گل پلازہ سے مزید 30 لاشیں برآمد، کُل اموات 61: ڈی آئی جی ساؤتھ

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کہا کہ تمام لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں، جہاں لوگ آگ سے بچنے کی کوشش میں خود کو اندر سے بند کر چکے تھے۔

گل پلازہ کراچی میں آتشزدگی کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق آج مزید 30 لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔

سانحے میں جان سے جانے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 61 ہو گئی ہے۔

سرچ آپریشن آج پانچویں دن بھی جاری ہے اور وقت کے ساتھ واقعے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے مزید کہا کہ تمام لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں، جہاں لوگ آگ سے بچنے کی کوشش میں خود کو اندر سے بند کر چکے تھے۔ ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی مقام سے موصول ہوئی تھی۔ اطلاع ملنے پر تیسرے فلور پر جاری ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیا گیا، جبکہ دکانداروں کی نشاندہی پر میزنائن فلور پر سرچ آپریشن تیز کیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گل پلازہ میں ریسکیو 1122 کو فائنل سرچ آپریشن کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جس کے مکمل ہونے کے بعد عمارت کو مسمار کر دیا جائے گا۔ جبکہ عمارت گرانے کی ذمہ داری سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی ہوگی، جس کی رپورٹ میں گل پلازہ کو خطرناک اور ناقابلِ استعمال قرار دیا جا چکا ہے۔‘ یہ فیصلہ سرچ آپریشن کی کامیابی کے بعد لواحقین کی حفاظت اور مزید حادثات سے بچاؤ کے لیے کیا گیا۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ اب تک 21 انسانی باقیات سول ہسپتال لائی جا چکی ہیں۔ فی الحال اس بات کی تصدیق ممکن نہیں کہ یہ 21 مکمل لاشیں ہیں یا مختلف افراد کی باقیات، کیونکہ آج صبح سے ہسپتال میں صرف باقیات ہی موصول ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ سرچ اور ریسکیو کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، اور متاثرہ افراد کی شناخت ایک حساس مرحلے میں ہے۔

گل پلازہ لاشوں کی شناخت: ڈی این اے اور اینٹی مارٹم کے ذریعے تصدیق

عامر حسن، پراجیکٹ ہیڈ سی پی ایل سی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’گل پلازہ میں لاشوں کی شناخت ایک منظم اور سائنسی طریقے سے کی جا رہی ہے۔ ہر لاش سے سیمپل لیا جاتا ہے اور دعویٰ کرنے والے لواحقین سے بھی سیمپل جمع کیے جاتے ہیں تاکہ دونوں کا موازنہ کرکے شناخت کی تصدیق کی جا سکے۔ اس عمل میں پوسٹ مارٹم ڈیٹا شامل ہوتا ہے جو لاش کے معائنے اور سیمپلز پر مشتمل ہوتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب جاری تحقیقات میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے گل پلازہ سے متعلق تمام ریکارڈ کمشنر کراچی کو جمع کرا دیا ہے۔ ایس بی سی اے کی جانب سے مجموعی طور پر سات فائلیں پیش کی گئی ہیں، جن میں 1992، 2015 اور 2021 میں دائر کیے گئے عدالتی کیسز شامل ہیں۔ ریکارڈ میں خلاف ضابطہ تعمیرات، ری وائزڈ بلڈنگ پلان، ریگولرائزیشن پلان اور عمارت کی منظوری سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ جبکہ گل پلازہ کی اصل فائلیں ایڈیشنل کمشنر کے دفتر میں جمع کرائی گئی ہیں، جو پلاٹ نمبر 32، پریڈی کوارٹرز، ضلع ساؤتھ سے متعلق ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام ریکارڈ سانحے کی وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین میں مدد دے گا۔

گل پلازہ کے بعد رمپا پلازہ بھی غیر محفوظ قرار

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد اس سے ملحقہ رمپا پلازہ کو بھی غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔ ایس بی سی اے کے مطابق گل پلازہ کے ملبے سے رمپا پلازہ کے ستون متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث پلازہ کے خطرناک حصوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اور رمپا پلازہ کی انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی غیر اجازت شدہ سرگرمی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان