانونی تعمیرات اور حفاظتی قوانین پر عملدرآمد کی کمی اکثر بڑے حادثات کا سبب بنتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان