بلدیہ فیکٹری: 264 افراد کے قتل میں 264 مرتبہ سزائے موت

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بلدیہ فیکٹری کیس میں رحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو موت کی سزا سنائی ہے جبکہ ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی کو عدم ثبوتوں کی بنا پر بری کردیا گیا۔

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے آٹھ سال پہلے پیش آنے والے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے دو مرکزی ملزمان رحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو سزائے موت سنا دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما رؤف صدیقی سمیت چار افراد کو عدم ثبوتوں کی بنیاد پر بری کر دیا۔ بری ہونے والے دیگر تین افراد میں ادیب خانم، علی حسن قادری اور عبدالستار شامل ہیں۔

دوسری جانب عدالت نے واقعے میں سہولت کاری کے جرم میں چار ملزمان فضل احمد، علی محمد، ارشد محمود اور فیکٹری منیجر شاہ رخ کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

 عدالت کے تحریری حکم نامے کے تحت ملزمان رحمٰن بھولا اور زبیر چریا کو انسداد دہشت گردی کے قانون کی شق 384، 385، 386، 435، 436، 302، 324 اور 34 پی پی سی کی سیکشن سات (ایچ)، سات (اے)، سات (بی) اور سات (سی) کے مطابق ان جرائم میں یہ سزائیں سنائی گئی ہیں:

۔ 264 افراد کے قتل میں 264 مرتبہ سزائے موت اور دو، دو لاکھ روپے جرمانہ

۔ فیکٹری کے اندر ملازمین کی جان خطرے میں ڈالنے اور ان کے قتل میں عمر قید کی سزا اور دو، دو لاکھ روپے جرمانہ

۔ 60 افراد پر قتلِ امد کی کوشش کرنے کے جرم میں 10،10 سال قید اور ایک،ایک لاکھ روپے جرمانہ

۔ 60 افراد کو زخمی کرنے کے جرم میں عمر قید اور دو،دو لاکھ روپے جرمانہ

۔ واردات کے وقت فیکٹری کے قریب موجود عوام اور اندر موجود فیکٹری مالکان اور ملازمین کی جان خطرے میں ڈالنے کے جرم میں عمر قید اور ایک،ایک لاکھ روپے جرمانہ

۔ نجی فیکٹری کو نقصان پہنچانے کے جرم میں عمر قید اور دو،دو لاکھ روپے جرمانہ

۔ بھتہ خوری کرنے کے جرم میں تین،تین سال قید اور ایک،ایک لاکھ روپے جرمانہ

۔ بھتے کے لیے فیکٹری مالکان کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے اور قتل کی دھمکی دینے کے جرم میں 13،13 سال قید اور ڈیڑھ، ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ

تحریری فیصلے میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کے دیگر ملزمان شارخ لطیف، علی محمد، ارشد محمود اور فضل احمد کو انسداد دہشت گردی قانون کی شق 21 آئی اور پی پی سی کی سیکشن 109 کے تحت مرکزی ملزمان رحمٰن بھولا اور زبیر چریا کی سہولت کاری کرنے، 246 افراد کے قتل اور 60 افراد کو زخمی کرنے کے جرم میں ہر ملزم کو دو، دو بار عمرقید اور تین، تین لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی گئی ہے۔

تحریری فیصلے میں مفرور ملزم حماد صدیقی اور علی حسن قادری کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری: کب کیا ہوا؟

11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن میں ٹیکسٹائل فیکٹری کے حادثے میں 260 سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ واقعے کا مقدمہ پہلے سائٹ بی تھانے میں فیکٹری مالکان، سائٹ لمیٹڈ اور سرکاری اداروں کے خلاف درج کیا گیا، جس کے بعد کئی تحقیقاتی کمیٹیاں بنائی گئیں اور جوڈیشل کمیشن بھی قائم کیا گیا لیکن تحقیقات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں۔ گذشتہ سماعت پر عدالت نے ملزم علی حسن اور ڈاکٹر عبد الستار کی درخواست پر فیصلہ آج (22 ستمبر) کے لیے محفوظ کر لیا تھا۔

فروری2017 میں ایم کیو ایم رہنما روف صدیقی، رحمٰن بھولا، زبیر چریا اور دیگر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ کیس میں ملزمان کے خلاف 400 عینی شاہدین اور دیگر نے اپنے بیان ریکارڈ کروائے ہیں۔ ایم کیوایم کارکن زبیر چریا اور دیگر ملزمان گرفتار ہیں جبکہ روف صدیقی ضمانت پر ہیں۔ فیکٹری مالکان نے آتشزدگی کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیا تھا۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی پیروی رینجرز پراسیکیوشن نے کی تھی۔ اس دوران تین تفتیشی افسران تبدیل ہوئے، چار سیشن ججز نے سماعت سے معذرت کر لی جبکہ چھ سرکاری وکلا نے دھمکیوں کے باعث مقدمہ چھوڑ دیا تھا۔

2014 میں فیکٹری مالکان ارشد بھائیلہ، شاہد بھائیلہ اورعبدالعزیز عدالتی اجازت کے بعد دبئی چلے گئے۔ 6 فروری 2015 کو رینجرز نے عدالت میں  رپورٹ جمع کرائی کہ کلفٹن سے ناجائز اسلحہ کیس میں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی۔

آگ لگانے کی اہم مبینہ وجہ فیکٹری مالکان سے مانگا گیا 20 کروڑ روپے کا بھتہ تھا۔ ملزم کی جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق حماد صدیقی نے بھتہ نہ دینے پر رحمٰن عرف بھولا کو مبینہ طور پر آگ لگانے کا حکم دیا۔ 2015 میں ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنائی گئی جس نے دبئی میں جا کر فیکٹری مالکان سے تفتیش کی جنہوں نے اقرار کیا کہ ان سے بھتہ مانگا گیا تھا۔

2016 دسمبر میں رحمٰن بھولا کو بینکاک سے گرفتار کیا گیا۔ کیس کا مقدمہ پہلے سٹی کورٹ میں چلا اور پھر سپریم کورٹ کی ہدایات پر کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی۔جنوری 2019 میں کیس کے مرکزی ملزم رحمٰن بھولا اور زبیر چریا فیکٹری میں آگ لگانے کے بیان سے مکرگئے تھے۔ دو ستمبر2020 کو گواہان کے بیانات اور وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مقدمہ کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

رحمٰن بھولا کون ہے؟ 

بلدیہ فیکٹری واقعے کی تفصیلات سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ 25 صفحات پر مبنی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں موجود ہیں۔ اس تحقیقاتی ٹیم میں پولیس، آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس، رینجرز اور ایف آئی اے کے اہلکار شامل تھے۔ 

رپورٹ کے مطابق رحمٰن بھولا متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما حماد صدیقی کا فرنٹ مین تھا۔ ملزم رضوان قریشی نے بتایا کہ حماد صدیقی نے اگست 2012 میں رحمٰن بھولا کے ذریعے علی انٹرپرائزز سے 20 کروڑ روپے تاوان مانگا تھا۔ بعد میں رحمٰن بھولا کو حماد صدیقی نے ہی بلدیہ ٹاؤن کا سیکٹر انچارج بھی مقرر کیا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ کے مطابق رضوان قریشی نے بتایا کہ 20 کروڑ روپے تاوان کی ادائیگی نہ کرنے پر رحمٰن بھولا اور اس کے ساتھیوں نے فیکٹری پر کیمیکل پھینک کر آگ لگا دی تھی۔ 

رپورٹ کی حتمی سفارشات میں کہا گیا تھا کہ رحمٰن بھولا اور حماد صدیقی نے فیکٹری میں آگ لگانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ فیکٹری کے پروڈکشن مینیجر محمد منصور کے مطابق 20 جولائی 2012 کو رحمٰن بھولا انہیں فیکٹری میں ملنے آیا جہاں فیکٹری مالکان سے بھی ملاقات ہوئی۔ اگلے دن انہیں بتایا گیا کہ رحمٰن بھولا نے ایم کیو ایم کراچی تنظیمی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی کے نام پر 25 کروڑ تاوان یا فیکٹری میں شراکت داری کا مطالبہ کیا تھا۔

منصور کے مطابق فیکٹری مالکان نے انہیں ایک کروڑ روپے ایم کیو ایم کے ساتھ معاملات نمٹانے کے لیے دیے مگر رحمٰن بھولا 20 کروڑ سے نیچے آنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بھولا نے دھمکی  دی تھی کہ اگر تاوان نہ دیا گیا تو فیکٹری کو سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ 

زبیر چریا کون ہے؟ 

زبیر چریا فیکٹری کے فنشنگ ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا تھا اور جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق آگ لگانے والوں میں شامل تھا۔ پروڈکشن مینیجر منصور کے مطابق زبیر فیکٹری کا ملازم ہونے کے ساتھ ساتھ متحدہ قومی موومنٹ کا ورکر بھی تھا اور اس کی وجہ سے فیکٹری میں اس کا کافی اثرورسوخ تھا۔ 

فیکٹری میں کام کرنے والے ورکر محمد ارشد نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ جس دن فیکٹری میں آگ لگی، زبیر پانچ دیگر افراد کے ساتھ فیکٹری کے گودام کے مرکزی دروازے پر موجود تھا اورہشیش سے بھرے سگریٹ بنا رہا تھا۔ اسی جگہ پر زبیر نے کالے رنگ کے چھوٹے شاپنگ بیگ اپنے ساتھیوں کو دیے اور سب نے الگ لگ جگہ پر یہ شاپنگ بیگ پھینک دیے اور پانچ سے 10 سیکنڈ میں فیکٹری کو آگ لگ گئی۔ 

رپورٹ میں شامل محمد ارشد کے بیان کے مطابق جب فیکٹری مالکان نے آگ کو بجھانے کے لیے شور کیا تو وہ کینٹین کی طرف گیا مگر کینٹین کا دروازہ لاک تھا۔ جب کینٹین کے دروازے کی چابی ملی اور دروازے کو کھولا گیا تو زبیر اپنے نامعلوم ساتھیوں کے ساتھ کینٹین میں موجود تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان