کراچی مال آتشزدگی: خاتون سمیت 14 افراد جان سے گئے، 26 لاپتہ افراد قریب ہی تھے، پولیس

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ 58 لاپتہ افراد کی لوکیشنز موبائل نمبرز کے ذریعے جاننے کی کوشش کی گئی۔ 26 ارد گرد ہی موجود تھے۔

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ، جو ہفتے کی رات سے آگ کی لپیٹ میں ہے، میں ایک خاتون اور بچے سمیت مجموعی طور پر 14 افراد جان سے چلے گئے ہیں، جبکہ تقریباً 70 زخمی ہیں۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک 14 افراد کے جان سے جانے کی کی تصدیق ہو گئی ہے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران لاشیں نکلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ’ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔‘ 

ہفتے کی رات تقریباً 10 بجے گل پلازہ میں بھڑکنے والی آگ کو ابھی تک مکمل طور پر نہیں بجھایا جا سکا ہے۔ تاہم بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 80 فیصد آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق اتوار کی شام ہی گل پلازہ کی عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا تھا جبکہ باقی ماندہ حصے میں دراڑیں دیکھی جا سکتی ہیں اور اس کے منہدم ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔  

دوسری طرف کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کاروبار بند رکھنے کی کال دی اور مرحومین اور دوسرے متاثرین کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور دعا کی اپیل کی ہے۔

ایسوسی ایشن کے صدر محمد منہاج گلفام نے ایک بیان میں بتایا کہ پورے کراچی میں موبائل کی دکانیں اور مارکیٹیں بند رہیں گی۔ 

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ پلازہ میں لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق مختلف لوگوں سے رابطہ کیا گیا، جبکہ اہل خانہ سے لاپتہ افراد کے موبائل نمبرز بھی حاصل کیے گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس کی تفتیش کرنے پر لاپتہ میں سے 26 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کے پاس ملی ہے، جبکہ دوسروں کو ٹریس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔   

شہر کے چیف ریسکیو آفیسر ڈاکٹر عابد جلال شیخ کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتش زدگی ہفتے کی رات دیر گئے لگی جو تیزی سے پھیل گئی۔

پلازہ میں تقریباً 1200 دکانوں میں سے زیادہ تر کاسمیٹکس، کپڑے اور پلاسٹک کے سامان کی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 75 فیصد آگ بجھا دی گئی ہے، لیکن عملے کو اسے مکمل طور پر قابو پانے کے لیے مزید چار سے چھ گھنٹے درکار ہیں۔ 

چار منزلہ عمارت اور اس کے بیسمنٹ سے پانچ لاشیں برآمد ہوئیں۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ ایک فائر فائٹر بالائی منزلوں پر آگ بجھانے کی کوشش کے دوران جان سے گیا۔ 

آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ اتوار کی شام وزیر اعلیٰ نے شہر کے گنجان آباد علاقے میں واقع آگ سے متاثرہ گل پلازہ کا دورہ کیا۔

انہوں نے موقعے پر موجود میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ کل رات 10 بجے کے بعد آگ لگنے کی اطلاع موصول ہونے پر میونسپل اتھارٹیز نے فوری رسپانس کیا اور مجھے بھی اطلاع دی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 10 بج کر 27 منٹ پر یہاں پہلا فائر ٹینڈر پہنچا اور فوراً ہی آگ بجھانے کی کارروائی شروع کر دی گئی۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق آگ بجھانے میں تقریباً 26 فائر ٹینڈرز، چار سنارکل اور 10 باؤزر نے حصہ لیا۔

’کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی نے بھی اپنا ایک سنارکل دیا جبکہ  سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی تین آگ بجھانے کی مشینیں آئیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعلیٰ کے مطابق اب تکی معلومات کے مطابق چھ افراد جان سے گئے جبکہ 22 زخمیوں کا ہسپتال میں علاج جاری ہے۔ ’افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتہ ہیں۔‘

ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’آگ تیسرے درجے کی تھی، جو ابتدا میں پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر لگی اور تیزی سے پھیلتے ہوئے دوسری اور تیسری منزل تک جا پہنچی۔

’تاہم آگ لگنے کی وجوہات کا تعین تاحال نہیں ہو سکا۔‘

حسان خان کے مطابق آگ کی شدت کے باعث عمارت کا پچھلا حصہ منہدم ہو گیا، جس کے بعد پلازہ کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے سیل کر دیا گیا کیونکہ کسی بھی وقت مزید حصہ گرنے کا خدشہ ہے۔‘

ترجمان ریسکیو 1122 نے عمارت کے ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گل پلازہ ایک پرانی اور چاروں اطراف سے گھری ہوئی عمارت تھی، جس کے باعث ریسکیو کارروائی میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بتایا کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق پلازہ میں ایمرجنسی ایگزٹ کا مناسب نظام موجود نہیں تھا اور گراؤنڈ فلور پر کچھ کیمیکل بھی رکھے گئے تھے۔‘

مختلف مقامات سے اہل خانہ اپنوں کی تلاش کے لیے ایم اے جناح روڈ پہنچ رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان