پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ایک شاپنگ پلازہ میں ہفتے کو لگنے والی آگ سے منہدم عمارت سے لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے اور امدادی فلاحی تنظیم ایدھی کے مطابق پیر تک اموات کی تعداد 17 ہو گئی جبکہ درجنوں تاحال لاپتہ ہیں۔
ہفتے کی رات شروع ہونے والی اس آگ پر پیر کی دوپہر تک قابو تو پا لیا گیا، لیکن اس دوران عمارت کا زیادہ تر حصہ منہدم ہو چکا ہے اور باقی ماندہ ڈھانچے کے گرنے کے خدشے کے باعث کرینیں عمارت کے اطراف موجود ہیں۔۔
گل پلازہ شہر کے تاریخی ایم اے جناح روڈ پر صدر کے علاقے میں موجود ہے۔
سڑک کے اُس پار شہر کی سب سے بڑی موبائل اور الیکٹرانک مارکیٹ ہے، جس کی وجہ سے یہ انتہائی مصروف کاروباری علاقہ ہے۔
گل پلازہ گھریلو سامان، کپڑوں، کاسمیٹک، برتنوں اور کھلونوں وغیرہ کا بڑا مرکز تھا اور مناسب قیمتوں کی وجہ سے ہر طبقے کے لوگ یہاں شاپنگ کے لیے آتے تھے۔
اس کثیر المنزلہ عمارت کا رقبہ فٹ بال کے میدان سے بھی زیادہ ہے اور یہاں ہزاروں دکانیں، گودام اور سٹور رومز تھے۔
کپڑے، پلاسٹک، گتے کے ڈبے اور دیگر سامان، تنگ راستے اور غیر معیاری بجلی کا نظام، یہ سب مل کر ایسا ماحول بناتے تھے جس نے اس سانحے کو ناگزیر بنا دیا۔
پلازہ میں آمد و رفت کے لیے راستے ہیں لیکن آپ جس راستے سے بھی داخل ہوں سامان سے بھری راہ داریاں اور بجلی کی تاروں کے گچھے آپ کا استقبال کریں گے۔
اگر آپ کو اس پلازہ کی بالائی منزلوں پر بنی دکانوں پر جانا ہو تو تنگ گول چکر کھاتی سیڑھیاں ایک بار آپ کے حوصلے کو ضرور آزماتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے مطابق یہ عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی، جس کے بعد 1998 میں اس میں اضافی منزل تعمیر کی گئی۔
جیو نیوز نے ایس بی سی اے کے حوالے سے مزید بتایا کہ نقشے کے مطابق گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت تھی، لیکن عمارت کے پارکنگ ایریا میں دکانیں بنا دی گئیں اور چھت کو پارکنگ میں بدل دیا گیا۔
اتھارٹی کے مطابق 2003 کو گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کر دیا گیا اور پلازہ کے مالک نے 14 اپریل، 2003 کو کمپلیشن حاصل کیا۔
اسی طرح نقشے کے مطابق کُل 1021 دکانیں بنانے کی اجازت تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں 179 اضافی دکانیں بنا دی گئیں۔
ایس بی سی اے نے یہ نشان دہی بھی کی کہ پلازہ کی راہ داریوں اور باہر نکلنے کی جگیوں پر یہ اضافی دکانیں بنائی گئیں۔